لبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات امریکا اور لبنان کے صدور کے درمیان ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے،لبنان کو درپیش مسائل میں اس وقت حزب اللہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔
ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سابق صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا،امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے،جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی،ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفا عی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔
لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے،امید ہے کہ دونوں ممالک مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔
