خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی ورکرز کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
جاری کردہ معلوماتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے باعث تمام پاکستانی شہری، بالخصوص ملازمین، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور جہاں تک ممکن ہو محفوظ مقامات پر رہائش اختیار کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا موجودہ صورتحال میں انتہائی ضروری ہے۔
بیورو کے مطابق پاکستانی شہری فوجی تنصیبات، ہوائی اڈوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات کے قریب جانے سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہ مقامات ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
ہدایات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ مقامی پولیس، سول ڈیفنس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی تمام ہدایات اور احکامات پر مکمل عمل کیا جائے۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی مشکلات پیدا کر سکتی ہے بلکہ ذاتی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
بیورو آف امیگریشن نے خبردار کیا ہے کہ فوجی نقل و حرکت، میزائل حملوں، دفاعی سرگرمیوں یا حساس تنصیبات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانا، انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنا یا دوسروں کو بھیجنا کئی خلیجی ممالک کے سخت قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، جس پر قانونی کارروائی، گرفتاری یا دیگر سزائیں ہو سکتی ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سائبر کرائم قوانین انتہائی سخت ہیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری ملک بدری، جرمانے اور مستقبل میں کسی بھی خلیجی ملک میں داخلے پر مستقل پابندی جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
بیورو نے پاکستانی شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج، جلسے، ریلی یا عوامی مظاہرے میں شرکت سے گریز کریں، کیونکہ بیشتر خلیجی ممالک میں ایسی سرگرمیاں قانوناً ممنوع ہیں اور ان میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
حکام نے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرسکون رہیں، صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی حکام اور پاکستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔
خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم سفری و حفاظتی ہدایات جاری
