Baaghi TV

ایران نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا

‎ایران نے امریکا کے ساتھ گزشتہ ماہ طے پانے والی ابتدائی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ چکا تھا، جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے پر عمل روکنے کا فیصلہ کیا۔
‎ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی تھیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی اپنی تمام متعلقہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
‎انہوں نے کہا، "ہم نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں، ہم اس معاہدے پر عمل نہیں کر رہے اور اس وقت اپنی توجہ ملک کے دفاع پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔”
‎یہ ابتدائی مفاہمتی یادداشت گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ بندی کو ممکن بنانا اور فریقین کو دیگر متنازع امور پر مذاکرات کے لیے وقت فراہم کرنا تھا۔
‎معاہدے کے تحت امریکا نے بعض پابندیوں میں نرمی کی تھی، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم بعد میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور موجودہ کشیدگی کے دوران متعدد اقدامات واپس لے لیے۔
‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے قبل ترکیہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر کہہ چکے ہیں کہ یہ معاہدہ اب "ختم ہو چکا ہے”۔
‎ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خطے میں فوجی کارروائیاں، سفارتی تنازع اور توانائی کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری تنازع کے سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔

More posts