برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کے سابق اہلکار کی کمپنیوں کے طیارے سوڈان کی باغی فورسز کو سپلائی فراہم کرنے میں ملوث رہے-
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک جامع تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی فوج کے اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار اور دفاعی کنٹریکٹر اسٹیون شاولس کے زیرِ کنٹرول کمپنیوں نے ایسے پرانے بوئنگ طیارے چلائے جو سوڈان کی خانہ جنگی کے دوران ان فضائی مراکز تک پروازیں کرتے رہے جہاں سے ریپڈ سپور ٹ فورسز (RSF) کو رسد اور لاجسٹک معاونت فراہم کی جاتی تھی۔
تحقیق کے مطابق شاولس سنگاپور میں قائم کمپنی سی اے ڈی جی (CADG) کے سربراہ ہیں، جو گزشتہ 2 دہائیوں سے امریکی حکومت اور اقوام متحدہ کے متعدد منصوبوں پر کام کرتی رہی ہے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کی کمپنیوں کو امریکی فوجی اور امدادی منصوبوں کے تحت کم از کم 41 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں ان منصوبوں میں افغانستان، عراق، کینیا، موزمبیق اور وسطی افریقی جمہوریہ سمیت مختلف ممالک میں تعمیراتی اور لاجسٹک خدمات شامل رہی ہیں۔
رائٹرز نے اپنی تحقیقات میں معلوم کیا کہ شاولس سے وابستہ کمپنیوں نے کم از کم 3 پرانے بوئنگ طیارے استعمال کیے جو چاڈ، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان کے ان ہوائی اڈوں تک پروازیں کرتے رہے جنہیں اقوام متحدہ، سفارتی ذرائع اور عسکری ماہرین آر ایس ایف کی سپلائی لائن کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق مئی 2025 میں سوڈانی فوج نے دارفور کے شہر نیالا کے ہوائی اڈے پر ایک بوئنگ 737 کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا تھا اس حملے میں 54 افراد ہلاک ہوئے جن میں 51 آر ایس ایف جنگجو بھی شامل تھے۔ رائٹرز کے مطابق اس طیارے کا پائلٹ اور گراؤنڈ انجینئر شاولس کی متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ کمپنی Occidental Support Services کے ملازم تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رائٹرز کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اسٹیون شاولس یا ان کی کسی کمپنی پر کسی ملک نے پابندیاں عائد کی ہوں یا ان کے خلاف سرکا ری سطح پر کسی غیر قانونی سرگرمی کا الزام ثابت ہوا ہو، تاہم ان کے زیرِ انتظام طیاروں کی سرگرمیوں، ان کے مالی وسائل اور ان میں منتقل کیے جانے وا لے سامان کے بارے میں متعدد سوالات اب بھی جواب طلب ہیں،یہ تحقیق کارپوریٹ ریکارڈ، ہوابازی کے رجسٹر، سیٹلائٹ تصاویر، فلائٹ ٹریکنگ ڈ یٹا، موبائل لوکیشن ریکارڈ، سوشل میڈیا مواد اور 40 سے زائد انٹیلی جنس حکام، سفارت کاروں، ہوابازی کے ماہرین اور علاقائی امور کے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
سوڈان میں 2023 سے جاری خانہ جنگی کے دوران آر ایس ایف نے ملک کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آر ایس ایف پر دارفور میں نسل کشی، جنگی جرائم اور شہریوں پر مظالم کے الزامات عائد کر چکی ہیں، جبکہ سوڈانی فوج پر بھی جنگی جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں آر ایس ایف کی معاونت کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کو امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ ان پابند یو ں کے تحت اس گروپ کو لاجسٹک، نقل و حمل یا دیگر خدمات فراہم کرنا ممنوع ہے۔
اسٹیون شاولس نے رائٹرز کے تفصیلی سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا، جبکہ آر ایس ایف، سوڈانی فوج، امریکی محکمہ دفاع اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف پیش نہیں کیا۔
