Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پیٹرولیم  لیوی اور مہنگائی کیخلاف جماعت اسلامی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری،حکومتی وفد منصورہ میں مذاکرات کے لیے تیار

    پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کیخلاف جماعت اسلامی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری،حکومتی وفد منصورہ میں مذاکرات کے لیے تیار

    جماعت اسلامی کی کال پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی ٹیکس کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں ہڑتال جاری ہے۔

    جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ تاجر برادری کی “مکمل حمایت” سے کراچی سمیت مختلف حصوں میں بازار اور مارکیٹیں “مکمل بند” ہیں،جماعت اسلامی نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر ہڑتال سے متعلق کافی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں کراچی اور دیگر علاقوں میں بند بازاروں، دکانوں، اور پیٹرول پمپوں کے مناظر دکھاتے ہوئے شڑڈاؤن ہڑتال کامیابی سے جاری ہونے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کیخلاف اور مہنگائی کے خاتمے سمیت کئی مطالبات کے حق میں 15 اگست کو چاروں صوبوں میں احتجاجی دھرنے شروع کیے تھے، جس کے 18 روز بعد مطالبات کی عدم منظوری کے باعث ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔

    ہڑتال کی کال گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دی تھی۔ لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اور اسلام آباد سمیت متعدد شہروں کے تاجروں نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ان شہروں میں مارکیٹیں بند ہوں گی-

    کراچی میں ہڑتال کے دوران بعض مقامات پر ناخوشگوار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں کورنگی کراسنگ کے قریب ‘نامعلوم افراد’ نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور ٹائر نذر آتش کیے،پولیس کے مطابق ‘نامعلوم افراد’ نے سڑک پر کھڑی 2 موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔ پولیس کی نفری موقع پر پہنچتے ہی مشتعل افراد فرار ہو گئے، جس کے بعد کورنگی روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ پولیس نے علاقے میں نفری تعینات کر دی ہے۔

    جماعت اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ کورنگی کراسنگ پر جلاؤ گھیراؤ کے واقعے سے جماعت اسلامی کا کوئی تعلق نہیں اور اس طرح کا واقعہ ان کے علم میں نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کورنگی میں ‘نامعلوم افراد’ کی جانب سے حالات خراب کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو واقعے کی فوری تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے،انہوں نے ‘شرپسند عناصر’ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگانے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اس سے قبل سندھ حکومت کے ترجمان اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں “جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور سڑکیں بند کرنے” کے واقعات کی شدید مذمت کی۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے شہریوں کی زندگی اجیرن کرنا اور شہر میں بدامنی پھیلانا انتہائی افسوسناک ہے۔ “جماعت اسلامی کو احتجاج کا پورا حق ہے، تاہم شرپسند عناصر کو عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”

    شرجیل میمن نے کہا کہ آگ لگانے، سڑکیں بند کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور احتجاج کے نام پر کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

    دوسری جانب پیدا شدہ تناؤ کو کم کرنے اور دھرنا ختم کرانے کے لیے حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج منصورہ میں جماعت اسلامی کے قائدین سے اہم مذاکرات کرے گا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومتی کمیٹی دوپہر 3 بجے منصورہ پہنچے گی اور جماعت اسلامی کے مطالبات پر سیر حاصل گفتگو کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ مسائل کا حل نکالنے جا رہی ہے، کیونکہ ملک اس وقت دھرنوں اور جلوسوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اسے امن و معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔

    ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کریں گے جس میں فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، ضیاءالدین انصاری، اور نوید علی بھی شامل ہونگے،جبکہ حکومی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر علی پرویز ملک اور بلال کیانی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  • سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی،وفاقی آئینی عدالت

    سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی،وفاقی آئینی عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں اور دیگر کے خلاف اساتذہ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں فیصلہ جاری کر دیا-

    وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور فوجداری کارروائی بیک وقت جاری نہیں رہ سکتی، کیونکہ دونوں عدالتوں سے متضاد فیصلوں کی صورت میں انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے عدالت نے واضح کیا کہ اگر ملکیتی تنازع یا متنازع دستاویزات کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو سول عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے،

    کیس میں سابق ای ڈی او اور دیگر افسران کے خلاف بوگس دستاویزات کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کرنے کے الزام میں فوجداری کارروائی شروع کی گئی تھی، جبکہ جعلی اور متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا معاملہ سول عدالت میں زیرِ التوا تھا۔

    جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ فیصلے میں آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متنازع دستاویزات یا سرٹیفکیٹس کی اصلیت اور قانونی حیثیت کا تعین سول عدا لت کے اختیار میں ہے ، متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ ہونے سے قبل درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع کی جا سکے گی،اگر سول اور فوجداری مقدمات ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو انصاف کے تقاضوں کے تحت فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش موجود ہےتاہم عدالت نے واضح کیا کہ بدنیتی سے دائر کیے گئے سول مقدمے کو محض فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

    فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات، مقدمے کی نوعیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا،وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایک ہی معاملے میں سول اور فوجداری عدالتوں کیجانب سے مختلف نتائج سامنے آنے سے انصاف کے نظام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے متنازع دستاویزات سے متعلق بنیادی سوال کا فیصلہ پہلے سول عدالت سے کرایا جانا ضروری ہے۔

  • اداکار ارباز خان کی خوشبو سے طلاق کی خبروں کی تردید

    اداکار ارباز خان کی خوشبو سے طلاق کی خبروں کی تردید

    پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ارباز خان نے اپنی اہلیہ اور فلمی اداکارہ خوشبو خان سے طلاق کی خبروں کی تردید کرتے ہوئےکہا ہے کہ ان کے درمیان کوئی طلاق نہیں ہوئی بلکہ وہ صرف ایک دوسرے سے الگ رہ رہے ہیں۔

    ارباز خان نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی اور اپنی نجی زندگی پر کھل کر بات کی انہوں نے بتایا کہ ان کی اور خوشبو خان کی دوستی سال 1996 سے شروع ہوئی تھی جو سات سال تک یعنی 2003 تک رہی اور پھر انہوں نے 2004 میں شادی کر لی تھی، ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور یہ بات سب کو معلوم ہے، ہمارے دو بیٹے ہیں جن کے نام اریان خان اور شایان خان ہیں۔

    ارباز خان کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر ان کی طلاق کے بارے میں سوالات کرتے ہیں، لیکن ہر انسان کی اپنی نجی زندگی ہوتی ہے اور وہ اپنی اس نجی زندگی کو سب کے سامنے لانا پسند نہیں کرتے ہمارے درمیان طلاق ہرگز نہیں ہوئی، ہم بس الگ رہ رہے ہیں،دونوں بیٹے اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں، وہ بچوں سے ملنے کے لیے خود لاہور جاتے ہیں اور بچے بھی ان سے ملنے آتے ہیں ان کا بڑا بیٹا او لیولز کی پڑھائی مکمل کر چکا ہے اور اپنے بچوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔

    واضح رہے کہ ارباز خان نے اپنے کیریئر کا آغاز نامور ہدایت کار سید نور کی مشہور فلم ”گھونگھٹ“ سے کیا تھا اور وہ اب تک متعدد کامیاب پشتو اور پنجابی فلموں میں اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں،ان کا تعلق فنکارانہ گھرانے سے ہے اور وہ ماضی کے لیجنڈری پشتو اداکار آصف خان کے صاحبزادے ہیں۔

  • شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام، فتنۃ الخوارج کے 15 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام، فتنۃ الخوارج کے 15 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے مقابل پاک افغان سرحد سے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں کے ایک گروہ کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 15 خوارج ہلاک کردیے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے ایک گروہ کی پاک افغان سرحد کے ذریعے شمالی وزیرستان کے بالمقابل دراندازی کی کوشش کا سراغ لگایا گیا،سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی 36 گھنٹے تک جاری رہی، جس کے دوران درست اور مہارت سے کی گئی کارروائی کے نتیجے میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے 15 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، ہلاک دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے بعد علاقے میں کیے گئے کلیئرنس آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، برآمد شدہ اسلحہ و گولہ بارود سے خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ان مذموم عزائم کو مزید تقویت ملتی ہے جن کے ذریعے ملک میں امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے،افغان طالبان حکومت مؤثر سرحدی انتظام یقینی بنانے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ملک کی سرحدوں کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے،وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان کی منظوری سے ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔

  • نیب کیسز:آئینی عدالت میں اپیل کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جار ی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب مقدمات میں ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں اپیل کا حق دینے سے متعلق ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جار ی کر دیا۔

    جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی جانب سے دائر اس اہم درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،عدالت نے نیب آرڈ یننس میں سیکشن 32 اے کی شمولیت کے خلاف وفاقی حکومت، سیکرٹری نیشنل اسمبلی، سیکرٹری سینیٹ اور سیکرٹری وزارتِ قانون کو ستمبر کے آخری ہفتے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا ہے، چونکہ کیس میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، اس لیے عدالت نے قانونی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے، جسے محض ایک سادہ قانون سازی یا نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175 ایف کے تحت محض آئینی امور کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر سیکشن 32 اے کے ذریعے اب کرمنل نیب کیسز بھی اس کے سپرد کر دیے گئے ہیں جو کہ آئین کے منافی اور واضح تضاد ہے۔

