امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو ویٹیکن میں پوپ لیو چہارم سے ملاقات کی، ملاقات میں ایران جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، امن اور دیگر عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
’این بی سی نیوز‘ کے مطابق اس ملاقات کو واشنگٹن اور ویٹی کن کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، بند کمرے میں ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی اور اس دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، ایران جنگ، مغربی نصف کرہ کے معاملات اور مذہبی آزادی سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ ملاقات نے امریکا اور ویٹی کن کے درمیان مضبوط تعلقات اور امن و انسانی وقار کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر لفظی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ ملاقات نے امریکا اور ویٹی کن کے درمیان مضبوط تعلقات اور امن و انسانی وقار کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان ایران جنگ کے معاملے پر لفظی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران پوپ لیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں خارجہ پالیسی کے لیے نقصان دہ اور جرائم کے معاملے میں کمزور قرار دیا تھا کہا تھا کہ وہ ایسا پوپ نہیں چاہتے جو ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کا حامی ہو اس کے جواب میں پوپ لیو نے واضح کیا کہ کیتھولک چرچ ہمیشہ سے تمام جوہری ہتھیاروں کے خلاف آواز اٹھاتا آیا ہے اور ان کا مؤقف صرف امن اور انجیل کی تعلیمات پر مبنی ہے پوپ نے کہا کہ وہ ٹرمپ انتظا میہ سے خوفزدہ نہیں اور امن کے لیے اپنی اپیلیں جاری رکھیں گے۔
ویٹی کن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کارڈینل پیٹرو پیرولین نے بھی ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوپ پر اس انداز میں حملے کرنا غیر معمولی بات ہے ٹرمپ نے اس ہفتے بھی اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پوپ ایران کے جوہری پروگرام کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
پوپ لیو نے حالیہ مہینوں میں ایران جنگ، عالمی عسکریت اور طاقت کے استعمال پر کھل کر تنقید کی ہے انہوں نے دنیا کو چند آمرانہ ذہن رکھنے والے رہنماؤں کے باعث تباہی کے دہانے پر قرار دیا تھا واضح رہے کہ پوپ لیو چہارم امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں اور وہ گزشتہ ایک برس سے ویٹی کن کی قیادت کر رہے ہیں ان کے دور میں امریکا اور ویٹی کن کے تعلقات ایران جنگ، امیگریشن پالیسی اور عالمی تنازعات پر اختلافات کے با عث کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔
