وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) میں مبینہ طور پر 12 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں دو سابق چیف ایگزیکٹوز کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ متعدد کمپنی ڈائریکٹرز کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹوز احمد سعید اور خورشید عالم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انرجی لمیٹڈ اور کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے پانچ ڈائریکٹرز کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ 2007ء سے 2015ء کے دوران بجلی کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر خردبرد کی گئی۔ ایف آئی اے کے مطابق منظور شدہ نرخوں کے برعکس فیسکو کو بجلی زائد قیمت پر فروخت کی جاتی رہی، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 12 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض معاہدے اور ادائیگیاں قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں تھیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر میاں ادریس کو امریکا روانہ ہونے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ ان سے بھی تحقیقات متوقع ہیں۔ ادارے کے مطابق کیس میں مزید اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مالیاتی ریکارڈ، معاہدوں اور ادائیگیوں کا تفصیلی فرانزک آڈٹ کیا جا رہا ہے تاکہ تمام ذمہ دار افراد کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
یہ مقدمہ حالیہ عرصے میں توانائی کے شعبے میں سامنے آنے والے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس پر کاروباری اور حکومتی حلقوں کی گہری نظر ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

فیسکو میں 12 ارب روپے کے بجلی فراڈ کیس میں 2 سابق چیف ایگزیکٹوز گرفتار
-

ایران میں بجلی کا شدید بحران، طلبہ، مریض اور شہری روزانہ کی لوڈشیڈنگ سے پریشان
ایران میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بحران نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جہاں مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث طلبہ، مریض، کاروباری افراد اور عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی، توانائی کی قلت اور حالیہ فوجی حملوں کے بعد بجلی کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس سے ملک کے مختلف علاقوں میں روزانہ کئی گھنٹوں کی بجلی بندش معمول بن چکی ہے۔
دارالحکومت تہران میں انجینئرنگ کے دو طالب علموں نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی کی بندش نے ان کی تعلیمی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ امتحانات کے دوران بجلی بند ہونے سے یونیورسٹی کے سرورز کام کرنا چھوڑ گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں امتحانات ملتوی کرنا پڑے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال نے ان کی ذہنی کیفیت پر بھی منفی اثر ڈالا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ امتحانات مقررہ وقت پر ہوں گے یا نہیں۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش صرف تعلیم تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ صحت اور روزگار کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ گھروں میں آکسیجن مشینوں یا دیگر طبی آلات پر انحصار کرنے والے مریض شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ ایسی ادویات جنہیں ٹھنڈے ماحول میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، ان کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک آئس کریم فروش کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس میں وہ بجلی نہ ہونے کے باعث تقریباً 180 کلوگرام آئس کریم پگھل جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتا دکھائی دیا۔ اس واقعے نے چھوٹے کاروباروں کو درپیش مالی نقصانات کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے چند ماہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ موسم گرما میں بجلی کی قلت پر قابو پا لیا جائے گا، تاہم حالیہ گرمی کی لہر اور جنوبی ایران میں توانائی سے متعلق تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ کئی شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی طویل بندش معمول بن چکی ہے، جس سے صنعت، تجارت، تعلیم اور گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ -

اردن کا 4 میں سے 3 ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
اردن کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائلوں میں سے تین کو فضائی دفاعی نظام کی مدد سے کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا، جبکہ چوتھا میزائل ملک کے جنوبی حصے میں ایک دور افتادہ اور غیر آباد علاقے میں جا گرا۔
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس واقعے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کا کہنا ہے کہ میزائل گرنے کے مقام کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ خطرے کو بڑی حد تک ناکام بنایا، جس سے آبادی والے علاقوں کو محفوظ رکھا جا سکا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں متعدد ممالک نے اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا بروقت جواب دیا جا سکے۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
اردنی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی ادارے مکمل طور پر تیار ہیں۔ -

اسحاق ڈار اور وینزویلا کے نئے وزیر خارجہ کا رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے وینزویلا کے نومنتخب وزیر خارجہ و وزیر تجارت، فیلکس پلاسینسیا، سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے فیلکس پلاسینسیا کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کی اور حالیہ تباہ کن زلزلوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر وینزویلا کی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں وینزویلا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور امید ہے کہ وینزویلا اس قدرتی آفت سے جلد بحال ہو جائے گا۔
وینزویلا کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے اظہارِ ہمدردی اور تعزیت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے پاکستان کی انسانی ہمدردی پر مبنی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا مظہر ہے۔
فیلکس پلاسینسیا نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے فروغ میں کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی پالیسی کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس کے عزم کی تعریف کی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور وینزویلا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا جائزہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس موقع پر تجارت، سرمایہ کاری، کاروبار، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مشترکہ مواقع سے فائدہ اٹھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی اور کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا اور مشترکہ مفادات کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ -

بھارت: بھوک ہڑتالی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ کا غیرقانونی حراست کا الزام
بھارت میں بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ان کی اہلیہ نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ طبی علاج کے نام پر انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا جا رہا ہے۔
59 سالہ سونم وانگچک 28 جون سے مبینہ طور پر یونیورسٹی امتحانی پرچہ لیک ہونے کے خلاف بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم مستعفی ہوں۔ امتحانی مواد لیک ہونے کے باعث 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو دوبارہ امتحانات دینا پڑے تھے۔
پولیس کے مطابق سونم وانگچک کو ہفتے کے روز عدالتی حکم اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جان بچانے کے لیے فوری طبی نگرانی ضروری تھی۔
دوسری جانب وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے الزام لگایا کہ سرکاری اسپتال میں ان کے شوہر کو آزادانہ طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو نجی اسپتال منتقل کرنا چاہتی تھیں، تاہم انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
گیتانجلی کے مطابق اسپتال کی منزل پر تقریباً 30 پولیس اہلکار جبکہ عمارت میں مجموعی طور پر 100 سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت سخت محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طبی نگہداشت نہیں بلکہ غیرقانونی حراست ہے۔
انہوں نے اس معاملے پر عدالت سے بھی رجوع کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا علاج آزادانہ ماحول میں ہو سکے۔
ادھر اسپتال انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سونم وانگچک نے تاحال ڈاکٹروں کی تجویز کردہ طبی سہولیات اور علاج پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اسپتال کے مطابق طبی ماہرین اور آزادانہ ماہرین کی جانب سے بارہا مشاورت کے باوجود انہوں نے ڈرپ، او آر ایس اور دیگر ادویات لینے سے انکار کیا ہے۔ -

فیفا ورلڈ کپ فائنل: شکیرا اور برنا بوائے کے تاریخی ہاف ٹائم شو کی تیاریاں مکمل
نیو جرسی: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ شکیرا اور نائجیرین سپر اسٹار برنا بوائے کے خصوصی ہاف ٹائم شو کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں، جبکہ ریہرسل کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
شکیرا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ریہرسل کی مختصر ویڈیو اور چند تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو مخاطب کیا اور لکھا، "اتوار کے لیے تیار ہیں، ورلڈ کپ فائنل میں ملاقات ہوگی۔” ان کی پوسٹ کو چند ہی گھنٹوں میں لاکھوں افراد نے پسند کیا، جبکہ دنیا بھر کے فٹبال اور موسیقی کے شائقین نے ہاف ٹائم شو کے لیے بے حد جوش و خروش کا اظہار کیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور یورپی چیمپئن اسپین کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی، تاہم پہلی مرتبہ منعقد ہونے والا ہاف ٹائم شو بھی اس عالمی مقابلے کی ایک بڑی کشش بن گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شکیرا اور برنا بوائے ورلڈ کپ 2026 کے آفیشل ترانے پر پرفارم کریں گے۔ اس خصوصی موسیقی پروگرام کا مقصد فٹبال کے ذریعے عالمی یکجہتی، تعلیم کے فروغ اور فیفا گلوبل سٹیزن ایجوکیشن فنڈ کی حمایت کو اجاگر کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس میوزیکل شو میں کئی دیگر عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے، جن میں جسٹن بیبر، میڈونا، بی ٹی ایس، گستاوو ڈوڈامل، پی ایس 22 کورس، کولڈ پلے کے اراکین، سیسمی اسٹریٹ اور دی مپٹس کے معروف کردار شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم فیفا کی جانب سے ان تمام فنکاروں کی شرکت کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔
منتظمین کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں امریکی سپر باؤل کے انداز کا ہاف ٹائم شو پیش کیا جائے گا، جسے ٹورنامنٹ کی تاریخ کا ایک منفرد اور یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ شو دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین کی توجہ کا مرکز بنے گا اور کھیل کے ساتھ موسیقی کا بھی شاندار امتزاج پیش کرے گا۔ -