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سے استفسار کیا کہ قانون کو کن بنیادوں پر چیلنج کیا گیا ہے اور آیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سادہ قانون سازی کا آئینی اختیارات سے تضاد پیدا ہو رہا ہے؟ جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت ان کے موقف کو بالکل درست سمجھی ہے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں نیب کے سیکشن 32 اے کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا تھاعدالت آنے سے قبل صدرِ مملکت، وزیراعظم، سینیٹ اور قومی اسمبلی کو تحریری درخواستیں بھیج چکے ہیں کہ یہ ترمیم آئینی حدود سے تجاوز ہے۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد وکیل کو آئین کے آرٹیکل 185 کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت ستمبر کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • شہری کو آف لوڈ کیے جانے کا معاملہ:اسلام آباد ہائیکورٹ نے افسر کو طلب کر لیا

    شہری کو آف لوڈ کیے جانے کا معاملہ:اسلام آباد ہائیکورٹ نے افسر کو طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملائیشیا جانے والے شہری کو آف لوڈ کیے جانے کے معاملے پر متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا-

    ملائیشیا جانے والے شہری محمد سعد کی درخواست پر جسٹس ایاز شوکت نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے پاس ملائیشیا کا ویزا اور ریٹرن ٹکٹ سمیت بیرون ملک سفر کے لیے تمام ضروری دستاویزات موجود تھیں، اس کے باوجود اسے 12 اگست کو ایئرپورٹ سے آف لوڈ کردیا گیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شہری کو آف لوڈ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو آئندہ سماعت تک پیراوائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس افسر یا شفٹ انچارج کو بھی طلب کرلیا جس نے 12 اگست کو محمد سعد کو آف لوڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ افسر آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر شہری کو آف لوڈ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کرے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کردی۔

  • روس نے ملک بھر میں گوئٹے انسٹیٹیوٹ بند کرنے کا اعلان کردیا

    روس نے ملک بھر میں گوئٹے انسٹیٹیوٹ بند کرنے کا اعلان کردیا

    روس اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ملک بھر میں واقع تمام جرمن ثقافتی مراکز ‘گوئٹے انسٹیٹیوٹ’ (Goethe-Institut) کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایسٹرن اکنامک فورم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ قدم جرمنی کی جانب سے بن میں واقع روسی قونصل خانے اور برلن کے ‘رشین ہاؤس’ (ثقافتی مرکز) کو بند کرنے کے جواب میں اٹھایا گیا ہے جرمن اقدامات کے بعد اس کے جواب کے بغیر خاموش رہنا روس کی ’خودداری‘ کے منافی ہوتا، اور جرمنی کو یہ بخوبی اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ رشین ہاؤس کی بندش کے بعد روس میں اس کی ثقافتی موجودگی کا خاتمہ لازمی ہو جائے گا۔

    اس سفارتی تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب برلن انتظامیہ نے ماسکو پر گزشتہ ماہ جرمنی کے لائپزگ/ہالے (Leipzig/Halle) ایئرپورٹ پر ڈرون کے ذریعے حملے کی ناکام کوشش کا الزام عائد کیااس واقعے کے بعد جرمنی نے تادیبی کارروائی کرتے ہوئے بون میں قائم روسی قونصلیٹ اور برلن کے رشین ہاؤس کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

    روسی فیصلہ نافذ العمل ہونے کے بعد روس کے اہم شہروں ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور یکاترنبرگ میں قائم مشہور جرمن تعلیمی و ثقافتی ادارے ‘گوئٹے انسٹیٹیوٹ’ کی شاخیں مکمل طور پر فعال نہیں رہیں گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم ثقافتی اور تعلیمی روابط کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

  • کراچی بار کا جماعت اسلامی اور تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان

    کراچی بار کا جماعت اسلامی اور تاجروں کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان

    کراچی بار ایسوسی ایشن نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور دیگر معاشی مسائل کے خلاف جماعت اسلامی اور تاجروں کی جانب سے آج کی ملک گیر ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا۔

    کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وکلا مہنگائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے کراچی پریس کلب تک پرامن ریلی نکالیں گے، ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے نتیجے میں وکلا اور سائلین کو عدالتوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے،کراچی بار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ہڑتال کے باعث وکلا یا سائلین کی عدم حاضری پر کوئی سخت حکم جاری نہ کیا جائے۔

