فیفا ورلڈ کپ سے کوارٹر فائنل میں باہر ہونے کے باوجود ناروے کی قومی فٹ بال ٹیم کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال کیا گیا، جہاں دارالحکومت اوسلو کی سڑکوں پر ایک لاکھ سے زائد مداح اپنے کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہو گئے۔
ناروے کی ٹیم کا ورلڈ کپ کا سفر ہفتے کے روز انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں 2-1 کی شکست کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اگرچہ ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، لیکن شاندار کارکردگی کے باعث کھلاڑیوں کو وطن واپسی پر ہیروز کا درجہ دیا گیا۔
ٹیم کے طیارے کے اوسلو ایئرپورٹ پہنچنے پر روایتی واٹر کینن سلامی دی گئی، جس کے بعد شہر میں خصوصی پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ ہزاروں شائقین قومی پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر موجود رہے اور کھلاڑیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
تقریب کے دوران شاہی گارڈز کی موجودگی میں قومی ٹیم کے کھلاڑی شاہی محل کی سیڑھیوں پر آئے اور ہاتھ ہلا کر مداحوں کی محبت کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شائقین نے نعروں اور تالیوں کی گونج میں اپنی ٹیم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ تقریب کے ابتدائی حصے میں شریک رہے، تاہم انہیں ذاتی مصروفیات کے باعث جشن کے اختتامی لمحات سے قبل روانہ ہونا پڑا۔ اس وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روایتی Viking Row جشن میں شریک نہ ہو سکے۔
تقریب کا اختتام ناروے کی روایتی وائکنگ انداز کی جشن منانے کی تقریب سے ہوا، جس کی قیادت ولی عہد کراؤن پرنس ہاکون نے خود ڈرم بجا کر کی۔ کھلاڑیوں اور مداحوں نے مل کر اس منفرد روایت میں حصہ لیا، جس نے قومی یکجہتی اور کھیل سے محبت کی خوبصورت مثال پیش کی۔
ناروے کی ٹیم اگرچہ ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اس کی جرات مندانہ کارکردگی اور ٹیم اسپرٹ نے شائقین کے دل جیت لیے، جس کا اظہار وطن واپسی پر ہونے والے غیرمعمولی استقبال سے واضح طور پر نظر آیا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود ناروے کی ٹیم کا شاندار استقبال
-

یورپی پروازوں کو خلیجی فضائی حدود سے گریز کی ہدایت
یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث یورپی فضائی کمپنیوں کو خلیجی ممالک کی فضائی حدود میں پروازوں سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ایجنسی کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال، ممکنہ میزائل حملوں اور ڈرون سرگرمیوں کے باعث شہری ہوابازی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں فضائی کمپنیوں کو متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور عمان کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ای اے ایس اے نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں فضائی خطرات تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے ایئرلائنز مسلسل سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے پروازی راستوں میں فوری تبدیلی کریں۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود کے حوالے سے اسی نوعیت کی احتیاطی ہدایات جاری کی تھیں۔ تازہ ہدایت نامہ اس سلسلے کی توسیع قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی نے شہری ہوابازی کے لیے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
فضائی ماہرین کے مطابق اگر یہ پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں تو یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والی کئی پروازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس سے سفر کا دورانیہ بڑھنے، ایندھن کے اخراجات میں اضافے اور فضائی آپریشنز پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
ادھر خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی ایوی ایشن انڈسٹری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ مختلف بین الاقوامی ایئرلائنز پہلے ہی اپنے روٹس کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔ -

چین میں شدید سیلاب، سڑکیں زیرِ آب، گاڑیاں بہہ گئیں، ہزاروں افراد محصور
چین کے شمالی صوبے ہیبئی اور شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے معمولِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ متعدد علاقوں میں سڑکیں مکمل طور پر زیرِ آب آ گئیں، گاڑیاں تیز ریلوں میں بہہ گئیں جبکہ ہزاروں افراد مختلف علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
چینی میڈیا کے مطابق یہ صورتحال طاقتور طوفان باوی (Typhoon Bavi) کے بعد پیدا ہوئی، جس نے رواں سال چین کے مرکزی علاقوں سے ٹکرانے والے سب سے طاقتور طوفان کی شکل اختیار کی۔ طوفان کے باعث مشرقی ساحلی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں اور تیز ہوائیں چلیں، جس سے کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔
صوبہ ہیبئی کے ضلع کوان چینگ میں پانی کی سطح بعض سڑکوں پر دو میٹر سے بھی تجاوز کر گئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی کے تیز بہاؤ میں متعدد گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں اور پھر سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔
ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق کوان چینگ میں تقریباً 1,800 دیہاتی سیلاب کے باعث پھنس گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے ریسکیو کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
ادھر صوبہ لیاؤننگ میں فلیش فلڈ کے خطرے کے پیش نظر سرخ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید شدید بارشیں متوقع ہیں، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔
چینی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جیلن، لیاؤننگ، ہیبئی، شیڈونگ، جیانگ سو اور آنہوئی سمیت کئی صوبوں میں موسلا دھار بارشیں جاری رہیں گی، جس سے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں سیلاب کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، دریا کنارے اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امدادی ادارے مسلسل متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ -

