ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فورسز نے ایران کے قومی یا سمندری اثاثوں کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکی تیل اور گیس کی کمپنیوں اور ان کی اہم تنصیبات کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات بہت سادہ اور قابلِ فہم ہے، اس وسیع خطے میں پھیلائی گئی تیل و گیس کی پیداواری تنصیبات اور نظام ہماری پہنچ میں ہیں اور بے حد حساس ہیں،اگر آپ ہمارے اثاثوں پر حملہ کریں گے تو آپ پر بھی حملہ ہو گا، اور ہم پہلے بھی اپنی اس جوابی صلاحیت کو ثابت کر چکے ہیں، آپ اپنے ان فوجی اڈوں سے پوچھ لیں جو اب قابلِ استعمال نہیں رہے ہیں۔
باقر قالیباف کی اس دھمکی سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر فائرنگ کی تو ہم ان کے آئل ٹینکرز کو تباہ کر کے ڈبو دیں گے ایران کو امریکی بحریہ پر فائرنگ سے گریز کرنا ہو گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے خطے پر ایک وحشیانہ جنگ مسلط کی ہے اور اب اس کے معاشی اثرات اور ادائیگی کی توقع پوری دنیا سے کر رہا ہے تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایسی صورتحال میں صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔
اسماعیل بقائی نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے عارضی اور محفوظ راستے کی فراہمی پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ اس معاہدے کو جلد بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں باقاعدہ رجسٹر کرا لیا جائے گا۔
