پاکستان نے بین الاقوامی سائنسی میدان میں ایک اور اہم کامیابی اپنے نام کرتے ہوئے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے حاصل کر لیے۔ 4 سے 12 جولائی 2026 تک کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں منعقد ہونے والے اس عالمی مقابلے میں پاکستانی طلبہ نے اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر میں ملک کا پرچم بلند کیا۔
اس سال کے مقابلوں میں 90 سے زائد ممالک کے 400 سے زیادہ باصلاحیت طلبہ نے شرکت کی، جہاں نظریاتی اور عملی طبیعیات کے انتہائی مشکل امتحانات کے ذریعے نوجوان سائنس دانوں کی صلاحیتوں کو جانچا گیا۔ سخت مقابلے کے باوجود پاکستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین کانسی کے تمغے اپنے نام کیے۔
پاکستان کے لیے کانسی کے تمغے گورنمنٹ سٹی بوائز اسکول ڈیرہ غازی خان کے ذوالفقار علی، ایف جی سر سید کالج راولپنڈی کے علی حمدان علوی اور دی سائنس اسکول روات اسلام آباد کے دانیال شہزاد حامد نے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ ایچی سن کالج لاہور کے حزہ محمود اور صدیق پبلک اسکول راولپنڈی کے عبداللہ اعجاز کو نمایاں کارکردگی پر اعزازی اسناد سے نوازا گیا۔
یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور منظم تربیتی عمل کا ثمر ہے۔ ان طلبہ کا انتخاب 22ویں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کنٹیسٹ کے ذریعے کیا گیا، جو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) کے مشترکہ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے تحت منعقد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر سے منتخب ہونے والے طلبہ کو پیاس میں خصوصی تربیتی کیمپسز میں عالمی معیار کی نظریاتی اور تجرباتی تعلیم فراہم کی گئی، جس کے بعد وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے۔
پاکستانی وفد کی قیادت پیاس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفان اور ڈاکٹر محمد وسیم نے کی، جنہوں نے طلبہ کی سائنسی تیاری اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں نیشنل سائنس ٹیلنٹ کنٹیسٹ ہر سال فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی اور ریاضی کے شعبوں میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد نویں، دسویں، او لیول، ایف ایس سی اور اے لیول کے ذہین طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں عالمی سائنسی مقابلوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ ملک کے 19 شہروں میں ہونے والے اس انتخابی عمل کے بعد نمایاں طلبہ کو مختلف تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی اولمپیاڈز میں بہترین کارکردگی دکھا سکیں۔
پاکستان 2001 سے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں باقاعدگی سے حصہ لے رہا ہے، جبکہ بعد ازاں ریاضی، کیمسٹری اور بائیولوجی کے عالمی اولمپیاڈز میں بھی شرکت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اسٹیم کیریئرز پروگرام کے آغاز سے اب تک 365 سے زائد پاکستانی طلبہ عالمی سائنس اولمپیاڈز میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں اور مجموعی طور پر 144 بین الاقوامی تمغے حاصل کر چکے ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پاکستانی طلبہ کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید سہولیات اور مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے طلبہ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سائنسی تحقیق، جدید تعلیم اور باصلاحیت طلبہ کی سرپرستی میں مزید سرمایہ کاری کی جائے تاکہ مستقبل میں پاکستان عالمی سائنسی میدان میں مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکے۔
پاکستانی طلبہ نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں تین کانسی کے تمغے جیت لئے۔
