اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ اپنی چار سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر تحلیل کر دی گئی، جس کے بعد ملک میں 27 اکتوبر 2026 کو عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ تحلیل ہونے سے قبل وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی حکومت نے متعدد متنازع قوانین بھی منظور کرائے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد کنیسٹ اب انتخابات سے قبل دوبارہ اجلاس نہیں کرے گی۔ انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی تمام بڑی سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو آئندہ انتخابات میں اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سخت سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے آئندہ انتخابات میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی قیادت سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ اور ایک معروف اعتدال پسند سابق فوجی سربراہ کر رہے ہیں، جو موجودہ حکومت کو سخت ٹکر دینے کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں کسی بھی حکومت کا اپنی مکمل چار سالہ آئینی مدت پوری کرنا ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل آخری مرتبہ 1988 میں ایک اسرائیلی حکومت نے قبل از وقت انتخابات کے بغیر اپنی آئینی مدت مکمل کی تھی۔
اسرائیل میں وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے مدت کی کوئی آئینی حد مقرر نہیں ہے۔ بنیامین نیتن یاہو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے رہنما ہیں، تاہم ان کی موجودہ حکومت کا مکمل چار سالہ دورانیہ پورا کرنا بھی اسرائیلی سیاست میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

اسرائیلی پارلیمنٹ مدت پوری ہونے پر تحلیل، 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہوں گے
-

لاہور کے والینسیا ٹاؤن میں خاتون اور تین بچوں کی پراسرار موت
لاہور کے علاقے والینسیا ٹاؤن میں ایک گھر سے خاتون اور ان کے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق چاروں افراد مردہ حالت میں گھر کے اندر پائے گئے، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور گھر کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے ساتھ ساتھ فرانزک ٹیموں کو بھی موقع پر طلب کیا گیا تاکہ تمام ممکنہ شواہد محفوظ کیے جا سکیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے شبہ ہوتا ہے کہ چاروں افراد کی موت ممکنہ طور پر زہریلا مادہ استعمال کرنے یا دیے جانے کے باعث ہوئی ہے، تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں، جبکہ پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
حکام کے مطابق فی الحال واقعے کی نوعیت کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کسی ممکنہ وجہ یا ذمہ دار شخص کے بارے میں باضابطہ طور پر کچھ کہا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واقعے نے علاقے کے مکینوں کو افسردہ اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ -

باب المندب کی ممکنہ بندش پر عالمی تشویش، ماہرین نے معاشی بحران سے خبردار کر دیا
عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے باب المندب بھی متاثر یا بند ہو گئی تو دنیا کو شدید معاشی بحران، تجارتی رکاوٹوں اور توانائی کی سپلائی میں بڑے خلل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دونوں اہم سمندری راستے عالمی تجارت، تیل اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم ایرانی حکام نے کہا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب کو بند کرنے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حوالے سے ایران نے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا اور اگر اس نوعیت کا کوئی فیصلہ ہونا ہے تو وہ حوثی خود کریں گے۔
ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہریوں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تاہم باب المندب کی بندش سے متعلق ایران کی جانب سے کسی عملی اقدام یا اعلان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
معاشی اور بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب میں بھی جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل، قدرتی گیس، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایران اور اس کے اتحادی غیر ریاستی گروہوں کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں تنازع مزید بڑھا تو اس کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور مالیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

پاکستان کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر اظہارِ تشویش، ریاض کو ریڈ لائن قرار دے دیا
پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایک پاکستانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت نے ایران کو اعلیٰ ترین سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہےاور اس پر ہونے والا کوئی بھی حملہ پاکستان کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
روئٹرز کے مطابق پاکستانی حکام نے اس سے قبل بھی رواں سال سعودی عرب پر ایران سے منسوب حملوں پر اپنی تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اس بیان پر پاکستان کی جانب سے باضابطہ سرکاری اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔
ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد حوثیوں کی جانب سے جاری بیان میں سعودی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ ان کے انتباہ کو سنجیدگی سے لیں۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے ایک روز قبل صنعا ایئرپورٹ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے سعودی عرب پر ہونے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے حوثی ملیشیا کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ایسے حملے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش ہیں۔ -

