امریکا کی ریاست مشی گن میں ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا، جہاں تقریباً ایک دہائی قبل ٹوائلٹ میں گر کر گم ہونے والی منگنی کی انگوٹھی بالآخر اپنی اصل مالک تک پہنچ گئی۔ اس غیر معمولی واقعے نے نہ صرف انگوٹھی کی مالک بلکہ اسے تلاش کرنے والی ٹیم کو بھی جذباتی کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مقامی پلمبنگ کمپنی کے کارکن شاپنگ پلازہ میں سیوریج لائن کی مرمت کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک پائپ کے اندر انہیں ایک چمکتی ہوئی چیز نظر آئی۔ کمپنی کے مالک گریگ جانسن نے بتایا کہ جب انگوٹھی نکالی گئی تو ٹیم نے فیصلہ کیا کہ اس کے اصل مالک کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
اس مقصد کے لیے پلمبنگ کمپنی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انگوٹھی ملنے کی اطلاع دی گئی۔ یہ پوسٹ دیکھنے کے بعد ایک خاتون، جو ماضی میں اسی علاقے میں کام کرتی تھیں، نے کمپنی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ تقریباً دس سال پہلے ایک گاہک کی منگنی کی انگوٹھی ٹوائلٹ میں گر گئی تھی۔ اس وقت اسے نکالنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی لیکن کامیابی نہیں مل سکی تھی۔
خاتون نے انگوٹھی کی مالک کیرول اورم سے رابطہ کیا، جس کے بعد کیرول پلمبنگ کمپنی کے دفتر پہنچیں۔ کمپنی کے جنرل منیجر جیسن میٹزنک کے مطابق جیسے ہی کیرول نے انگوٹھی دیکھی، انہوں نے فوراً اسے پہچان لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی انگوٹھی ہے جو انہیں 1965 میں شادی کے موقع پر ملی تھی۔
سیوریج لائن میں دس سال تک رہنے کی وجہ سے انگوٹھی بری طرح آلودہ ہو چکی تھی اور اس کی اصل چمک ختم ہو گئی تھی۔ بعد ازاں ایک مقامی سنار نے اسے صاف کر کے دوبارہ پالش کیا، جس سے وہ اپنی پہلی جیسی خوبصورتی میں واپس آ گئی۔
جیسن میٹزنک کے مطابق جب کیرول نے دوبارہ اپنی انگوٹھی انگلی میں پہنی تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ پلمبنگ کمپنی کے عملے نے بھی اس یادگار لمحے کو اپنی زندگی کے خوشگوار ترین تجربات میں سے ایک قرار دیا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

دس سال بعد گمشدہ منگنی کی انگوٹھی مالک کو واپس مل گئی
-

ٹک ٹاک کی 60 فیصد ویڈیوز اے آئی سے تیار ہونے کا انکشاف
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹک ٹاک پر صارفین کو دکھائی جانے والی تقریباً 60 فیصد ویڈیوز مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں۔ امریکی کمپنی کیپ ونگ کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر اے آئی سے بننے والے مواد کی شرح دیگر ویڈیو پلیٹ فارمز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی تعداد یوٹیوب کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹک ٹاک کا الگورتھم کم معیار یا خودکار طریقے سے تیار کیے گئے مواد کو بھی وسیع پیمانے پر صارفین تک پہنچا رہا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کم عمر صارفین اس رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں سے متعلق مواد میں اے آئی ویڈیوز کی بھرمار دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق کارٹون کڈز ہیش ٹیگ کے تحت موجود تقریباً تمام ویڈیوز مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہیں، جبکہ ہر 100 ویڈیوز میں صرف 3 ویڈیوز ایسی ہوتی ہیں جو حقیقی انسانوں نے بنائی ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بچے ٹک ٹاک کو تعلیمی یا تفریحی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان کی فیڈ میں بڑی تعداد میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز آنے لگتی ہیں۔ اگر کوئی صارف ایسے مواد میں دلچسپی ظاہر کرے تو ٹک ٹاک کا الگورتھم مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز دکھانے لگتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی مسلسل نمائش بچوں کی ذہنی نشوونما، تخلیقی صلاحیتوں اور حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔
واضح رہے کہ ٹک ٹاک نے نومبر 2025 میں ایسے نئے فیچرز متعارف کرائے تھے جن کے ذریعے صارفین اپنی فیڈ میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی مقدار کو اپنی پسند کے مطابق کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ -

