امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق حملوں کے دوران زخمی ہونے والے چار امریکی اہلکاروں کو فوری طور پر اردن کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں علاج مکمل ہونے پر انہیں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمی ہونے والے دیگر اہلکار دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آ گئے ہیں۔
دوسری جانب اردن کی فوج نے بتایا کہ گزشتہ شب اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 10 ایرانی بیلسٹک میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے۔ اردنی حکام کے مطابق ان حملوں سے ملک میں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر امریکی فوج نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات فضائی کارروائیاں کیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ حملے اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے معاہدے کو ختم قرار دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈے ہائی الرٹ پر ہیں، جبکہ خطے میں مزید جوابی کارروائیوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
عالمی برادری دونوں فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور سفارتی ذرائع سے تنازع کا حل تلاش کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

اردن میں ایرانی حملے، 2 امریکی اہلکار ہلاک، ایک لاپتا
-

امریکی حملوں سے جنوبی ایران میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ، مواصلاتی نظام شدید متاثر
امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن کے نتیجے میں جنوبی ایران میں ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچنے سے تقریباً 10 ہزار افراد پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے۔ دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں امریکی اتحادی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعض ممالک نے حملوں اور فضائی خطرات کی تصدیق کی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہرمزگان واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے سربراہ حمزہ پور نے بتایا کہ جنوبی شہر جاسک میں واقع بنجی ڈی سیلینیشن پلانٹ کے سمندری پانی پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کے ٹرانسفارمر امریکی حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں 20 دیہات میں پانی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور تقریباً 10 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔
امریکا کے مسلسل فضائی حملوں کے دوران جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں مواصلاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز غیر فعال ہو گئے، جس کے باعث متعدد علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہرمزگان کے محکمہ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نے بتایا کہ رات بھر ہونے والے امریکی حملوں نے بندر عباس اور حاجی آباد سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد مجموعی طور پر 116 مواصلاتی ٹاورز سروس سے باہر ہو گئے، جس سے کئی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک، فکسڈ لائن ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات شدید متاثر ہوئیں۔ متعلقہ اداروں نے متاثرہ نظام کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے، تاہم بعض علاقوں میں تاحال رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ اس نے رات بھر ایران میں نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹکس انفراسٹرکچر، زیرزمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ کویت نے اپنے فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ دو بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس حملوں کی زد میں آئے، جبکہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران متعدد فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔
اسی دوران بحرین میں کئی مرتبہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
اردن نے بھی تصدیق کی کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 10 ایرانی بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ اس کی بحریہ نے کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی فوجی ایندھن کی تنصیب، بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کی تنصیب اور اردن کے ازرق میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔ آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان حملوں میں دو امریکی جنگی طیارے تباہ کیے گئے، تاہم اس دعوے کی امریکی یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دے رہی ہے۔ -

ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ
ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع موافق السلطي (Muwaffaq Salti) ایئر بیس پر کامیاب بیلسٹک میزائل حملہ کیا، جس کے بعد اڈے پر آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم اس دعوے اور مبینہ نقصانات کی آزاد ذرائع یا اردنی اور امریکی حکام کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں امریکی فضائیہ اور ایئر نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے زیر استعمال رہائشی عمارتوں اور بیرکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ایئر بیس کے بعض حصوں میں آگ لگ گئی۔
ایرانی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں اڈے پر موجود متعدد فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔ تاہم اس حوالے سے بھی کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حملے سے ایک روز قبل 480ویں فائٹر اسکواڈرن کے 12 ایف 16 سی بلاک 50 جنگی طیارے اور 495ویں فائٹر اسکواڈرن کے 9 ایف 35 اے لائٹننگ ٹو طیارے اس ایئر بیس پر تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم ان طیاروں کو نقصان پہنچنے کے دعووں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب امریکی یا اردنی حکام نے اس خبر پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، جبکہ جاری علاقائی کشیدگی کے باعث مختلف فریقین کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ -

