چین کی وزارتِ آبی وسائل نے ملک میں غیر معمولی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے انتہائی اہم اور چیلنجنگ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ملک اپنے سالانہ سیلابی کنٹرول کے حساس ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو جولائی کے آخری ہفتے سے اگست کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔
وزارتِ آبی وسائل کے نائب وزیر وانگ باؤ این نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں سال کا سیلابی موسم چین کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ ان کے مطابق شمالی اور جنوبی چین دونوں علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث سیلاب کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں برس سیلابی موسم کے آغاز سے ہی مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے دریاؤں میں شدید طغیانی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
وزارت کے مطابق اب تک ملک کے بڑے دریائی نظاموں میں 25 بڑے سیلاب ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں پانی کی سطح مقررہ انتباہی حد سے تجاوز کر گئی۔ اس کے علاوہ 609 دریاؤں میں پانی کی سطح خطرے کی حد سے بلند ہو چکی ہے، جو گزشتہ پانچ برسوں کی اسی مدت کے اوسط کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ 97 چھوٹے اور درمیانے درجے کے دریاؤں میں پانی کی سطح حفاظتی پشتوں کی برداشت کی حد سے بھی اوپر جا چکی ہے، جبکہ 14 دریاؤں میں پانی کی سطح تاریخی بلند ترین سطح کے قریب یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کو خطرات لاحق ہیں۔
چینی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے، سیلابی پشتوں کی مسلسل نگرانی، ممکنہ انخلا کے منصوبے تیار رکھنے اور امدادی وسائل کو فوری استعمال کے لیے تیار رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا موجودہ سلسلہ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مزید علاقوں کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چین میں شدید بارشوں کا خطرہ، سیکڑوں دریاؤں میں پانی خطرناک سطح تک پہنچ گیا