کینیڈا میں 800 سے زائد جنگلاتی آگ بھڑک اٹھیں، دھواں امریکا تک پھیل گیا
کینیڈا میں 800 سے زائد جنگلاتی آگ بدستور بھڑک رہی ہے، جس کے باعث پیدا ہونے والا گھنا دھواں سرحد عبور کرتے ہوئے امریکا کی متعدد ریاستوں تک پہنچ گیا ہے۔ دھویں کی وجہ سے کئی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، جبکہ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دھویں کی دبیز تہہ نے ٹورنٹو، ڈیٹرائٹ، نیویارک اور نیو انگلینڈ کے کئی علاقوں کی فضاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ متعدد علاقوں میں ہوا کے معیار کو "خطرناک” قرار دیتے ہوئے ایئر کوالٹی الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ دھویں میں موجود باریک ذرات سانس کی بیماریوں، دمے، دل کے امراض اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے، کھڑکیاں بند رکھنے اور ضرورت پڑنے پر حفاظتی ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
فضائی آلودگی کے باعث کئی شہروں میں کھیلوں، تفریحی سرگرمیوں اور دیگر آؤٹ ڈور تقریبات کو منسوخ یا ملتوی کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو صحت کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری جانب کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے شمالی علاقے میں ایک بڑے جنگلاتی آگ کے واقعے نے مقامی فرسٹ نیشنز کمیونٹیز کو انخلا پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک مقامی سربراہ نے بتایا کہ ان کی برادری کا علاقہ "راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے” اور لوگوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں سے نکلنا پڑا۔
کینیڈا کے فائر فائٹرز اور امدادی ادارے آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم خشک موسم، تیز ہواؤں اور بلند درجہ حرارت کے باعث کئی علاقوں میں آگ پر قابو پانا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمی حالات میں بہتری نہ آئی تو مزید علاقوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ -

ٹیکساس میں طوفانی بارشوں سے سیلاب، 2 افراد ہلاک
امریکا کی ریاست ٹیکساس میں کئی روز سے جاری موسلا دھار بارشوں کے بعد شدید سیلاب نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 2 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں نے 230 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جو گزشتہ سال جولائی میں بھی تباہ کن سیلاب سے شدید متاثر ہوا تھا۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ امدادی کارروائیوں میں 85 سے زائد کشتیاں، 20 طیارے اور 200 ہائی واٹر ریسکیو گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ سیلاب میں پھنسے افراد کو جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک شخص بھی شامل ہے جو اپنے موبائل ہوم (تفریحی گاڑی) سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 65 سالہ جان مارک اسٹیورڈ کیرول (کیر وِل) کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس ہلاکت کی باضابطہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔
دوسرا متاثرہ 74 سالہ شخص تھا، جس کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس کے مطابق وہ یووالڈی کے قریب گاڑی چلا رہا تھا کہ سیلابی پانی میں پھنس گیا۔ محکمہ پبلک سیفٹی کی ٹیم نے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے دس بجے اس کی گاڑی کو پانی میں بہتے ہوئے دیکھا، بعد ازاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔
ماہرین موسمیات کے مطابق جنوبی ٹیکساس کے بعض علاقوں میں صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً ایک سال کے برابر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید طغیانی آ گئی۔ اگرچہ متاثرہ علاقوں میں موسم کی صورتحال اب بتدریج بہتر ہونے لگی ہے، تاہم حکام نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور سیلابی پانی سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ -

وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 4,930 تک پہنچ گئیں، 50 ہزار افراد تاحال لاپتا
وینزویلا میں گزشتہ ماہ جون کے دوران آنے والے تباہ کن دو زلزلوں کے بعد انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4,930 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 50 ہزار تک افراد اب بھی لاپتا ہیں اور خدشہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔
وینزویلا کے قانون ساز جارج روڈریگیز نے جمعرات کو ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں تباہی کے باعث مکمل معلومات اکٹھی کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
رپورٹس کے مطابق زلزلوں میں تقریباً 17 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 21 ہزار 120 افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہونے کے بعد عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں مکانات، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے تباہ ہونے سے لاکھوں افراد کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوراً بعد ابتدائی امدادی سرگرمیوں کا آغاز عام شہریوں اور رضاکاروں نے کیا، جبکہ سرکاری اداروں کی مؤثر کارروائی بعد میں دیکھنے میں آئی۔ متاثرہ خاتون سنتھیا پولیڈو نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ زلزلے کے فوری بعد مقامی لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی، مگر سرکاری امداد میں تاخیر محسوس کی گئی۔
ایک اور متاثرہ خاتون لوئسماریز پائز نے بتایا کہ وہ بے گھر ہونے کے بعد انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں جو تھوڑی بہت امداد ملتی ہے، وہ صرف اپنی اور اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے، جبکہ ان کی والدہ کو بھی محدود امداد میسر ہے۔
بین الاقوامی امدادی ٹیمیں، جنہوں نے زلزلے کے فوراً بعد امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لیا تھا، اب واپس جا چکی ہیں اور توجہ متاثرین کو خوراک، رہائش، طبی سہولیات اور دیگر انسانی امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ -

