بہاولپور: شیر باغ چڑیا گھر میں خوشی کی ایک اور خبر سامنے آئی ہے جہاں شیرنی سامسن نے تین صحت مند بچوں کو جنم دیا ہے۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق نومولود بچوں اور ان کی ماں کی حالت تسلی بخش ہے اور دونوں کو خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
شیر باغ چڑیا گھر کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فیاض نے بتایا کہ شیرنی اور اس کے تینوں بچوں کو انتہائی نگہداشت کے لیے ایک علیحدہ انکلوژر میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ماہر عملہ مسلسل ان کی صحت اور نشوونما پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انتظامیہ کے مطابق شیرنی کو غذائیت سے بھرپور قیمہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ صحت مند رہے اور اپنے بچوں کی بہتر انداز میں دیکھ بھال کر سکے۔ دوسری جانب نومولود بچے اپنی ماں کا دودھ پی رہے ہیں اور ان کی نشوونما معمول کے مطابق جاری ہے۔
چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈھائی ماہ قبل ایک اور شیرنی مانو نے بھی دو بچوں کو جنم دیا تھا۔ تازہ پیدائش کے بعد شیر باغ چڑیا گھر میں شیروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے، جو چڑیا گھر کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق جانوروں کی افزائش نسل کے کامیاب پروگرام اور بہتر نگہداشت کے باعث چڑیا گھر میں جنگلی حیات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نومولود بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہو کر عوام کی توجہ کا مرکز بن سکیں۔
شیر باغ چڑیا گھر بہاولپور ملک کے اہم چڑیا گھروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف اقسام کے جنگلی جانوروں کی افزائش، نگہداشت اور تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

شیر باغ چڑیا گھر میں شیرنی نے تین بچوں کو جنم دے دیا
-

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر بلامقابلہ منتخب
گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے درمیان سیاسی اتحاد قائم ہو گیا ہے۔ تینوں جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو گئے، جس سے حکومت سازی کا عمل مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق اسپیکر نذیر احمد نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم بلامقابلہ نئے اسپیکر منتخب ہو گئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان ایڈووکیٹ بلامقابلہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔
اسپیکر کے انتخاب کے بعد سابق اسپیکر نذیر احمد نے نومنتخب اسپیکر عمران ندیم سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد انہوں نے اسمبلی کی کارروائی نئے اسپیکر کے حوالے کر دی، جس کے ساتھ ہی نئی پارلیمانی قیادت نے اپنے فرائض سنبھال لیے۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا، جس کے باعث دونوں عہدوں پر بلا مقابلہ انتخاب ممکن ہوا۔
سیاسی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے انتخاب میں بھی کسی مقابلے کا امکان کم ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی اتحاد کے امیدوار کو بلا مقابلہ کامیابی حاصل ہو جائے گی۔
حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو پہلے مسلم لیگ (ن) کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بعد ازاں استحکام پاکستان پارٹی نے بھی اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے گلگت بلتستان میں مشترکہ حکومت بنانے کی دعوت دی تھی، جسے عبدالعلیم خان نے قبول کر لیا۔
عبدالعلیم خان نے گفتگو کو خوشگوار اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر آئینی عہدوں کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کرے گی تاکہ گلگت بلتستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کی جا سکے۔ -

نعیم قاسم کا اسرائیل کو لبنان چھوڑنے کا مطالبہ
بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اسرائیل اور امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف حملے پر آمادہ تو کر لیا، لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ان کے بقول ایران آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہے۔
اپنے بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتا اور اسے جنوبی لبنان سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو لبنان ہر قسم کی جارحیت کا مناسب جواب دے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کو خطے کا جارح فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اسرائیلی کارروائیوں کا جواب دیا جائے گا۔
نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے شہری علاقوں پر حملے، بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں اور گھروں کی تباہی اس کی طاقت کی علامت نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی کمزوری اور تنہائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے الطاہر خاندان کے واقعے سمیت حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی رائے عامہ کے سامنے اسرائیل کا حقیقی چہرہ بے نقاب کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا لبنان کی قومی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور حزب اللہ کو اپنی قیادت، عوام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور اسرائیل، لبنان اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

خیبر میں فرانسیسی خاتون بچوں سمیت بازیاب
خیبر: باڑہ پولیس نے ضلع خیبر میں ایک گھر پر کارروائی کرتے ہوئے فرانسیسی خاتون کو ان کے بچوں سمیت بازیاب کرا لیا۔ پولیس کے مطابق خاتون نے مبینہ طور پر گھریلو تشدد اور بدسلوکی کی شکایت کی تھی، جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق 54 سالہ فرانسیسی خاتون نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے اور وہ پانچ بچوں کی والدہ ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران خاتون نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر کی جانب سے انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور انہیں گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
اطلاعات کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد باڑہ پولیس نے متعلقہ مقام پر چھاپہ مار کر خاتون اور ان کے بچوں کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا۔ بعد ازاں متاثرہ خاتون کو بچوں سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحفظ کی غرض سے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور خاتون کے الزامات کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ متعلقہ حکام متاثرہ خاتون اور ان کے بچوں کو ہر ممکن تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ گھریلو تشدد جیسے واقعات پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ متاثرہ افراد کو فوری تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔ -

