Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • چین میں شدید بارشوں کا خطرہ، سیکڑوں دریاؤں میں پانی خطرناک سطح تک پہنچ گیا

    چین میں شدید بارشوں کا خطرہ، سیکڑوں دریاؤں میں پانی خطرناک سطح تک پہنچ گیا

    ‎چین کی وزارتِ آبی وسائل نے ملک میں غیر معمولی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے انتہائی اہم اور چیلنجنگ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ملک اپنے سالانہ سیلابی کنٹرول کے حساس ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو جولائی کے آخری ہفتے سے اگست کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔
    ‎وزارتِ آبی وسائل کے نائب وزیر وانگ باؤ این نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں سال کا سیلابی موسم چین کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ ان کے مطابق شمالی اور جنوبی چین دونوں علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث سیلاب کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ رواں برس سیلابی موسم کے آغاز سے ہی مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے دریاؤں میں شدید طغیانی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
    ‎وزارت کے مطابق اب تک ملک کے بڑے دریائی نظاموں میں 25 بڑے سیلاب ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں پانی کی سطح مقررہ انتباہی حد سے تجاوز کر گئی۔ اس کے علاوہ 609 دریاؤں میں پانی کی سطح خطرے کی حد سے بلند ہو چکی ہے، جو گزشتہ پانچ برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے۔
    ‎حکام نے مزید بتایا کہ 97 چھوٹے اور درمیانے درجے کے دریاؤں میں پانی کی سطح حفاظتی پشتوں کی برداشت کی حد سے بھی اوپر جا چکی ہے، جبکہ 14 دریاؤں میں پانی کی سطح تاریخی بلند ترین سطح کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کو خطرات لاحق ہیں۔
    ‎چینی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے، سیلابی پشتوں کی مسلسل نگرانی، ممکنہ انخلا کے منصوبے تیار رکھنے اور امدادی وسائل کو فوری استعمال کے لیے تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا موجودہ سلسلہ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مزید علاقوں کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • بلاول بھٹو کا مذاکرات پر زور، کشمیر کے لیے ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کی تجویز

    بلاول بھٹو کا مذاکرات پر زور، کشمیر کے لیے ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کی تجویز

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہر مسئلے کا پائیدار حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور احتجاج کرنے والے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کریں جس سے عام شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومتی اقدامات کے اثرات صرف احتجاج میں شریک افراد تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سڑکوں کی بندش اور دیگر رکاوٹوں کے باعث روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس کا بوجھ عام لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے اور ریاستی ادارے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفاد کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تجویز قابل قبول نہیں تو پھر اس کا کوئی مؤثر متبادل حل پیش کیا جانا چاہیے تاکہ موجودہ تعطل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
    ‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان کشمیری عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسا احتجاج مناسب نہیں جس کے نتیجے میں راشن، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہو، کیونکہ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کے معاملے پر ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کا مقصد تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر لانا اور مسائل کا قابل قبول حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے تک احتجاج کو مؤخر کر دیا جانا چاہیے تاکہ مذاکرات اور مشاورت کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔ بلاول بھٹو کے مطابق اب تک نہ حکومت کی جانب سے ان کی تجویز پر کوئی باضابطہ جواب دیا گیا ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے والے گروپوں نے اس حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    ‎عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے نرخوں میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت چار ہزار ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی، جس کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں میں بھی دیکھنے میں آئے۔
    ‎آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کی قیمت 36 ڈالر کمی کے بعد 3 ہزار 994 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کے خریداروں کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
    ‎ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونا 3 ہزار 600 روپے سستا ہونے کے بعد 4 لاکھ 21 ہزار 836 روپےکا ہو گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 86 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 61 ہزار 656 روپے تک آ گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ بین الاقوامی معاشی صورتحال، امریکی ڈالر کی قدر، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے رجحانات سونے کی قیمتوں میں تبدیلی کی اہم وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔
    ‎صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں مزید ردوبدل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ دوسری جانب خریدار قیمتوں میں حالیہ کمی کو خریداری کے لیے بہتر موقع قرار دے رہے ہیں۔

  • امریکی حملوں کے بعد ایران میں بجلی کا نظام دباؤ کا شکار، عوام سے بجلی بچانے کی اپیل

