Baaghi TV

اسرائیل نے ایران جنگ کیلئے عراق میں خفیہ فوجی اڈے قائم کیے، رپورٹ

israel

‎امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کیلئے عراق میں خفیہ فوجی اڈے قائم کیے تھے، جنہیں ایران پر حملوں کے دوران استعمال کیا گیا۔
‎رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں ایک خفیہ اڈا فروری 2026 میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران استعمال کیا، جبکہ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ایک دوسرا اسرائیلی اڈا بھی موجود تھا جو جون 2025 میں ایران پر ہونے والے حملوں کیلئے استعمال ہوا۔
‎علاقائی حکام کے مطابق دوسرے اڈے کی تعمیر 2024 کے آخر میں شروع کی گئی تھی، تاہم اب وہ فعال نہیں رہا، جبکہ 2026 کی جنگ میں استعمال ہونے والے اڈے کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔
‎رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کو کم از کم ایک خفیہ اڈے کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔
‎نیویارک ٹائمز کے مطابق ان اڈوں کا بنیادی مقصد ایران پر حملوں کیلئے اسرائیلی طیاروں کے پرواز کے وقت کو کم کرنا اور فضائیہ کیلئے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا تھا۔
‎رپورٹ میں کہا گیا کہ ان اڈوں پر خصوصی فوجی دستے اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات تھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
‎مقامی بدو افراد نے ایک اڈے کے قریب مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی تھی، تاہم عراقی فوج نے براہِ راست کارروائی کے بجائے دور سے نگرانی جاری رکھی اور امریکا سے معلومات طلب کیں، لیکن واشنگٹن نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
‎رپورٹ کے مطابق 3 مارچ کو ایک مقامی چرواہا عواد الشمری اتفاقاً ایک خفیہ اڈے تک پہنچ گیا، جس کے بعد مبینہ طور پر ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے اسے نشانہ بنایا۔
‎بعد ازاں مقامی افراد کو اس کی تباہ شدہ گاڑی اور لاش ملی، جبکہ عراقی فوج کی جانب سے بھیجا گیا ریکی مشن بھی مبینہ اسرائیلی فائرنگ کے بعد واپس بلا لیا گیا، جس میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

More posts