امریکا، ایران مذاکرات میں پیشرفت، جے ڈی وینس کا اہم بیان
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے، تاہم ابھی کئی اہم مراحل طے ہونا باقی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت، جوہری پروگرام اور دیگر اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بھی مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے منجمد اثاثے جاری کیے جاتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ رقوم صرف ایرانی عوام کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی اور بنیادی ضروریات پر خرچ ہوں، نہ کہ کسی عسکری یا غیر قانونی سرگرمی کے لیے۔
جے ڈی وینس نے لبنان کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ ڈرون حملوں اور سرحدی کشیدگی کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے لیے تمام فریقین کا ذمہ دارانہ کردار ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا کو دھمکیاں دی گئیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقائق واضح کرنے اور امریکی مؤقف پیش کرنے کے لیے بیانات جاری کریں گے، جبکہ وہ خود بھی ضرورت پڑنے پر عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکا نے حال ہی میں ایران کے لیے 60 روزہ جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھانا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت ماحول پیدا کرنا ہے۔ -

پاکستان اور قطر نے امریکا ایران مذاکرات کو تعطل سے بچا لیا
سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات ایک مرحلے پر تعطل کا شکار ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے مذاکراتی عمل کو ناکامی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی بروقت ثالثی کے باعث فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف شدید برہم ہو گئے تھے، جس کے باعث مذاکرات کا ماحول کشیدہ ہو گیا اور بات چیت کا جاری رہنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس نازک صورتحال میں پاکستان اور قطر کے نمائندے، جو سوئٹزرلینڈ میں بطور ثالث موجود تھے، سرگرم ہوئے اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماحول میں پیدا ہونے والی تلخی کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ایرانی وفد سے اہم رابطے کیے اور انہیں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی ناراضی کے باعث مذاکرات کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کرنا پڑی، جس کے بعد مختلف امور پر مرحلہ وار پیش رفت کا نیا فارمیٹ اختیار کیا گیا۔ اس حکمت عملی کے تحت ایک معاملے میں پیش رفت کے ساتھ دوسرے معاملات پر بھی بات چیت آگے بڑھائی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کو دی جانے والی ابتدائی رعایت مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے، جبکہ آئندہ پیش رفت کا انحصار امریکی محکمہ خزانہ کے مزید اقدامات پر ہوگا۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیانات کو بھی مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے ایک مرتبہ پھر خطے میں دونوں ممالک کے ثالثی کردار کو نمایاں کیا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے خطے میں کشیدگی میں کمی اور مستقبل میں مزید مثبت پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ -

قطر کے گیس پلانٹ میں دھماکا، 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی
دوحہ: قطر کے صنعتی شہر راس لفان میں واقع برزان گیس سپلائی پلانٹ میں اتوار کی شام ہونے والے زور دار دھماکے اور اس کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق جبکہ 66 افراد زخمی ہو گئے۔ قطری حکام نے پیر کے روز اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
قطر کے وزیر توانائی اور قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد بن شریدہ الکعبی کے مطابق دھماکا پلانٹ کی مرمت کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کرنے کے دوران پیش آیا۔ انہوں نے واقعے کو ایک تکنیکی حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق حادثہ اسٹارٹ اپ مرحلے میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں قطر، افریقی ممالک اور مختلف ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد کسی قسم کے گیس لیک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
برزان گیس پلانٹ قطر میں قدرتی گیس کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں سے بنیادی طور پر ملکی بجلی گھروں اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کو گیس فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پلانٹ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث کچھ عرصے سے بند تھا اور مرمت کے بعد دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا۔
قطر انرجی نے واضح کیا ہے کہ اس حادثے کے باوجود ملک کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات متاثر نہیں ہوئیں اور راس لفان میں موجود دیگر تنصیبات معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ یہ واقعہ توانائی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ -

امجد حسین ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب
گلگت: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر عمران ندیم نے ان کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے بعد وہ گلگت بلتستان کے پانچویں منتخب وزیراعلیٰ بن گئے۔
اسمبلی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کسی دوسرے امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے، جس کے باعث امجد حسین ایڈووکیٹ بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ ایوان میں موجود تمام ارکان نے ان کی حمایت کا اظہار کیا اور ان کے انتخاب کو اتفاق رائے سے مکمل کیا گیا۔
امجد حسین ایڈووکیٹ حالیہ عام انتخابات میں حلقہ جی بی اے 1 گلگت سے کامیاب ہوئے تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر بھی ہیں اور خطے کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2010 سے 2015 تک گلگت بلتستان کونسل کے رکن رہ چکے ہیں، جبکہ 2020 کے انتخابات میں بھی انہوں نے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
نومنتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر باقاعدہ طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم بلامقابلہ گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ایڈووکیٹ بلامقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔ ان انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان حکومت سازی کا اتحاد مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اراکین کی درخواست پر اسپیکر عمران ندیم نے مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمان کو اپوزیشن لیڈر قرار دے دیا ہے، جس کے بعد اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی صف بندی بھی مکمل ہو گئی ہے۔ -

