Baaghi TV

ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری،ٹرمپ کا اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبو ں پر بریفنگ لی، اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہےاگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔

یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں-

More posts