چین کے شمالی صوبے ہیبئی اور شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے معمولِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ متعدد علاقوں میں سڑکیں مکمل طور پر زیرِ آب آ گئیں، گاڑیاں تیز ریلوں میں بہہ گئیں جبکہ ہزاروں افراد مختلف علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
چینی میڈیا کے مطابق یہ صورتحال طاقتور طوفان باوی (Typhoon Bavi) کے بعد پیدا ہوئی، جس نے رواں سال چین کے مرکزی علاقوں سے ٹکرانے والے سب سے طاقتور طوفان کی شکل اختیار کی۔ طوفان کے باعث مشرقی ساحلی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں اور تیز ہوائیں چلیں، جس سے کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔
صوبہ ہیبئی کے ضلع کوان چینگ میں پانی کی سطح بعض سڑکوں پر دو میٹر سے بھی تجاوز کر گئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی کے تیز بہاؤ میں متعدد گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں اور پھر سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔
ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق کوان چینگ میں تقریباً 1,800 دیہاتی سیلاب کے باعث پھنس گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے ریسکیو کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
ادھر صوبہ لیاؤننگ میں فلیش فلڈ کے خطرے کے پیش نظر سرخ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مزید شدید بارشیں متوقع ہیں، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔
چینی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جیلن، لیاؤننگ، ہیبئی، شیڈونگ، جیانگ سو اور آنہوئی سمیت کئی صوبوں میں موسلا دھار بارشیں جاری رہیں گی، جس سے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں سیلاب کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، دریا کنارے اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ امدادی ادارے مسلسل متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
چین میں شدید سیلاب، سڑکیں زیرِ آب، گاڑیاں بہہ گئیں، ہزاروں افراد محصور