یوکرینی ڈرون حملوں میں مغربی روس میں 8 افراد ہلاک، متعدد زخمی
روس کے مغربی علاقوں میں یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق حملوں میں گوداموں اور تیل کے ذخیرہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
روس کے صوبہ تامبوف کے گورنر ایوگینی پیرویشوف نے بتایا کہ کوتووسک شہر میں یوکرینی ڈرون حملے کے دوران روس کی سب سے بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے لاجسٹکس مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
گورنر کے مطابق حملے کے وقت رات کی شفٹ میں کام کرنے والے 7 ملازمین ہلاک ہو گئے، جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک اور چھ افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے، جبکہ بیشتر افراد شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہوئے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 28 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا۔ ان کے مطابق اگر یہ ڈرون اپنے اہداف تک پہنچ جاتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
اسی دوران ماسکو ریجن کے شہر الیکٹروسٹل میں بھی ایک اور ڈرون حملے میں وائلڈ بیریز کے ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک شخص ہلاک اور 37 افراد زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
علاوہ ازیں، ماسکو ریجن کے شہر نوگنسک میں ایک تیل کے ڈپو پر ڈرون حملے کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کی۔
روسی حکام کے مطابق حالیہ حملے گزشتہ تین برسوں کے دوران روسی سرزمین پر ہونے والے مہلک ترین یوکرینی ڈرون حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین اور روس کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس سے دونوں ممالک میں شہری اور اہم انفراسٹرکچر مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری نے ایک بار پھر کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ -

مخالفین کو پھنسانے کے لیے 7 سالہ بیٹی کے مبینہ قتل کا الزام، والد گرفتار
خیرپور کے علاقے کوٹ ڈیجی میں سات سالہ کمسن بچی کے مبینہ قتل کے افسوسناک واقعے میں پولیس نے مقتولہ کے والد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ملزم پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مخالفین کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی غرض سے اپنی ہی بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کیا۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) خیرپور امیر سعود مگسی کے مطابق ملزم کو گرفتار کر کے اس سے مبینہ آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
پولیس کے مطابق بچی کے قتل کا مقدمہ مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں والدہ نے اپنے شوہر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے ذاتی دشمنی کا بدلہ لینے اور مخالفین کو پھنسانے کے لیے اپنی بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کیا۔
مقتولہ کی والدہ کے مطابق چند روز قبل بچوں کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا تھا، جس کے دوران مخالفین کے بچوں نے ان کے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے کے بعد شوہر نے کہا تھا کہ وہ ایک بیٹی کو قتل کر کے مخالفین کے خلاف مقدمہ درج کروائے گا۔
والدہ نے مزید الزام لگایا کہ جب انہوں نے شوہر کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو انہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعد ازاں ان کی بیٹی پراسرار طور پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، جس پر انہوں نے اپنے شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور واقعے سے متعلق تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ فرانزک اور دیگر تکنیکی رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملزم کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے سنگین جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ -

اینڈی برنہم نے کابینہ سے متعلق فیصلہ پیر تک مؤخر کر دیا
برطانیہ کے نامزد وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے ارکان کا اعلان پیر کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد کریں گے، کیونکہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایسے فیصلے کرنا مناسب نہیں۔
دو ہفتوں سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اینڈی برنہم سے سوال کیا گیا کہ جب وہ پیر کو وزیراعظم بننے والے ہیں تو اب تک اپنی کابینہ کے بارے میں فیصلہ کیوں نہیں کیا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ حکومت سنبھالنے کے بعد کیا جاتا ہے، اس سے پہلے ایسا کرنا قبل از وقت ہوگا اور غیر ضروری انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ سے متعلق تمام فیصلے جلد مکمل کر لیے جائیں گے اور ان کا باقاعدہ اعلان پیر کے روز روایتی طریقہ کار کے مطابق کیا جائے گا۔
اینڈی برنہم نے میڈیا میں جاری قیاس آرائیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے عوام کے سامنے اپنے حکومتی منصوبے اور ترجیحات پیش کریں، کیونکہ عوام شخصیات کی بحث سے زیادہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نئی حکومت ملک کے لیے کیا کرنے جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس بات پر بحث کرنے کا نہیں کہ کون کابینہ میں شامل ہوگا اور کون نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ حکومت کن پالیسیوں پر عمل کرے گی اور ملک کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے واقعی کابینہ کے ارکان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا، برنہم نے کہا کہ وہ ان فیصلوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور بہت جلد ان پر اتفاق ہو جائے گا۔ ان کے مطابق پیر کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کابینہ کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کل ہر کوئی چاہتا ہے کہ فیصلے وقت سے پہلے سامنے آ جائیں، تاہم وہ روایتی اور منظم طریقہ کار پر عمل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی وہ باضابطہ طور پر وزیراعظم نہیں بنے، اس لیے کابینہ کا اعلان بھی منصب سنبھالنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ -

