پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اسٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں 730 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 15.83 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو 750 ملین ڈالر کے یوروبانڈز بھی موصول ہوئے ہیں، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر اب 21.27 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس تقریباً 5.44 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے خالص ذخائر 15 ارب 83 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور کرنسی کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد ذخائر میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو متوقع ہے، جس میں حتمی منظوری دی جا سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ نہ صرف مالی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں توازن ضروری ہے۔
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 750 ملین ڈالر یوروبانڈز موصول