    دوسری جانب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے لاہور میں دھر نے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا،کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک طرف مذاکرات کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے، آج کی ہڑتال کے بعد احتجاج کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

  • کالعدم بی ایل اے میں شامل ہونیوالا میڈیکل طالب علم ہلاک

    کالعدم بی ایل اے میں شامل ہونیوالا میڈیکل طالب علم ہلاک

    ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والا لال خان نواز، جو کہ ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا، انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا، بولان میڈیکل کالج کے ہونہار اسکالرشپ ہولڈر طالب علم لال خان جیسے نوجوانوں سے قلم چھین کر بندوق تھما دی گئی اور وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

    بولان میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس طالب علم لال خان نواز کی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اور بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا ہےاطلاعات کے مطابق لال خان نواز حکومت بلوچستان کی اسکالرشپ پر میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، تاہم بعد میں اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق لال خان نواز بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا اور حکومتی اسکالرشپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھا اس کا تعلیمی سفر اسے ڈاکٹر بننے اور اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کی جانب لے جا رہا تھا، تاہم بعد میں وہ کالعدم بی ایل اے کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔

    اطلاعات کے مطابق تنظیم میں شمولیت کے بعد وہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف مختلف کارروائیوں میں سرگرم رہا، ایک سیکیورٹی آپریشن کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپ میں لال خان نواز ہلاک ہوگیا۔

    کالعدم بی ایل اے کی سفاکیت اور درندگی اب کسی سے چھپی نہیں، جو اپنے ناپاک اور شوم عزائم کی تسکین کے لیے معصوم، کم عمر نوجوانوں کے مستقبل کا سودا کر رہی ہے۔واقعے نے ایک بار پھر اس خدشے کو نمایاں کیا ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے بیانیے سے متاثر کرکے انہیں تعلیم اور مستقبل کے مواقع سے دور کر رہی ہیں-

    ‘فتنہ الہندوستان’ جیسے عناصر دہشتگردی اور فکری گمراہی (برین واشنگ) کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کر کے ان کا روشن مستقبل، خاندانوں کی امیدیں اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ بے دردی سے تباہ کر رہے ہیں، جو اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں تباہ کن ہتھیار نہیں بلکہ قلم اور کتاب ہونی چاہیے۔

  • اداکارہ مومنہ اقبال ہراسگی کیس:ثاقب چدھڑ ااور اہلیہ بے قصور قرار

    اداکارہ مومنہ اقبال ہراسگی کیس:ثاقب چدھڑ ااور اہلیہ بے قصور قرار

    معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی جانب سے درج کرائے گئے ہراسگی اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے مقدمے میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) نے ن لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی (ایم پی اے) ثاقب چڈھر اور ان کی اہلیہ سمیرا کو مکمل طور پر بے قصور قرار دے دیا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (NCCA) نے مقدمے کی ازسرنو اور شفاف تحقیقات کے لیے خصوصی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی جے آئی ٹی کی تفتیش اور فراہم کردہ شواہد کے جائزے کے بعد ایم پی اے ثاقب چڈھر اور ان کی اہلیہ سمیرا پر عائد کردہ الزامات ثابت نہیں ہو سکے، جس کی بناء پر دونوں کو مقدمے میں کلیئر کر دیا گیا ہے تفتیشی افسر کے مطابق فی الحال دونوں نامزد ملزمان کی گرفتاری درکار نہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس راحیل کامران شیخ عہدے سے مستعفی

    دوسری جانب اداکارہ مومنہ اقبال کے وکیل نے تفتیشی عمل اور جے آئی ٹی کی رپورٹ پر شدید تحفظات ظاہر کئے ہیں اداکارہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ این سی سی اے نے مدعیہ کو اعتماد میں لیے بغیر اور آگاہ کیے بغیر مقدمے کی تفتیش اچانک تبدیل کرکے جے آئی ٹی کے سپرد کی،نئے تفتیشی افسر اور جے آئی ٹی نے کیس کی مکمل و شفاف تحقیقات کیے بغیر ہی بااثر ملزمان کو جلد بازی میں کلین چٹ فراہم کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ثاقب چڈھر اور ان کی اہلیہ کے خلاف سائبر ہراسگی، بدنام کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات کے تحت این سی سی اے میں مقدمہ درج کرایا تھا، جس پر قانونی کارروائی اور تفتیش کا سلسلہ جاری تھا۔

    5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