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد ٹیکس کا فیصلہ واپس لے لیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اپنا متنازع فیصلہ واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس منصوبے کی جگہ خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے گی، جسے وہ تمام فریقوں کے لیے زیادہ فائدہ مند قرار دیتے ہیں۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے تفصیلی مشاورت کے بعد کیا۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کے سربراہان، بادشاہوں، امیروں اور دیگر قریبی شخصیات نے انہیں فون کر کے اس معاملے پر نظرثانی کی درخواست کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ کال کرنے والے تمام رہنماؤں کی رائے تھی کہ اس مسئلے کا حل ٹیکس یا ٹول کی بجائے باہمی معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان مشاورتوں کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داری زیادہ مؤثر اور دیرپا ثابت ہوگی۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ان کا ابتدائی منصوبہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹیکس وصول کر کے اس سیکیورٹی کے اخراجات پورے کرنا تھا جو امریکا خطے میں فراہم کرتا ہے۔ تاہم اب ان کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے امریکا میں مجوزہ سرمایہ کاری نہ صرف امریکی معیشت کو فائدہ پہنچائے گی بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنائے گی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری کے معاہدے غیر معمولی نوعیت کے ہوں گے اور خلیجی ممالک کے لیے بھی بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئے معاشی تعاون سے خطے میں استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ ملے گا۔
صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو عالمی تجارتی اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس فیصلے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بین الاقوامی تجارت اور شپنگ لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم فیصلے کی واپسی سے ان خدشات میں کمی آنے کی توقع ہے۔ -

ایران نے مفاہمتی یادداشت ختم قرار دے دی، آبنائے ہرمز پر اسٹریٹیجک پلان منظور
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور مخالف فریق کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی اور موجودہ حالات میں اسے ختم شدہ تصور کیا جا رہا ہے۔
تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم رضاعی نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد دشمن باضابطہ طور پر جنگ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق مخالف فریق نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے باعث ایران خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات ایرانی پارلیمنٹ میں آبنائے ہرمز کی سلامتی، دفاع اور پائیدار ترقی سے متعلق ایک اسٹریٹیجک ایکشن پلان پیش کیا گیا، جسے پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے تاکہ ایران اپنے قومی مفادات اور اہم بحری گزرگاہ کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔
ابراہیم رضاعی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس صورتحال میں ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے مطابق فیصلے کرے گا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال مسلسل کشیدہ ہے اور مختلف ممالک اس تنازع کے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کی جانب سے منظور کیے گئے اسٹریٹیجک منصوبے کی تفصیلات اور اس کے عملی اقدامات پر عالمی برادری کی گہری نظر رہے گی۔ -

کل سورج عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، قبلے کی سمت معلوم کرنے کا نادر موقع
سالانہ فلکیاتی مظہر کے تحت بدھ 15 جولائی کو سورج چند لمحوں کے لیے عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، جس کے باعث خانہ کعبہ کا سایہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ ایک قدرتی اور منفرد فلکیاتی واقعہ ہے، جو ہر سال مخصوص اوقات میں پیش آتا ہے۔
جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ پر سورج 90 درجے کے زاویے پر خانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہوگا۔ اس لمحے سورج اور خانہ کعبہ ایک ہی عمودی خط پر ہوں گے، جس کی وجہ سے چند لمحوں کے لیے خانہ کعبہ کا کوئی سایہ نظر نہیں آئے گا۔
پاکستان میں یہ منظر دوپہر 2 بج کر 26 منٹ اور 44 سیکنڈ پر دیکھا جا سکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وقت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے قبلے کی درست سمت معلوم کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔
اس فلکیاتی مظہر کے دوران اگر کوئی شخص دھوپ میں سیدھا کھڑا ہو اور سورج کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی جگہ کا مشاہدہ کرے تو وہ بغیر قطب نما، موبائل ایپ یا کسی دوسرے آلے کے قبلے کی درست سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات اور دینی ادارے ہر سال اس موقع کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب سورج اپنے ظاہری سالانہ سفر کے دوران خطِ سرطان اور خطِ استوا کے درمیان حرکت کرتے ہوئے ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں اس کی عمودی شعاعیں براہِ راست خانہ کعبہ پر پڑتی ہیں۔
فلکیاتی ماہرین نے شہریوں، مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھروں، عبادت گاہوں اور دیگر مقامات پر قبلے کی سمت کی درستگی کی جانچ کر سکتے ہیں۔ -