ورلڈ کپ فائنل سے قبل پیرو کے جادوگر بھی ارجنٹینا کی حمایت میں متحرک
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل فٹبال کے جوش و خروش کے ساتھ دلچسپ روایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ پیرو میں لیونل میسی کے مداحوں میں شامل بعض روحانی پیشوا اور جادوگر ارجنٹینا کی کامیابی کے لیے اپنی مخصوص رسومات ادا کر رہے ہیں۔
ورلڈ کپ کے فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا اور یورپی چیمپئن اسپین آمنے سامنے ہیں۔ اس بڑے مقابلے سے قبل پیرو کے مختلف علاقوں میں ایسے روحانی پیشوا دیکھے گئے جنہوں نے اپنی روایتی رسومات کے ذریعے ارجنٹینا کی فتح کے لیے دعائیں اور مخصوص مذہبی و ثقافتی اعمال انجام دیے۔
رپورٹس کے مطابق ان روحانی پیشواؤں نے لیونل میسی کی تصاویر اور پوسٹرز کے سامنے خوشبو اور دھونی جلائی، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ رسومات ارجنٹینا کی کامیابی اور میسی کو ہر قسم کی نظرِ بد سے محفوظ رکھنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
پیرو میں لیونل میسی کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور ورلڈ کپ فائنل کے موقع پر ان کی حمایت میں مختلف تقریبات اور دعائیہ اجتماعات بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان روحانی رسومات کو بعض افراد ثقافتی روایت قرار دیتے ہیں، تاہم ان کی کامیابی یا میچ کے نتائج پر کسی اثر کی کوئی سائنسی یا عملی شہادت موجود نہیں ہے۔
ادھر دنیا بھر کے کروڑوں فٹبال شائقین کی نظریں ورلڈ کپ کے فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ٹیمیں عالمی فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز اپنے نام کرنے کے لیے میدان میں اتری ہیں۔
فٹبال ماہرین کے مطابق میچ کا فیصلہ کھلاڑیوں کی کارکردگی، حکمت عملی اور میدان میں کھیل پر ہوگا، جبکہ شائقین اپنی اپنی ٹیموں کی کامیابی کے لیے مختلف انداز میں جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ -

خواتین کو فوری انصاف کی فراہمی، سپریم کورٹ کا خصوصی سہولت مراکز قائم کرنے کا فیصلہ
ملک بھر میں خواتین کو انصاف تک آسان اور مؤثر رسائی فراہم کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے خصوصی خواتین سہولت مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو عدالتی نظام میں بہتر رہنمائی، سہولت اور معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے قانونی حقوق کے حصول میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کریں۔
رپورٹس کے مطابق یہ خواتین سہولت مراکز ملک کے تمام ڈویژنل جوڈیشل کمپلیکسز میں قائم کیے جائیں گے، جہاں خواتین کو مقدمات سے متعلق معلومات، رہنمائی اور دیگر ضروری سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ہونے والے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں خواتین کے لیے عدالتی نظام کو مزید مؤثر، آسان اور دوستانہ بنانے سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد خصوصی سہولت مراکز کے قیام کی منظوری دی گئی۔
اس منصوبے کے لیے جدید اور مؤثر ڈیزائن کے انتخاب کی غرض سے ایک خصوصی ڈیزائن مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف ماہرین اور ڈیزائنرز نے اپنے تصورات پیش کیے۔
عدالتی حکام کے مطابق خواتین سہولت مراکز کے فاتح ڈیزائن کا اعلان کل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوگی، جہاں کامیاب ڈیزائنر کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خواتین کے لیے عدالتی کارروائیوں تک رسائی مزید آسان ہوگی اور انہیں ایک محفوظ، باوقار اور سہولت سے بھرپور ماحول میسر آئے گا۔ توقع ہے کہ یہ مراکز خاص طور پر گھریلو تشدد، ہراسانی، خاندانی تنازعات اور خواتین کے حقوق سے متعلق مقدمات میں مددگار ثابت ہوں گے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو عدالتی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خواتین کے لیے انصاف کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر اور قابلِ رسائی بننے کی امید ہے۔ -