    امریکی حملوں کے بعد ایران میں بجلی کا نظام دباؤ کا شکار، عوام سے بجلی بچانے کی اپیل

    ‎ایران کی وزارتِ توانائی نے شہریوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعد بجلی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حکام نے عوام سے خاص طور پر بجلی کے زیادہ استعمال کے اوقات میں احتیاط برتنے کی درخواست کی ہے۔
    ‎فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارتِ توانائی نے جمعے کو جاری اپنے بیان میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ بجلی کے زیادہ استعمال کے اوقات میں غیر ضروری برقی آلات، خصوصاً ائیر کنڈیشنرز، بند رکھیں تاکہ بجلی کی طلب میں کمی لائی جا سکے۔
    ‎وزارت کے مطابق اس اقدام سے جنوبی صوبوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جہاں ایک جانب شدید گرمی کی لہر جاری ہے اور دوسری جانب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو حالیہ حملوں کے باعث نقصان پہنچا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ بجلی کی بچت سے قومی گرڈ پر دباؤ کم ہوگا اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کو زیادہ مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے گا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد میں توانائی کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوبی علاقوں میں حالیہ دنوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث متعلقہ ادارے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔
    ‎ادھر خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ایرانی پاسداران انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب کا قطر میں امریکی العدید ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ

    ‎ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے دوران امریکی فوجی اڈے پر نصب ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ متعدد اسٹریٹجک فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور خطے میں اس کے فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک اس بات کو سمجھ لیں کہ ایران کی سرخ لکیروں کو عبور کرنے اور ایرانی عوام یا شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی صورت میں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ایران مزید سخت ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
    ‎دوسری جانب اس دعوے پر امریکا یا قطری حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایرانی دعوے میں بیان کیے گئے نقصانات کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
    ‎خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی کاروباری آسانیوں سے متعلق اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی کاروباری آسانیوں سے متعلق اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے مقصد سے ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ 2025 پر تیزی سے عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات یقینی بنانے ہوں گے۔
    ‎وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کاروباری آسانیوں سے متعلق کیے جانے والے اقدامات کی مؤثریت اور عمل درآمد کا جائزہ بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے بھی لیا جائے تاکہ اصلاحات کے حقیقی نتائج کا شفاف انداز میں تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے تمام پالیسی اقدامات پر عمل درآمد کی جامع رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے۔
    ‎اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارت قانون و انصاف، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، بورڈ آف انویسٹمنٹ، وزارت تجارت، وزارت صنعت و پیداوار اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں نے کاروبار دوست قوانین اور پالیسیوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
    ‎اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار کو آسان بنانے کے لیے مختلف قواعد، ضوابط، کاغذی کارروائی اور منظوری کے طریقہ کار کو سادہ بنانے کے مقصد سے 558 اصلاحات پر کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 71 اصلاحاتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد ہو چکا ہے، جبکہ 272 مزید اقدامات پر تیزی سے عمل جاری ہے۔
    ‎حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری برادری کو مختلف ضوابط اور شرائط کی مد میں تقریباً 468.7 ارب روپے کی بچت ہونے کا تخمینہ ہے، جس سے کاروباری لاگت میں کمی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے مزید ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت کاروباری آسانیوں سے متعلق اصلاحات پر عمل درآمد اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کو اہم معیار بنایا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھے گی۔

  • انگلینڈ نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو شکست دے کر سیریز برابر کر دی

    انگلینڈ نے دوسرے ون ڈے میں بھارت کو شکست دے کر سیریز برابر کر دی

    ‎انگلینڈ کے دورے پر بھارتی کرکٹ ٹیم کی مشکلات برقرار ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد بھارت کو ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد تین میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہوگئی۔
    ‎دوسرے ایک روزہ میچ میں بھارتی بیٹنگ لائن انگلش بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ ویرات کوہلی، روہت شرما، شبمن گل اور دیگر اسٹار بلے بازوں پر مشتمل ٹیم مقررہ اوورز میں 233 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
    ‎بھارت کی جانب سے شریاس ائیر نے 66 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جبکہ ویرات کوہلی نے 65 رنز بنا کر ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ تاہم دیگر بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور چھ بھارتی کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے، جس کے باعث ٹیم بڑا مجموعہ بنانے میں ناکام رہی۔
    انگلینڈ کی جانب سے فاسٹ بولرز نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ جوفرا آرچر اور گس ایٹکنسن نے تین، تین وکٹیں حاصل کیں۔

