Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سونے کی قیمت میں مسلسل 5 روز کمی کے بعد آج بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں مسلسل 5 روز کمی کے بعد آج بڑا اضافہ

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل 5 روز کمی کے بعد آج بڑا اضافہ ہوا ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت 112 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 427 ڈالر کی سطح پر آگئی آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 11 ہزار 200 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 65 ہزار 236 روپے کا ہوگیا ، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 9 ہزار 602 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 3 لاکھ 98 ہزار 864 روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی 185 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد چاندی کی فی تولہ قیمت 7 ہزار 440 روپے ہو گئی۔

  • آن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، خواتین سمیت28 مبینہ ملزمان گرفتار

    آن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، خواتین سمیت28 مبینہ ملزمان گرفتار

    این سی سی آئی اے نے آن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 28 مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا، جن میں 24 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں،کارروائی کے دوران متعدد کمپیوٹرز اور موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان پر ٹیلیگرام اور جعلی فیس بک پروفائلز کے ذریعے شہریوں کو دھوکا دینے کا الزام ہے مبینہ فراڈ نیٹ ورک شہریوں کو جعلی ای کامرس اور سرمایہ کاری اسکیمو ں کی جانب راغب کرتا تھا،فراڈ کے نتیجے میں متاثرین کو مالی نقصان پہنچنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق کال سینٹر مبینہ طور پر چینی شہری ماسٹر مائنڈ چلا رہا تھا، جو کارروائی سے قبل ہی فرار ہوگیا، ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں گرفتار افراد میں مبینہ طور پر پاکستانی ملازمین شامل ہیں، این سی سی آئی اے کے مطابق نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    این سی سی آئی اے کے مطابق راولپنڈی میں مقدمہ نمبر 1916/2026 کے تحت کارروائی کی گئی مقدمے میں PECA اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل ہیں ، آن لائن فراڈ نیٹ ورک کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • امریکی حکومت نااہل ترین لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جارج کلونی کی ٹرمپ پر تنقید

    امریکی حکومت نااہل ترین لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جارج کلونی کی ٹرمپ پر تنقید

    آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جارج کلونی نے وینس فلم فیسٹیول کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو حکومت چلانے کیلئے سب سے کم اہل ہیں۔

    آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کو وینس فلم فیسٹیول میں فلمی دنیا میں طویل خدمات کے اعتراف میں گولڈن لائن فار لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا،اس دوران امریکا کی موجودہ صورتحال سے متعلق سوال پر جارج کلونی نے کہا کہ ملک اس وقت ایک افسوسناک دور سے گزر رہا ہے۔

    امریکی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کلونی نے کہا کہ انہیں موجودہ صورتحال پر ’شرمندگی‘ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے سیاسی اصطلاح ’کاکسٹو کریسی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جو ’کم ترین اہلیت رکھنے والے لوگوں‘ کے ہاتھ میں ہو، اور شاید اس وقت امریکا بھی اسی کیفیت سے گزر رہا ہے، تاہم ’ہم اس دور سے نکل جائیں گے‘۔

    معروف ہالی وڈ اداکار جارج کلونی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا اپنی تاریخ کے ایک ’بدقسمت وقت‘ سے گزر رہا ہے، جہاں حکومت ان کے بقول ’کم ترین اہلیت رکھنے والے لوگوں‘ کے ہاتھ میں ہے 65 سالہ اداکار نے تاہم امید ظاہر کی کہ امریکا اس مشکل دور سے نکل آئے گا۔

    کلونی نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو حکومت کے لیے ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا ذریعہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ 2028 تک ملک میں کسی حد تک معمول کی صورتحال بحال ہو سکتی ہے۔ خود کو پُرامید شخص قرار دیتے ہوئے انہوں نے 1968 کے پُرتشدد دور کو یاد کیا، جب امریکا کے کئی شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور بوبی کینیڈی ایک ہی سال قتل ہوئے اور امریکی کیپیٹل کے گرد ٹینک تعینات کیے گئے تھے۔

  • ہر 5 میں سے ایک بچے کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، یونیسیف

    ہر 5 میں سے ایک بچے کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، یونیسیف

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے مطابق 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ بچوں کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 60 فیصد واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے۔

    یونیسیف کے مطابق 21 ممالک میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ بچوں، یعنی ہر 5 میں سے تقریباً ایک بچے، کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک شکل کا سامنا کرنا پڑا، یونیسیف کی نئی رپورٹ ’بچوں کی نظر سے: ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کس طرح بچوں کے جنسی استحصال کو ممکن بناتی ہیں‘ میں سروے کے اعداد و شمار کے ساتھ ایسے بچوں کی گواہیاں بھی شامل کی گئی ہیں جو خود اس بدسلوکی کا شکار ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف جنسی نوعیت کے مواد کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 90 لاکھ بچوں سے جنسی گفتگو کرنے یا جنسی تصاویر شیئر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تقریباً 40 لاکھ بچوں کی جنسی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کی گئیں تقریباً 60 فیصد واقعات فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ جیسےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جبکہ 14 فیصد واقعات آن لائن گیمز کے دوران ہوئے۔