بلوچستان کے مسائل کا حل صرف مذاکرات ہیں، بلاول بھٹو زرداری
اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلاول بھٹو زرداری کو صوبے میں حالیہ دہشت گردی کی صورتحال، حکومتی اقدامات اور امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں پر بریفنگ دی۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ زیارت واقعے کے متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطہ رکھا گیا اور ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے بریفنگ میں بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے مطالبے پر زیارت واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے گی، جس میں پارلیمان سے باہر موجود سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہداء کے اہل خانہ کے غم کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے زیارت واقعے کے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کی کوششوں کو سراہا۔ بلاول بھٹو نے ان اپوزیشن جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا واحد دیرپا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاسی جماعتوں سے بات چیت پر یقین رکھتی ہے، خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پیپلز پارٹی کا مؤقف پہلے دن سے دوٹوک رہا ہے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔ -

بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 32 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور ڈرون برآمد
بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشن میں اب تک 32 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ علاقے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، ایک ڈرون اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مقامی طور پر تیار کیے گئے پانچ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز)بروقت تلاش کر کے ناکارہ بنا دیے، جس سے ممکنہ بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک کواڈ کاپٹر (ڈرون)، ایک اینٹی ڈرون گن، تین سب مشین گنز (ایس ایم جیز) اور ایک ایم فور رائفل بھی قبضے میں لی گئی۔ اس کے علاوہ متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ہے۔ فورسز مرحلہ وار مختلف مقامات کی تلاشی لے رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے اور دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ -

امریکی حملوں سے جنوبی ایران میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ، مواصلاتی نظام شدید متاثر
امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن کے نتیجے میں جنوبی ایران میں ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچنے سے تقریباً 10 ہزار افراد پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے۔ دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں امریکی اتحادی تنصیبات کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بعض ممالک نے حملوں اور فضائی خطرات کی تصدیق کی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہرمزگان واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے سربراہ حمزہ پور نے بتایا کہ جنوبی شہر جاسک میں واقع بنجی ڈی سیلینیشن پلانٹ کے سمندری پانی پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کے ٹرانسفارمر امریکی حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں 20 دیہات میں پانی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اور تقریباً 10 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔امریکا کے مسلسل فضائی حملوں کے دوران جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں مواصلاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز غیر فعال ہو گئے، جس کے باعث متعدد علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہرمزگان کے محکمہ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نے بتایا کہ رات بھر ہونے والے امریکی حملوں نے بندر عباس اور حاجی آباد سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد مجموعی طور پر 116 مواصلاتی ٹاورز سروس سے باہر ہو گئے، جس سے کئی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک، فکسڈ لائن ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات شدید متاثر ہوئیں۔ متعلقہ اداروں نے متاثرہ نظام کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے، تاہم بعض علاقوں میں تاحال رابطے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ اس نے رات بھر ایران میں نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹکس انفراسٹرکچر، زیرزمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ کویت نے اپنے فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ دو بجلی اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس حملوں کی زد میں آئے، جبکہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران متعدد فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔
اسی دوران بحرین میں کئی مرتبہ فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے اور حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
اردن نے بھی تصدیق کی کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 10 ایرانی بیلسٹک میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔ -

ایران نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا
ایران نے امریکا کے ساتھ گزشتہ ماہ طے پانے والی ابتدائی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ چکا تھا، جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے پر عمل روکنے کا فیصلہ کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی تھیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنی تمام متعلقہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں، ہم اس معاہدے پر عمل نہیں کر رہے اور اس وقت اپنی توجہ ملک کے دفاع پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔”
یہ ابتدائی مفاہمتی یادداشت گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ بندی کو ممکن بنانا اور فریقین کو دیگر متنازع امور پر مذاکرات کے لیے وقت فراہم کرنا تھا۔
معاہدے کے تحت امریکا نے بعض پابندیوں میں نرمی کی تھی، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم بعد میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور موجودہ کشیدگی کے دوران متعدد اقدامات واپس لے لیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے قبل ترکیہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ اب "ختم ہو چکا ہے”۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں فوجی کارروائیاں، سفارتی تنازع اور توانائی کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری تنازع کے سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