خیبر پختونخوا میں اپر سوات اور وادیِ کالام کے بلند پہاڑی سلسلوں پر سال کی پہلی برف باری کے بعد پوری وادی نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔
اچانک برف باری کے بعد علاقے میں سردی کی شدت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے، اس دلکش پیش رفت سے جہاں کالام کے مناظر مزید سحر انگیز ہو گئے ہیں، وہی پورے خطے میں باقاعدہ ’سرد موسم‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔اپر سوات اور اس کے گردونواح، بالخصوص وادیِ کالام کے بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوتے ہی قدرتی مناظر یکسر بدل گئے ہیں۔
اس حسین منظر کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کا جوش و خروش بھی دیدنی ہے اور مختلف شہروں سے وادی کی جانب سیاحوں کی آمد کی توقع کی جا رہی ہےبرف باری کے ساتھ ہی یخ بستہ ہواؤں کے چلنے سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ مقامی رہائشیوں نے گرم ملبوسات کا استعمال شروع کر دیا ہے-
بحرین، کالام، مہوڈنڈ اور اترور جیسے بالائی علاقے سمندر کی سطح سے 2,000 میٹر سے زیادہ کی بلندی پر واقع ہیں، جہاں ہر سال موسمِ سرما کی آمد پر برف باری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے.یہ برف باری نہ صرف علاقے میں سیاحت اور مقامی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، بلکہ گرمیوں کے موسم میں دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
