Baaghi TV

بلاول بھٹو کا مذاکرات پر زور، کشمیر کے لیے ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کی تجویز

PPP

‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ہر مسئلے کا پائیدار حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور احتجاج کرنے والے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کریں جس سے عام شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
‎بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومتی اقدامات کے اثرات صرف احتجاج میں شریک افراد تک محدود نہیں بلکہ عام شہری بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سڑکوں کی بندش اور دیگر رکاوٹوں کے باعث روزمرہ زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس کا بوجھ عام لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
‎انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے اور ریاستی ادارے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفاد کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تجویز قابل قبول نہیں تو پھر اس کا کوئی مؤثر متبادل حل پیش کیا جانا چاہیے تاکہ موجودہ تعطل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان کشمیری عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسا احتجاج مناسب نہیں جس کے نتیجے میں راشن، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہو، کیونکہ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔
‎بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر کے معاملے پر ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کا مقصد تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر لانا اور مسائل کا قابل قبول حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔
‎انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے تک احتجاج کو مؤخر کر دیا جانا چاہیے تاکہ مذاکرات اور مشاورت کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔ بلاول بھٹو کے مطابق اب تک نہ حکومت کی جانب سے ان کی تجویز پر کوئی باضابطہ جواب دیا گیا ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے والے گروپوں نے اس حوالے سے کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے۔

More posts