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی و توانائی تعاون پر ابتدائی مذاکرات
پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور دوطرفہ شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے ابتدائی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق کویت ایک ایسے سیکیورٹی تعاون کے فریم ورک پر غور کر رہا ہے جو سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون سے مشابہ ہو سکتا ہے۔ اس مجوزہ تعاون میں پاکستانی فوجی تربیت، دفاعی معاونت، فائٹر جیٹس، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام سے متعلق تعاون جیسے مختلف پہلو زیر غور آ سکتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستانی فضائیہ کی کویت میں تعیناتی زیر غور نہیں ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ یا معاہدہ نہیں ہوا۔ حکام نے واضح کیا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو بھی مذاکرات کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ دونوں ممالک باہمی مفادات کے تحت تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں تاکہ اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
تاہم اب تک نہ پاکستان اور نہ ہی کویت کی جانب سے کسی جامع دفاعی یا سرمایہ کاری معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ اس لیے مذاکرات کے حتمی نتائج اور ممکنہ معاہدوں کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ -

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب روزانہ مقرر ہوں گی، وزیر پیٹرولیم
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرے گی۔ ان کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد قیمتوں کے تعین کو مزید شفاف بنانا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک پہنچانا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے تو اس کا ریلیف بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے صارفین تک منتقل کیا جائے۔
علی پرویز ملک کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ایندھن کی قیمتوں میں شفافیت لانے کے ساتھ ساتھ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکے گا۔
وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے تاکہ قیمتوں کے تعین کا عمل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور صارفین کو بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست فائدہ مل سکے۔
تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام کب سے نافذ العمل ہوگا، اس کے طریقہ کار کی تفصیلات کیا ہوں گی، یا موجودہ قیمتوں کے نظرثانی کے نظام میں کس نوعیت کی تبدیلی کی جائے گی۔ امکان ہے کہ اوگرا اس حوالے سے مزید رہنما اصول اور طریقہ کار بعد میں جاری کرے گی۔ -

پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں 44 کروڑ ڈالر سے زائد کے 9 معاہدے
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستانی اور چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے درمیان منعقدہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون سے ملک کے دواسازی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان 44 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبے جلد عملی شکل اختیار کریں گے۔
کانفرنس میں وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام، پاکستان میں چین کے سفیر، پاکستان کے چین میں سفیر اور پاکستانی و چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وزیراعظم نے معاہدوں کی تکمیل میں کاروباری برادری، وزارت صحت، متعلقہ حکام اور دونوں ممالک کے سفارتی عملے کی کوششوں کو سراہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق چین نے عالمی فورمز پر بھی پاکستان کی بھرپور حمایت کی، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تقریباً 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کو دور اندیش رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں چین نے معیشت، تعلیم، تحقیق، صنعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے، جو دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل شعبے میں آج ہونے والے معاہدے مقامی سطح پر ویکسین سازی، بایوٹیکنالوجی، ادویات کی تیاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے، ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے، جس سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت مزید مضبوط ہوگی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے حالیہ علاقائی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والے بحران نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا اور اس عمل میں چین سمیت دوست ممالک نے مکمل تعاون کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان "اسلام آباد انڈرسٹینڈنگ میمورنڈم” کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی باضابطہ بین الاقوامی معاہدے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔
شہباز شریف نے کانفرنس میں شریک تقریباً 300 چینی وفود کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