  • کراچی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے شہری جاں بحق

    کراچی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے شہری جاں بحق

    ‎کراچی میں ہیوی ٹریفک کے باعث ہونے والے مہلک حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شہر کے مصروف علاقے یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ افسوسناک واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ سعد کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، تاہم شہری جانبر نہ ہو سکا۔ لاش کو قانونی کارروائی اور ضروری ضابطے مکمل کرنے کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے حادثے میں ملوث واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی، جس سے گاڑی کا بڑا حصہ جل کر تباہ ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابو پا کر صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا گیا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث ڈرائیور کے بارے میں بھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
    ‎کراچی میں ہیوی ٹریفک، بالخصوص واٹر ٹینکروں کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات پر شہریوں میں مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔ متعدد جان لیوا حادثات کے بعد شہری تنظیمیں اور سماجی حلقے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، ڈرائیوروں کی مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
    ‎حکومت سندھ نے حالیہ عرصے میں واٹر ٹینکروں کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے تاکہ گاڑیوں کی نقل و حرکت، رجسٹریشن اور آپریشنل نظام کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔ تاہم تازہ حادثے نے ایک بار پھر شہر میں ہیوی ٹریفک کی حفاظت اور نگرانی سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

  • تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ کی اطلاع، ایک گارڈ جاں بحق

    تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ کی اطلاع، ایک گارڈ جاں بحق

    ‎آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم تنویر الیاس کے قافلے پر مبینہ فائرنگ کی اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش پیدا ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ان کے ایک گارڈ کی جان چلی گئی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    ‎ڈی آئی جی آزاد کشمیر راجہ اکمل نے تنویر الیاس کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں قافلے کے ایک گارڈ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کی تعداد اور ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق واقعہ کس مقام پر پیش آیا اور فائرنگ کن حالات میں ہوئی، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی اصل نوعیت اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎ڈی آئی جی راجہ اکمل نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تمام متعلقہ ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں اور صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
    ‎ادھر سیاسی حلقوں میں واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مختلف رہنماؤں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر توجہ نہ دیں اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات کا انتظار کریں۔

  • کراچی پورٹ نے 138 سالہ تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    کراچی پورٹ نے 138 سالہ تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    ‎کراچی پورٹ نے مالی سال کے اختتام پر اپنی 138 سالہ تاریخ کی بلند ترین کارکردگی کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے کارگو ہینڈلنگ کے شعبے میں نئی کامیابی حاصل کر لی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق بندرگاہ نے گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ مقدار میں درآمدی اور برآمدی سامان ہینڈل کیا، جو ملکی تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
    ‎چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد کے مطابق مالی سال کے دوران کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 5 کروڑ 50 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا، جو بندرگاہ کی 138 سالہ تاریخ میں کسی بھی ایک مالی سال کی سب سے بڑی کارکردگی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے میں کراچی پورٹ پر 27 لاکھ 50 ہزار کنٹینرز کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2 ہزار 15 کارگو جہازوں کو کامیابی سے ہینڈل کیا گیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور آپریشنل استعداد میں بھی بہتری آئی۔
    ‎چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کا کہنا تھا کہ جدید انفراسٹرکچر، مؤثر انتظامی اقدامات اور بندرگاہی سہولیات میں بہتری کے باعث کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہوا۔ ان کے مطابق کراچی پورٹ نہ صرف پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر ریکارڈ کارگو ہینڈلنگ ملکی درآمدات و برآمدات میں بہتری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ان کے مطابق بندرگاہی نظام میں مزید سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مستقبل میں بھی ایسے ریکارڈز قائم کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎کراچی پورٹ کی اس تاریخی کامیابی کو پاکستان کی بحری تجارت اور لاجسٹکس سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف بندرگاہ کی استعداد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے بلکہ عالمی تجارتی نیٹ ورک میں پاکستان کی اہمیت بھی مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