کراچی میں ہیوی ٹریفک کے باعث ہونے والے مہلک حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شہر کے مصروف علاقے یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ افسوسناک واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ سعد کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، تاہم شہری جانبر نہ ہو سکا۔ لاش کو قانونی کارروائی اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے حادثے میں ملوث واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی، جس سے گاڑی کا بڑا حصہ جل کر تباہ ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابو پا کر صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ڈرائیور کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
کراچی میں ہیوی ٹریفک، بالخصوص واٹر ٹینکروں کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات پر شہریوں میں مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔ متعدد جان لیوا حادثات کے بعد شہری تنظیمیں اور سماجی حلقے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ڈرائیوروں کی مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
حکومت سندھ نے حالیہ عرصے میں واٹر ٹینکروں کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے تاکہ گاڑیوں کی نقل و حرکت، رجسٹریشن اور آپریشنل نظام کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔ تاہم تازہ حادثے نے ایک بار پھر شہر میں ہیوی ٹریفک کی حفاظت اور نگرانی سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کراچی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے شہری جاں بحق