    یونیسیف کے مطابق 57 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم وہ شخص تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا، جن میں ہم جماعت، دوست، رومانوی ساتھی اور خاندان کے افراد شامل تھے تاہم 38 فیصد بچوں کا پہلی مرتبہ مبینہ ملزم سے آن لائن سامنا ہوا، جہاں جعلی اکاؤنٹس اور نجی پیغامات جیسے ذرائع استعمال کیے گئے۔

    ایسے تجربات نےبچوں کی ذہنی و جذباتی کیفیت، تحفظ کے احساس اور دوسروں پر اعتماد کو شدید متاثر کیارپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصا ل کا شکار بچوں میں خودکشی کے خیالات یا ایسے رویوں اور خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی اطلاع دینے کا امکان دیگر بچوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ تھا، جبکہ ان میں اضطراب کی سطح بھی نمایاں طور پر بلند پائی گئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ 40 فیصد سے زیادہ واقعات کبھی کسی کے سامنے نہیں لائے گئے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم واقعات پولیس، سماجی کارکنوں یا ہیلپ لائنز سمیت متعلقہ حکام کو رپورٹ کیے گئے بچوں کی خاموشی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ مدد کے لیے کہاں جانا ہے یا کس سے بات کرنی ہے۔

    یونیسیف نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جن میں پرائیویسی کا مضبوط تحفظ، بالغ افراد کی جانب سے غیر مطلوبہ رابطوں کی روک تھام، محفوظ تجویز کردہ مواد کے نظام، بدسلوکی کی بہتر نشاندہی اور مؤثر رپورٹنگ و معاونت کا نظام شامل ہے۔

  • پولیس چوکی پر اہلکار کی فائرنگ سے افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی

    پولیس چوکی پر اہلکار کی فائرنگ سے افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی

    بھارتی ریاست آسام میں ایک پولیس اہلکار نے ساتھی اہلکاروں پر اے کے 47 سے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں ایک پولیس اہلکار کی ساتھیوں پر فائرنگ سے پولیس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے واقعہ ریاست کے ضلع کامرو پ کے علاقے بوکو میں گیمرِمورا پولیس چوکی پر پیش آیا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی ریاست آسام میں واقع ہے۔

    فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت فضل الر علی اور گیمرِمورا پولیس چوکی کے انچارج انسپکٹر اندرجیت بورا کے نام سے ہوئی ہے پولیس اہلکار چرنجیب چودھری نے مبینہ طور پر اے کے 47 رائفل سے چوکی میں موجود ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔

    حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی اصل وجوہات اور ملزم اہلکار کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے واقعہ بوکو پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا زخمی اہلکاروں کی حالت اور فائرنگ کرنے والے اہلکار کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    یہ واقعہ بھارتی سیکیورٹی فورسز میں ساتھی اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے حالیہ واقعات کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے ایسے واقعات نے بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس میں اہلکاروں کے ذہنی دباؤ، نظم و ضبط، کمانڈ کے نظام، کام کے حالات اور نفسیاتی معاونت سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

  • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس، پاکستان کی بھرپور سفارتی تیاریوں کی ہدایت

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سمیت آئندہ کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کے لیے جامع اور بھرپور تیاریوں کی ہدایت کردی۔

    نائب وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئندہ کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کی تیاریوں سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سمیت اہم عالمی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اور حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔

    سیکریٹری خارجہ نے اجلاس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی تیاریوں اور آئندہ سفارتی سرگرمیوں کے اہم پہلوؤں پر بریفنگ دی، جبکہ اسحاق ڈار نے پاکستان کی ترجیحات کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری رہنمائی فراہم کی،اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں کو جامع تیاری اور مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان کی ترجیحات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس 8 ستمبر 2026 سے نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔ جبکہ ہفتہ وار اعلیٰ سطحی عام بحث کا آغاز 22 ستمبر سے 28 ستمبر تک جاری رہے گا ‏81 ویں اجلاس کی صدرات جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن کریں گے جنکا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔

    جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے مقررین ممالک کی پہلی عارضی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔ جسکے مطابق پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف بروز جمعہ، 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ رواں سال عبوری فہرست میں پاکستان کا خطاب دوسرے سیشن (سہ پہر 3 تا رات 9بجے) رکھا گیا ہے۔

    جنرل اسمبلی کی برسوں سے جاری روایت کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے افتتاحی خطاب کے بعد اجلاس کے پہلے مقرر برازیل کے صدر ہوں گے جبکہ دوسری تقریر میزبان ملک امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہو گی۔

