امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کے نظام کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ٹول سسٹم نافذ کرنے میں مدد دینے والے عناصر کے خلاف “سخت اور جارحانہ کارروائی” کرے گا۔
انہوں نے عمان کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایسے تمام کرداروں کو نشانہ بنائے گا جو اس نظام کو سہولت فراہم کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک غیر سرکاری مجوزہ معاہدے کی رپورٹ نشر کی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام سنبھال سکتے ہیں جبکہ ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے جیسی شپنگ صورتحال بحال کی جائے گی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب عمان نے بھی ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مشترکہ کنٹرول سے متعلق کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔
عمانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ صرف جہاز رانی کی آزادی اور خطے میں استحکام سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور تیل گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی سیاست اور معیشت کا حساس ترین مرکز بنتی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز پر ٹول سسٹم برداشت نہیں کریں گے، امریکا
