اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلاول بھٹو زرداری کو صوبے میں حالیہ دہشت گردی کی صورتحال، حکومتی اقدامات اور امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں پر بریفنگ دی۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ زیارت واقعے کے متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطہ رکھا گیا اور ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔
وزیراعلیٰ نے بریفنگ میں بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے مطالبے پر زیارت واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے گی، جس میں پارلیمان سے باہر موجود سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہداء کے اہل خانہ کے غم کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے زیارت واقعے کے متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کی کوششوں کو سراہا۔ بلاول بھٹو نے ان اپوزیشن جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا واحد دیرپا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاسی جماعتوں سے بات چیت پر یقین رکھتی ہے، خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔
بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پیپلز پارٹی کا مؤقف پہلے دن سے دوٹوک رہا ہے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔
بلوچستان کے مسائل کا حل صرف مذاکرات ہیں، بلاول بھٹو زرداری
