ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے اردن میں واقع موافق السلطي (Muwaffaq Salti) ایئر بیس پر کامیاب بیلسٹک میزائل حملہ کیا، جس کے بعد اڈے پر آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم اس دعوے اور مبینہ نقصانات کی آزاد ذرائع یا اردنی اور امریکی حکام کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں امریکی فضائیہ اور ایئر نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے زیر استعمال رہائشی عمارتوں اور بیرکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ایئر بیس کے بعض حصوں میں آگ لگ گئی۔
ایرانی ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں اڈے پر موجود متعدد فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئے۔ تاہم اس حوالے سے بھی کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حملے سے ایک روز قبل 480ویں فائٹر اسکواڈرن کے 12 ایف 16 سی بلاک 50 جنگی طیارے اور 495ویں فائٹر اسکواڈرن کے 9 ایف 35 اے لائٹننگ ٹو طیارے اس ایئر بیس پر تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم ان طیاروں کو نقصان پہنچنے کے دعووں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب امریکی یا اردنی حکام نے اس خبر پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، جبکہ جاری علاقائی کشیدگی کے باعث مختلف فریقین کی جانب سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ
