خیرپور کے کچے کے علاقے احمد پور میں ایک ہفتے کے دوران پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے تین بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ متعدد دیگر بچے بھی اسی نوعیت کی بیماری میں مبتلا ہیں، جس کے باعث والدین سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور فوری طبی امداد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ورثا کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کو ابتدا میں تیز بخار اور مسلسل الٹی کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو گمبٹ اور خیرپور کے اسپتالوں میں بھی دکھایا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے بیماری کی واضح تشخیص نہیں بتائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ علاج کے باوجود بچوں کی حالت بگڑتی گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔
متاثرہ خاندان نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں اور طبی ٹیموں کو بھیجا جائے تاکہ بیماری کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ اہلخانہ کے مطابق گاؤں کے کئی دوسرے بچے بھی بخار اور دیگر علامات میں مبتلا ہیں، اس لیے خدشہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ تینوں بچوں کا انتقال اسپتال میں نہیں ہوا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق بیماری کی نوعیت جاننے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر نمونے لیبارٹری بھیجے جائیں گے۔
واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں بھی خیرپور میں بچوں میں مختلف متعدی بیماریوں کی علامات سامنے آئی تھیں، جن میں ایم پاکس، خسرہ اور چکن پاکس شامل تھے۔ اس دوران متعدد بچوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا جبکہ دس روز کے اندر سات بچوں کے انتقال کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
اس وقت کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے بتایا تھا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے صرف چار میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر بچے خسرہ، چکن پاکس، غذائی قلت اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا شکار تھے۔ موجودہ واقعے کے بعد ایک بار پھر صحت کے نظام اور بیماریوں کی بروقت تشخیص پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقے میں فوری طبی سروے اور احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
خیرپور میں پراسرار بیماری سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق
