Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ایم ڈی کیٹ 2026 کی تاریخ کا اعلان، امتحان 16 اگست کو ہوگا

    ایم ڈی کیٹ 2026 کی تاریخ کا اعلان، امتحان 16 اگست کو ہوگا

    ‎پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحان کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
    ‎جاری کردہ پبلک نوٹس کے مطابق ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کیلئے لازمی قرار دیا گیا ایم ڈی کیٹ امتحان 16 اگست 2026 بروز اتوار منعقد ہوگا۔
    ‎پی ایم ڈی سی نے طلبہ و طالبات کو سہولت فراہم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سال بھی گزشتہ برس والا ہی سلیبس لاگو ہوگا اور نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔
    ‎کونسل کے مطابق امیدوار اسی سلیبس کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھ سکتے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ پاکستان میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ پاس کرنا قانونی طور پر لازمی ہے۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحان میں 47 ہزار 772 امیدواروں نے حصہ لیا تھا۔
    ‎180 نمبرز کے امتحان میں 42 ہزار 48 امیدوار 50 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
    ‎اسی طرح 39 ہزار 648 طلبہ نے 55 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے، جو ایم بی بی ایس پروگرام میں داخلے کیلئے کم از کم مقررہ معیار ہے۔
    ‎پی ایم ڈی سی نے تمام صوبائی داخلہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ امتحانی مراکز، سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کی تیاری ابھی سے شروع کر دی جائے تاکہ امتحان شفاف اور منظم انداز میں منعقد کیا جا سکے۔

  • ‎شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک

    ‎شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 دہشتگرد ہلاک

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شیوہ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا جس کے دوران 22 دہشتگرد مارے گئے۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایریا سینیٹائزیشن آپریشن 17 مئی 2026 سے جاری ہے اور کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے دہشتگرد بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی “فتنہ الخوارج” تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور علاقے میں متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
    ‎فورسز نے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ باقی دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ شواہد سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دہشتگرد مقامی آبادی کو ڈرا دھمکا کر اپنے لیے محفوظ راستے حاصل کرتے تھے اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
    ‎پاک فوج نے اس عمل کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔
    ‎آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ “عزمِ استحکام” وژن کے تحت ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشتگردی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔

  • کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والے جعلی انجکشنز پر پابندی عائد

    کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والے جعلی انجکشنز پر پابندی عائد

    ‎ملک میں ایڈوانسڈ اسٹیج کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہونے والے دو اہم انجکشنز کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
    ‎ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی برانڈز کے نام پر جعلی کینسر انجکشنز مارکیٹ میں سپلائی کیے جا رہے تھے، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ان پر ملک گیر پابندی لگا دی گئی۔
    ‎یہ کارروائی ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی آسٹرازینیکا کی شکایت پر کی گئی۔
    ‎ڈریپ کی جانب سے جاری ریپڈ الرٹ کے مطابق “امفنزی” اور “انہرٹو” نامی کینسر انجکشنز کے مخصوص بیچز جعلی قرار دیے گئے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق “Imfinzi 500mg/10ml” کا بیچ نمبر ASCB جبکہ “Enhertu 100mg” کا بیچ نمبر DK1262 جعلی پایا گیا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق جعلی ادویات کے پیکٹس پر آسٹرازینیکا جاپان اور سویڈن کے جعلی پتے درج کیے گئے تھے تاکہ انہیں اصلی ظاہر کیا جا سکے۔
    ‎لاہور کے مختلف اسپتالوں کے ڈاکٹرز نے مریضوں میں ادویات کے اثرات ظاہر نہ ہونے پر ان انجکشنز کے جعلی ہونے کی نشاندہی کی تھی۔
    ‎ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ادویات پھیپھڑوں، جگر، مثانے، معدے، مختلف ٹیومرز اور خواتین میں چھاتی کے کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔
    ‎اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ان جعلی انجکشنز کی طبی افادیت یا تو صفر ہے یا غیر واضح، اور ان کا استعمال مریضوں کیلئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎ڈریپ نے پنجاب حکومت کو فوری تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے سپلائی چین میں شامل عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔
    ‎ملک بھر کے اسپتالوں، فارمیسیز اور بلڈ بینکس کو متاثرہ بیچز فوری طور پر فروخت سے روکنے اور اسٹاک الگ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

  • خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کی تردید

    خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کی تردید

    ‎حکومتِ پاکستان نے خلیجی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی خلیجی ملک سے پاکستانیوں کو نکالے جانے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔
    ‎قومی اسمبلی کے اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل، انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں اور غیر قانونی شناختی کارڈز کے معاملے پر اہم بریفنگ دی گئی۔
    ‎اجلاس کے دوران حکومتی ارکان نے کہا کہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں گردش کرنے والی خبروں کے برعکس کسی خلیجی ملک نے پاکستانی شہریوں کی اجتماعی بے دخلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
    ‎وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کی سخت پالیسیوں اور نگرانی کے باعث غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی کوششوں میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر جعلی دستاویزات اور پاسپورٹس کی شناخت کیلئے جدید مشینیں نصب کی جا چکی ہیں جبکہ جعلی کاغذات پر سفر کرنے والوں کو فوری طور پر آف لوڈ کیا جاتا ہے۔
    ‎طلال چوہدری کے مطابق ایف آئی اے عملے کی تربیت بھی جاری ہے اور انہی اقدامات کی بدولت عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ میں بہتری آ رہی ہے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض مقامی افراد نے ذاتی مفاد کیلئے غیر ملکیوں کو اپنے فیملی ٹری میں شامل کروا کر انہیں پاکستانی شناختی کارڈز دلوائے۔
    ‎اجلاس میں پیش کی گئی سرکاری دستاویز کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران سات خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کی جانب سے مجموعی طور پر 9 ہزار 233 شکایات درج کروائی گئیں۔

  • متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا: ایران کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا: ایران کا دعویٰ

    ‎ایران کی وزارت خارجہ نے جرمنی کے چانسلر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے جوہری پلانٹ کے قریب حملے میں ایران کے مبینہ کردار کے الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جرمن زبان میں جاری بیان میں جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس پر “دوغلے پن” کا الزام عائد کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو نہ صرف نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کا جواز بھی پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ تنصیبات عالمی ایجنسی کی نگرانی میں محفوظ قرار دی گئی تھیں۔
    ‎اسماعیل بقائی نے کہا کہ جس واقعے کو انہوں نے “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا، اس کی ذمہ داری خود متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر عائد نہیں کی، لیکن اس کے باوجود مغربی رہنما اچانک بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی باتیں کرنے لگے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اگر جوہری تنصیبات پر حملے واقعی خطے کیلئے خطرہ ہیں تو یہ اصول سب ممالک پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی مفادات کے مطابق۔
    ‎دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس نے ایک روز قبل ایران کی جانب سے امارات اور دیگر ممالک پر مبینہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ابوظہبی کے قریب براکہ جوہری پلانٹ کے باہر ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی کے جنریٹر میں آگ لگ گئی تھی۔

  • 80 روز بعد ایرانی اسٹاک مارکیٹ دوبارہ کھل گئی

    80 روز بعد ایرانی اسٹاک مارکیٹ دوبارہ کھل گئی

    ‎ایران کی اسٹاک مارکیٹ 80 روز بعد آج دوبارہ کھول دی گئی ہے۔
    ‎ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران اسٹاک ایکسچینج مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے ٹریڈنگ کیلئے کھولی گئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایرانی اسٹاک مارکیٹ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد غیر یقینی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث بند کر دی گئی تھی۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی بحالی کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ کھلنے کے بعد سرمایہ کاروں کے رویے پر عالمی توجہ مرکوز ہے کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات ایرانی معیشت پر بدستور موجود ہیں۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو ایرانی مالیاتی منڈیوں کو دوبارہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کو مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت دی جائے، سہیل آفریدی

    بانی پی ٹی آئی کو مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت دی جائے، سہیل آفریدی

    ‎وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
    ‎اسلام آباد کی چونگی نمبر 26 پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ آج بھی پرامن طریقے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔
    ‎سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی، وکلا اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقاتیں بھی یقینی بنائی جانی چاہئیں۔
    ‎وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ان کا کوئی غیرقانونی یا غیرآئینی مطالبہ نہیں بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مخالفین کے علاج کے معاملے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا تھا، اس لیے انہیں بھی علاج کی مکمل سہولت دی جانی چاہیے۔
    ‎سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ منتخب صوبائی قیادت کا راستہ روکنا امتیازی سلوک ہے۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور پوری کابینہ کو راستے میں روکنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے جبکہ کارکنوں نے ہر موقع پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔
    ‎واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اسلام آباد کی چونگی نمبر 26 پر روک دیا گیا تھا جہاں وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے جا رہے تھے۔

  • عمران خان سے ملاقات کیلئے کوئی فیملی ممبر اور پارٹی رہنما اڈیالہ جیل نہیں پہنچا۔

    عمران خان سے ملاقات کیلئے کوئی فیملی ممبر اور پارٹی رہنما اڈیالہ جیل نہیں پہنچا۔

    ‎بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کیلئے کوئی فیملی ممبر یا پارٹی رہنما اڈیالہ جیل نہ پہنچ سکا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات کا مقررہ وقت ختم ہوگیا تاہم ملاقات کی فہرست میں شامل رہنما بھی وقت پر اڈیالہ جیل نہیں پہنچ سکے۔
    ‎ملاقات کیلئے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، چنگیز خان کاکڑ، انتظار پنجوتھہ، علی رحمان اور علی اعجاز بٹر کے نام بھجوائے گئے تھے۔
    ‎دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کیلئے میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔
    ‎جیل ذرائع کے مطابق میڈیکل ٹیم میں پروفیسر ندیم قریشی اور ڈاکٹر عارف خان شامل تھے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کا جائزہ لیا جبکہ معائنے کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق سیاسی حلقوں میں مسلسل بحث جاری ہے۔

  • ‎وزیراعظم شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ

    ‎وزیراعظم شہباز شریف کا کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ

    ‎وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیکلٹی اور زیر تربیت افسران سے خطاب کیا۔
    ‎وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاریوں اور ملکی سلامتی کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں اور مادر وطن کے دفاع کیلئے افواج پاکستان کے عزم کو سراہا۔
    ‎اپنے خطاب میں وزیراعظم نے “معرکۂ حق” کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کو خراج تحسین پیش کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے باوجود پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اور تحمل کا مظاہرہ کیا جسے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔
    ‎شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
    ‎وزیراعظم کا کہنا تھا کہ “آپریشن غضبُ للحق” پوری قوت کے ساتھ جاری ہے تاکہ افغان طالبان سے منسلک دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں اور معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے کشمیری اور فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
    ‎وزیراعظم نے دوست ممالک سے آئے ہوئے افسران کی موجودگی کو سراہتے ہوئے عسکری سفارتکاری اور دفاعی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کیلئے “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎اس موقع پر وفاقی وزرائے دفاع، داخلہ، اطلاعات اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
    ‎قبل ازیں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج پہنچنے پر وزیراعظم کا استقبال فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔

  • ایران امریکا جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

    ایران امریکا جنگ بندی ایک بار پھر خطرے میں، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے جبکہ خطے میں نئی کشیدگی کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔
    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی دھمکی دی، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات جاری ہونے کی وجہ سے ممکنہ حملے فی الحال روک دیے گئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب ایران نے بھی واضح اشارہ دیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔
    ‎امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے مرحلے میں ایران تقریباً تین ماہ طویل لڑائی کیلئے تیار تھا، اسی وجہ سے اس نے اسرائیل اور دیگر اہداف پر اپنے میزائل حملے محدود رکھے تاکہ طویل عرصے تک کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو یہ مختصر مگر انتہائی شدید نوعیت کی ہو گی، جس میں ایران کی توانائی تنصیبات اور حساس مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎اخبار کے مطابق ممکنہ نئی جنگ میں ایران روزانہ درجنوں یا سیکڑوں میزائل داغ سکتا ہے تاکہ جنگ کا توازن تبدیل کیا جا سکے۔
    ‎رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور بندرگاہیں بھی حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں، جس سے عالمی تیل مارکیٹ اور معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎امریکی اخبار کے مطابق ایران آبنائے باب المندب پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش بھی کر سکتا ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم آبی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور یمن میں حوثی گروپ کے زیر اثر علاقوں کے قریب واقع ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھی تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ سمیت عالمی تجارت اور توانائی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