ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور اسی وقت منعقد ہوگا جب دونوں فریق حالات کو سازگار سمجھیں گے اور تاریخ و مقام پر باہمی اتفاق رائے ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کسی مخصوص تاریخ کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی مذاکرات کے انعقاد کے حوالے سے قطر کے ساتھ معمول کے مطابق مشاورت جاری ہے، تاہم دوحا میں کل مذاکرات ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس اور بعض عرب میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور امریکا کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات پیر کے روز دوحا میں ہونے والے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کے تازہ بیان کے بعد ان رپورٹس پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے سفارتی عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث مذاکرات کی ٹائم لائن غیر واضح ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مستقبل میں مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکا کے دوحا مذاکرات غیر یقینی کا شکار، ایران نے کل مذاکرات کی تردید کر دی
