نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے سارک کے سیکریٹری جنرل محمد غلام سرور نے ملاقات کی، جس میں جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون، رابطہ کاری اور سارک کو مزید فعال بنانے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے سارک سیکریٹری جنرل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سارک کے عمل اور خطے میں تعاون کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سارک کو اپنے منشور اور بنیادی اصولوں کے مطابق مؤثر اور فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں بے پناہ آبادی، قدرتی وسائل اور معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری، پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط اور متحرک سارک ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ رکن ممالک کے درمیان تعاون، اعتماد اور باہمی روابط میں اضافہ ہی خطے کے عوام کی ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس موقع پر سارک کے سیکریٹری جنرل محمد غلام سرور نے پاکستان کی مسلسل حمایت اور تنظیم کے لیے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی تعاون کے فروغ اور سارک کے مقاصد کے حصول میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
محمد غلام سرور نے مزید کہا کہ پاکستان نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، جسے خطے کے ممالک قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جنوبی ایشیا کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور سارک کو مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اسحاق ڈار کی سارک سیکریٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر زور