    جاری ہونے والی عارضی فہرست میں بھارت کی جانب سے 25 ستمبر کو خطاب کے لیے فی الحال اسکے (ہیڈ آف گورنمنٹ) وزیراعظم کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم حسب معمول زیادہ توقع اس بات کی ہے کہ مقررین کی فائنل لسٹ میں بھارت کے وزیرخارجہ کا نام آ جائے گا۔

    رواں سال جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے زیادہ تر مقررین موسمیاتی تبدیلی، عالمی صحت، امن و سلامتی جیسے عالمی مسائل پر تقاریر کے دوران انکے حل کے لیے اپنی تجاویز دیں گے،193 عالمی رہنما (یو این جی اے۔ 81) اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کا چناؤ بھی کریں گے۔ نئے سیکرٹری جنرل کی دوڑ میں اس وقت 5خواتین امیدواروں سمیت8 امیدوار میدان میں ہیں۔

  • ایل نینو آئندہ چند ماہ میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، عالمی موسمیاتی تنظیم

    ایل نینو آئندہ چند ماہ میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، عالمی موسمیاتی تنظیم

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایل نینو آئندہ چند ماہ میں مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو پوری طرح فعال ہوچکا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تنظیم کے تازہ ترین جائزے کے مطابق ایل نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے، جس کے موسمی اثرات 2027 تک جاری رہ سکتے ہیں۔

    WMO کے مطابق استوائی بحرالکاہل میں سمندری درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث ایل نینو 2026 کے اختتام تک انتہائی مضبوط سطح تک پہنچ سکتا ہے،مرکزی و مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت کی پیمائش کرنے والے ’نینو 3.4‘ انڈیکس کے مطابق مئی سے جولائی 2026 کے دوران درجہ حرارت معمول سے اوسطاً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جبکہ جولائی میں یہ فرق 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ جولائی کے آخر سے اگست کے وسط تک ہفتہ وار درجہ حرارت معمول سے 2.2 سے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے کہا ہے کہ خشک سالی اور سیلاب پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقصان اور خلل کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ ایل نینو کی شدت بڑھنے کے ساتھ ان کے اثرات میں مزید اضافہ متوقع ہے اس غیر معمولی ایل نینو کے لیے غیر معمولی تیاری اور مؤثر ردعمل کی ضرورت ہے، جس کے لیے WMO قومی موسمیاتی اور ہائیڈرولوجیکل اداروں کے ساتھ مل کر ابتدائی انتباہ اور ہنگامی تیاری کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔

    WMO کے مطابق ستمبر سے نومبر 2026 کے دوران دنیا کے تقریباً تمام زمینی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا امکان ہے، جبکہ بارشوں کے انداز بھی طاقتور ایل نینو سے متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم کسی خطے میں ایل نینو کے اثرات کی شدت صرف اس کی اپنی طاقت سے طے نہیں ہوتی بلکہ بھارتی اور بحر اوقیانوس کے سمندروں کی صورتحال سمیت دیگر موسمی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تنظیم نے واضح کیا کہ ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے اور یہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا نہیں ہوتا۔

  • پنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن، خصوصی خفیہ سیل قائم

    پنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن، خصوصی خفیہ سیل قائم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    کرپشن کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے خصوصی خفیہ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ سیل کی رپورٹس براہِ راست وزیراعلیٰ کو پیش کی جا رہی ہیں اور مبینہ طور پر ملوث عناصر کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کرپشن کے خلاف کارروائیوں کی ذاتی نگرانی کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کے لیے نہ کوئی گنجائش، نہ پناہ اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں کرپشن ہو، رشوت طلب کی جائے یا اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جائے، عوام فوری اطلاع دیں عوام کی شکایات کے اندراج اور کرپشن کی نشاندہی کے لیے وزیراعلیٰ کی جانب سے ہیلپ لائن 1350 بھی قائم کی گئی ہے،وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ہر شکایت پر کارروائی ہوگی جبکہ شکایت کنندہ کا نام مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کی ایک اطلاع کرپشن اور رشوت خوری کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرسکتی ہے لوٹی ہوئی رقم کی مکمل ریکوری تک کارر وائی ختم نہیں ہوگی’کرپشن صرف پیسے کی چوری نہیں بلکہ یہ عوام کے حق اور اعتماد کی چوری ہےعوام کا پیسہ خورد برد کرنے والے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کرپشن کے مقدمات میں عہدہ، تعلق یا سفارش کسی کو نہیں بچا سکے گی۔

  • آپؐ کی تعلیمات انسانیت کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ ہیں،عطا تارڑ

    آپؐ کی تعلیمات انسانیت کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ ہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا محمد تارڑ نے کہا ہے کہ نبی کریم حضرت محمدؐ کی سیرتِ طیبہ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ ہے-

