وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو چکی ہے –
وزیراعظم نےپیر کے روز پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے برسوں کے بجائے مہینوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے پاکستان کی معیشت استحکام کے مرحلے سے گزر کر اب پائیدار ترقی کی جانب گا مزن ہو چکی ہے اور حکومت سی پیک 2.0 کو عملی حقیقت اور کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی، بہتر آبی نظم و نسق، جدید کاشتکاری کے طریقوں، ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ناگزیر ہے حکومت نے اس سمت میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔
گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار
انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان کو جدید مہارتیں اور ٹیکنالوجی منتقل کر رہا ہے اور 2024 اور 2025 کے دوران بی ٹو بی اور جی ٹو جی سطح پر متعدد مفاہمتی یادد اشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جنہیں اب عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو میرٹ کی بنیاد پر چین کی زرعی جامعات اور تحقیقاتی مراکز میں تربیت کے لیے بھیجا گیا، جو وطن واپس آ کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے اور زرعی معیشت کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم نے چین کی زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ترقی کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ، دیرپا اور فولاد سے مضبوط ہے رواں سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو اس گہر ے تعلق کی عکاسی ہے۔
گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف
انہوں نے افراط زر میں کمی، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب پائیدار ترقی کے راستے پر ہے نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اگر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زرا عت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں بروئے کار لایا جائے تو معیشت میں تیز رفتار تبدیلی ممکن ہے۔
قبل ازیں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں معاشی ترقی کی شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے، مہنگائی 4 فیصد پر برقرار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں چین زرعی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے اور دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے انہوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی
تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور ترقیاتی تعاون کو اجاگر کیا گیا تقریب میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال، اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمائندے اور اعلیٰ سرکاری حکام موجود تھے-