جزیرہ کیش پر بمباری، قشم اور خوزستان میں دھماکے، کویت میں بھی خطرے کے سائرن بج اٹھے
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے جزیرہ کیش پر فضائی حملے کیے، جن میں کیش بندرگاہ پر لنگر انداز متعدد کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
ایرانی میڈیا نے بھی مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے اہم جزیرے قشم میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جنوبی صوبے خوزستان میں بھی ایک دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ حکام نے ان واقعات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب کویتی میڈیا اور ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فضائی دفاعی نظام متحرک ہے اور دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کویتی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام دفاعی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ادھر ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب کسی بھی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد باقی نہیں رہا کیونکہ دشمن نے تمام شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باضابطہ طور پر جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور حالیہ حملوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی سنگین کوشش قرار دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال تشویشناک، متعدد دریاؤں میں پانی خطرے کی سطح سے بلند
بنگلہ دیش کے فلڈ فورکاسٹنگ اینڈ وارننگ سینٹر (ایف ایف ڈبلیو سی) نے ملک میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر خصوصی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق پانچ بڑے دریا مختلف مقامات پر خطرے کی سطح سے بلند بہہ رہے ہیں، جس کے باعث متعدد اضلاع میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایف ایف ڈبلیو سی کی جانب سے جاری خصوصی بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت سات مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنز پر پانچ بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد سے اوپر ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو احتیاطی اقدامات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چٹاگانگ، کاکس بازار اور بندربن میں سیلابی صورتحال آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بتدریج بہتر ہونے کا امکان ہے، تاہم مکمل معمول پر آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک سے تین روز کے دوران کئی دیگر اضلاع کے نشیبی علاقوں میں قلیل مدتی سیلاب پیدا ہو سکتا ہے۔ ان متاثر ہونے والے علاقوں میں فینی، چٹاگانگ، کھاگرچھڑی، سلہٹ، نیٹروکونا، شیرپور، میمن سنگھ، لالمونیرہاٹ، کوریگرام اور گائباندھا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل بارشوں اور پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ برقرار ہے، جس سے نشیبی آبادیوں، زرعی زمینوں اور رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حکام نے دریا کنارے آباد شہریوں کو محتاط رہنے، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی تلقین کی ہے۔ امدادی اداروں کو بھی ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ -

ترک صدر اردوان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دو روزہ سرکاری دورۂ ترکیہ کے دوران انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک ایوانِ صدر کے مطابق یہ ملاقات انقرہ ایئرپورٹ پر ہوئی، جہاں صدر رجب طیب اردوان قطر کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملے۔ ملاقات بند کمرے میں منعقد ہوئی، جس میں ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائر اکتاراولو اور قومی انٹیلی جنس ادارے (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ابراہیم قالن بھی شریک تھے۔
اگرچہ سرکاری سطح پر ملاقات کی تفصیلی اندرونی گفتگو جاری نہیں کی گئی، تاہم سفارتی اور دفاعی حلقوں کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک۔ترک دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں، علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور اسٹریٹجک تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی روابط مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، ڈرون ٹیکنالوجی، بحری منصوبوں، عسکری تربیت اور دیگر دفاعی شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔
اس سے ایک روز قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچوق بائر اکتاراولو سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر انہیں ترکیہ کی مسلح افواج کے اعلیٰ فوجی اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ دونوں ممالک نے فوجی تعلقات، پیشہ ورانہ تعاون اور دفاعی اشتراک کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
دفاعی مبصرین کے مطابق صدر رجب طیب اردوان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ ملاقات پاکستان اور ترکیہ کے مضبوط برادرانہ تعلقات کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام، دفاعی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر متفق ہیں۔ -

400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹمز سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
400 کلو گرام چاندی چوری اور اسمگلنگ کیس میں تحقیقات نے اہم موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مزید پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں محکمہ کسٹمز کے سابق کلکٹر کرم الٰہی بھی شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل اسی مقدمے میں دو کسٹم افسران عارف اور سمیع اللہ کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 214 کلو گرام چاندی اور 49 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ برآمدگی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے مقدمے کے مزید پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔
تحقیقات کے مطابق اپریل میں محکمہ کسٹمز کے ریکارڈ میں موجود 400 کلو گرام چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا، جس کے بعد چاندی کی چوری اور اسمگلنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ ان سے مزید پوچھ گچھ کی جا سکے۔ تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث ہیں اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ادارے کے مطابق کیس میں دو انسپکٹرز سمیت دیگر مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور شواہد کی بنیاد پر نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چاندی کی چوری اور اسمگلنگ کے اس مقدمے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق تمام ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایف آئی اے نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سرکاری املاک میں خورد برد اور اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