پٹرول اور ڈیزل کی یومیہ قیمتوں کا فیصلہ مسترد، پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کی دھمکی دے دی
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ بنیادوں پر تعین کرنے کے فیصلے کو پٹرولیم سیکٹر کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے مسترد کر دیا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس اہم فیصلے سے قبل ان سے مؤثر مشاورت نہیں کی گئی، جس کے باعث اس پر فوری عملدرآمد ممکن نہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت قیمتوں کا تعین گزشتہ سات دن کی اوسط عالمی قیمت کو بنیاد بنا کر کیا جائے گا۔
تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیشتر کمپنیاں فوری طور پر اس نئے نظام پر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ قیمتوں کے نفاذ سے قبل مرحلہ وار عملدرآمد، آزمائشی مدت اور واضح رہنما اصول جاری کیے جانے چاہییں تاکہ سپلائی چین اور کاروباری نظام متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے بھی حکومتی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ ہفتے ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈیلرز کے تحفظات دور کیے بغیر اس نظام کا نفاذ کاروبار کے لیے شدید مشکلات پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے اسٹاک مینجمنٹ، مالی منصوبہ بندی اور صارفین کو خدمات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سندھ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر امیر خان نے بھی یومیہ قیمتوں کے نظام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے متعلقہ فریقین کے تحفظات دور نہ کیے تو کاروبار بند کرنے سمیت دیگر احتجاجی آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
پٹرولیم سیکٹر کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ پالیسی پر عملدرآمد سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور ایسا قابلِ عمل طریقہ کار اختیار کیا جائے جو صارفین اور کاروباری طبقے دونوں کے مفاد میں ہو۔ -

شیخوپورہ: تھیٹر میں اسٹیج اداکارہ پر مبینہ حملہ، اداکارہ نے جان کو خطرہ قرار دے دیا
شیخوپورہ میں ایک تھیٹر پرفارمنس کے دوران اسٹیج پر ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نوجوان مبینہ طور پر اسٹیج پر چڑھ گیا اور پروگرام میں خلل ڈالا۔ واقعے کے بعد اسٹیج اداکارہ شمع ناز نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شمع ناز نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ راجہ زین نامی شخص ان پر غیر اخلاقی تعلقات قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے اس کی خواہش ماننے سے انکار کیا تو انہیں تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ تھیٹر میں محنت کر کے اپنے خاندان کا رزق کماتی ہیں، مگر بعض عناصر ان کے روزگار کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول کچھ افراد نشے کی حالت میں تھیٹر میں داخل ہو کر اسٹیج پر چڑھ جاتے ہیں اور فنکاروں کے ساتھ بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پروگرام متاثر ہوتا ہے بلکہ فنکاروں کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
شمع ناز نے کہا کہ اگر انہیں یا ان کے اہلِ خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ان کے بقول راجہ زین نامی شخص پر ہوگی۔ انہوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور تھیٹرز میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ فنکار محفوظ ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے پولیس یا نامزد شخص کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ واقعے سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی، جبکہ حکام کی جانب سے تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