Baaghi TV

امریکا نے مذاکرات میں کوئی بڑی رعایت نہیں دی: ایران

usa

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ایران کی تجاویز کے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت پیش نہیں کی، جس کے باعث مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
‎فارس نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے ایران کو پانچ نکات پر مشتمل ایک فہرست دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے اور اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرے۔
‎ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق امریکا بغیر کسی عملی رعایت کے وہی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکا۔
‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران سے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ جنگی نقصانات کے ازالے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے بھی انکار کیا گیا ہے۔
‎فارس نیوز کے مطابق امریکی تجاویز میں ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے، منجمد اثاثوں کا صرف محدود حصہ بھی جاری نہ کرنے اور جنگ بندی کو مذاکرات سے مشروط کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
‎ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر ایران ان شرائط کو تسلیم بھی کر لے تب بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ جارحیت کا خطرہ برقرار رہے گا۔
‎دوسری جانب ایرانی حکام نے مذاکرات کیلئے اپنی پانچ بنیادی شرائط واضح کر رکھی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ، ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے حق کا اعتراف شامل ہے۔
‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جبکہ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔

More posts