جے ڈی وینس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی نوید سنادی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف اہم معاملات پر مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات ایک جامع اور کامیاب معاہدے کی بنیاد ثابت ہوں گے۔
برگن اسٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مختلف امور پر مسلسل کام کر رہی ہیں اور متعدد معاملات میں نمایاں پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ مذاکرات میں ایرانی وفد کے ساتھ مختلف نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بات چیت آگے بڑھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے، جبکہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ جوہری معائنہ کاروں کی تعیناتی ممکنہ طور پر اسی ہفتے شروع ہو سکتی ہے، بلکہ اس کا آغاز آج بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا ایک ایسا حتمی معاہدہ چاہتا ہے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے۔ ان کے مطابق امریکا کی خواہش ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو، علاقائی جنگ بندی کو مضبوط بنایا جائے اور ایران کے منجمد اثاثے ایرانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوں۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکا لبنان کی صورتحال پر بھی توجہ دے رہا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ سیکیورٹی خدشات کو دور کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ بڑھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایسا شفاف نظام قائم کرنا چاہتا ہے جس کے تحت ایران کے مالی وسائل صرف عوامی فلاح اور معاشی بہتری کے لیے استعمال ہوں، نہ کہ دہشت گردی یا عسکری سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے۔ ان کے مطابق آئندہ چند دنوں اور ہفتوں میں تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور مزید پیشرفت کی توقع ہے۔ -

قانون توڑنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، طلال چوہدری
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی، چاہے وہ کراچی کا ہو یا لاہور کا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت جرائم، منشیات اور دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ بعض ارکان نے کراچی میں منشیات کے ایک مبینہ کردار کا ذکر کیا، تاہم حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جو بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوگا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد انسداد منشیات کے بیشتر معاملات صوبوں کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، اس لیے صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی انسداد منشیات فورسز قائم کریں اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کریں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ وزیراعظم کی منظوری سے انسداد منشیات فورس (اے این ایف) میں مزید 500 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا سکیں۔
طلال چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں صوبوں کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1890 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ بڑی تعداد افغان شہریوں پر مشتمل تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے 95 فیصد واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے، جن میں 783 شہری شہید اور 1767 افراد زخمی ہوئے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا اسمارٹ سٹی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کی جدید جیل بھی تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں خواتین اور بچوں کے لیے بھی الگ اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ -

امریکا نے ایرانی تیل پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے لیے ایک جنرل لائسنس جاری کرتے ہوئے ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر عائد تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے سے متعلق بعض پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی فضا کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جاری کیے گئے جنرل لائسنس کے تحت ایران کو خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اجازت 21 اگست 2026 تک مؤثر رہے گی، جس کے دوران ایران عالمی منڈی میں تیل فروخت کر سکے گا۔
لائسنس کے مطابق ایرانی خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی بھی عارضی اجازت دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ اس پالیسی میں اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ امریکا گزشتہ کئی برسوں سے ایرانی تیل کی فروخت اور برآمدات پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے تھا۔
چند روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مجوزہ امریکا ایران معاہدے کے تحت واشنگٹن مخصوص مدت کے لیے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کرنے کی اجازت ملے گی۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ -

لبنان اپنے فیصلے خود کرے گا، صدر جوزف عون
بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے، تاہم لبنان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں صدر جوزف عون نے واضح کیا کہ لبنان کی خودمختاری اور قومی فیصلے صرف لبنانی ریاست کا اختیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی جانب سے کسی بھی معاملے پر مذاکرات کرنے کا حق صرف ریاست کو حاصل ہے اور کوئی فرد یا گروہ ریاست کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔
لبنانی صدر نے کہا کہ ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک جماعت یا گروہ پر۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی اور داخلی استحکام کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
جوزف عون نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ ان کے مطابق سیاسی مسابقت جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن اس مسابقت کو ریاست کی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت متعدد سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس لیے تمام قومی قوتوں کو اتحاد، ذمہ داری اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ملک کو درپیش مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔
صدر جوزف عون کا کہنا تھا کہ لبنان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ہر مثبت سفارتی کوشش کی حمایت کرتا ہے، لیکن قومی خودمختاری اور آزادانہ فیصلوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