    اسلام آباد میں سیرت النبیؐ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا محمد تارڑ نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبیؐ کی شان اور مقام کو بیان فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ وجۂ تخلیقِ کائنات، رحمت اللعالمین اور خاتم النبیین ہیں، اور آپؐ کو تمام انسانوں اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا،قرآن مجید بھی نبی کریمؐ کو عطا کیے گئے عظیم معجزات میں سے ایک ہےاور آپؐ کی تعلیمات انسانیت کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ ہیں آج ہمیں آپؐ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ نبی کریمؐ کی شخصیت اور تعلیمات سے غیر مسلم بھی متاثر ہوئے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم نے آپؐ کی شان میں تحریریں اور اشعار لکھے،انہوں نے برصغیر کے ایک سکھ شاعر کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عشقِ رسولؐ کسی ایک مذہب یا گروہ تک محدود نہیں آج کے دور میں معاشرے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لینا انتہائی ضروری ہے اور ہمیں نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

  • پیٹرول کو مرحلہ وار مارکیٹ پر مبنی قیمتوں سے منسلک کرنے کا فیصلہ

    پیٹرول کو مرحلہ وار مارکیٹ پر مبنی قیمتوں سے منسلک کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے صارفین کو پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ سے محفوظ کرنے کے لیے ڈی ریگولیشن کا عمل جون 2027 تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت کمیٹی برائے پیٹرولیم پرائسنگ کا اجلاس ہوا، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں قیمتوں میں شفافیت اور پیش گوئی یقینی بنانے اور صارفین کو اچانک اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم سفا ر شات پر اتفاق کیا گیا۔

    کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سفارشات پر مشتمل حتمی رپورٹ جلد وزیراعظم کو غور اور منظوری کے لیے پیش کی جائے گی اجلاس میں ہنگامی حالات میں ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے قواعد پر مبنی مداخلت کے لیے رہنما اصولوں کی منظوری بھی دی گئی اس مقصد کے لیے قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے واضح ٹرگرز مقرر کرنے اور ممکنہ اصلاحی اقدامات کی نشاندہی کی جائے گی۔

    اجلاس میں پیٹرول کی قیمتوں کے موجودہ فارمولے کا بھی جائزہ لیا گیا اور پیٹرول کو مرحلہ وار مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کی جانب منتقل کرنے کے لیے جون 2027 کو ممکنہ ہدف قرار دیا گیا کمیٹی کے مطابق ڈی ریگولیشن کا عمل بتدریج آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مسابقتی مارکیٹ قائم ہونے کے ساتھ صارفین کو قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

    کمیٹی نے موجودہ IFEM (ان لینڈ فریٹ ایکویلائزیشن مارجن) نظام کا بھی جائزہ لیا اور اس کے حساب کتاب کے لیے نظرثانی شدہ طریقہ کار پر اتفاق کیا۔اوگرا (OGRA) نے یقین دہانی کرائی کہ مالی سال 2026 کے IFEM آڈٹ کا عمل رواں کیلنڈر سال کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔

    اجلاس میں اوگرا کو ہدایت کی گئی کہ موجودہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے استحکام، کارکردگی، بہترین عالمی طریقۂ کار اپنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تحریری سفارشات پیش کی جائیں۔

    پیٹرولیم قیمتوں میں استحکام کے لیے قائم ذیلی کمیٹی کی رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کی گئی، جس میں دنیا کے مختلف ممالک میں کامیاب اور ناکام پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈز کے ماڈلز کا تقابلی جائزہ لیا گیا تھا کمیٹی نے ذیلی گروپ کو اپنی تجاویز مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی تاہم، اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ مستقبل میں مارکیٹ کی مکمل ڈیریگولیشن کے پیش نظر قیمتوں کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے فنڈ قائم کرنے کے بجائے ملک میں مناسب مقدار میں پیٹرو لیم ذخائر برقرار رکھنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

    کمیٹی نے قرار دیا کہ سفارشات کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ شفافیت اور پیش گوئی یقینی بنانا، مارکیٹ کی کارکردگی بہتر کرنا اور صارفین کو قیمتوں میں اچانک اضافے سے تحفظ دینا ہے، جبکہ پاکستان کو بتدریج ڈیریگولیٹڈ پیٹرولیم مارکیٹ کی جانب منتقل کرنا بھی پیشِ نظر ہے۔

    اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ میر نعیم غوری کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کرے گی تاکہ بدلتے ہوئے مارکیٹ حالات کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ٹیکس نظام میں ممکنہ نظرثانی کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی زاہد میر، میر نعیم غوری، اوگرا، ایف بی آر، فنانس ڈویژن، کے پی ایم جی (KPMG) اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے شرکت کی۔