امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے جزیرہ کیش پر فضائی حملے کیے، جن میں کیش بندرگاہ پر لنگر انداز متعدد کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
ایرانی میڈیا نے بھی مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے اہم جزیرے قشم میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جنوبی صوبے خوزستان میں بھی ایک دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ حکام نے ان واقعات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب کویتی میڈیا اور ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فضائی دفاعی نظام متحرک ہے اور دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کویتی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام دفاعی اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ادھر ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب کسی بھی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد باقی نہیں رہا کیونکہ دشمن نے تمام شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باضابطہ طور پر جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور حالیہ حملوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی سنگین کوشش قرار دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
جزیرہ کیش پر بمباری، قشم اور خوزستان میں دھماکے، کویت میں بھی خطرے کے سائرن بج اٹھے