گل پلازہ آتشزدگی، پولیس نے 5 افراد کو ذمہ دار قرار دے دیا
کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس نے کیس کا چالان تیار کرتے ہوئے مارکیٹ یونین کے عہدیداروں سمیت پانچ افراد کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، تاہم پراسیکیوشن نے تفتیش کو نامکمل قرار دیتے ہوئے چالان اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر حذیفہ عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان اور جس دکان سے آگ بھڑکی اس کے مالک نعمت اللہ کو واقعے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام نے چار صفحات پر مشتمل مرکزی چالان کے ساتھ سینکڑوں صفحات پر مشتمل دیگر دستاویزات بھی جمع کرائی ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر مذکورہ افراد کی ذمہ داری سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے پولیس کی تفتیش پر متعدد اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔ پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق کیس کے ساتھ انکوائری کمیشن کی مکمل رپورٹ منسلک نہیں کی گئی، جس کے باعث چالان کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
پراسیکیوشن نے ہدایت کی ہے کہ گل پلازہ اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی تمام متعلقہ فوٹیج بھی تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے تاکہ واقعے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پولیس نے متاثرہ دکان کے اردگرد موجود ممکنہ چشم دید گواہوں کو تلاش کرنے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ اسی وجہ سے تفتیش کو مزید مکمل کرنے اور تمام خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اب پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور دیگر ضروری شواہد شامل کر کے نظرثانی شدہ چالان دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی مضبوط قانونی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔ -

ٹیلی کمیونیکیشن بل پر نظرثانی، وزیراعظم نے 11 رکنی کمیٹی قائم کر دی
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن متنازع بل 2026 پر عوامی، پارلیمانی اور مختلف شعبوں کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات کے بعد اہم قدم اٹھاتے ہوئے بل پر نظرثانی کے لیے 11 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف تین روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات تیار کرکے رپورٹ پیش کرے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون کریں گے، جبکہ اس میں سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر آئی ٹی، اٹارنی جنرل پاکستان، سیکریٹری آئی ٹی اور ممتاز قانونی ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو مزید بیرونی ماہرین کو بھی مشاورتی عمل میں شامل کیا جا سکے۔
کمیٹی مجوزہ ٹیلی کمیونیکیشن قانون کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی، خاص طور پر ٹیلی کام سیکٹر، نجی ملکیتی حقوق اور مجوزہ رائٹ آف وے فریم ورک سے متعلق شقوں کا قانونی اور آئینی تناظر میں جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ نجی املاک اور ہاؤسنگ سوسائٹیز تک ٹیلی کام انفراسٹرکچر، انٹرنیٹ لائنز اور موبائل ٹاورز کی تنصیب کے لیے رسائی سے متعلق قوانین کا بھی باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے جائیداد کے حقوق اور جدید ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کے درمیان متوازن اور منصفانہ نظام وضع کیا جا سکے۔
کمیٹی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے خودکار منظوری کے مجوزہ طریقہ کار، معاوضے، فیسوں، کرایوں اور دیگر مالی معاملات کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بل میں شامل جرمانوں، تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور دیگر قانونی شقوں میں بہتری کے لیے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔
ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی جائیدادوں تک آزادانہ رسائی کا متنازع قانون کا جائزہ لینے والی کمیٹی کا وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت ان کیمرا اجلاس ختم ہوگیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا نجی جائیداد پر قبضے یا زبردستی ٹاورز لگانے کا کوئی ارادہ نہیں، یقین دلاتا ہوں کہ بل سے کسی کی ذاتی ملکیت یا پرائیویسی متاثر نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی خدشات دور کرنے کیلئے قانون میں مزید وضاحت شامل کی جائے گی، مالک کی اجازت کے بغیر نجی املاک پر ٹاور نہیں لگے گا، اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بل کی چند شقوں پر اعتراضات ہیں، مشاورت کا عمل جاری ہے، ڈیجیٹل ترقی اور کنیکٹیویٹی کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے، آئی ٹی، براڈ بینڈ اور اے آئی کی ترقی کیلئے رکاوٹیں دور کرنا لازمی ہے۔ -

9 اور 10 محرم کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے یوم عاشورہ کے موقع پر 9 اور 10 محرم الحرام کو ملک بھر میں سرکاری تعطیلات کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت دونوں دن تمام وفاقی سرکاری دفاتر اور ادارے بند رہیں گے جبکہ ملک بھر میں یوم عاشورہ کے سلسلے میں مذہبی اجتماعات اور جلوس منعقد کیے جائیں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق 9 اور 10 محرم الحرام کے دوران حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں مجالس عزا اور ماتمی جلوسوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں لاکھوں عزادار شرکت کریں گے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے بھی 9 اور 10 محرم الحرام کے موقع پر عام تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق 25 اور 26 جون کو صوبے بھر میں تمام سرکاری دفاتر، خودمختار ادارے اور سرکاری تنظیمیں بند رہیں گی۔
محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔
انتظامیہ کی جانب سے مختلف شہروں میں ٹریفک پلان بھی مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ جلوسوں کے راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور شہریوں کو متبادل راستوں سے متعلق بروقت آگاہ کیا جا سکے۔
یوم عاشورہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر ملک بھر میں مذہبی احترام اور عقیدت کے ساتھ مختلف تقریبات اور دعائیہ اجتماعات بھی منعقد کیے جائیں گے۔ -

کراچی میں دکان میں دھماکہ، 5 افراد زخمی
کراچی: شہر کے علاقے شیرشاہ میں جناح روڈ کے قریب واقع ایک دکان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکا دکان کے اندر موجود زیر زمین پانی کے ٹینک میں گیس جمع ہونے کے باعث ہوا۔ گیس کے دباؤ میں اچانک اضافے کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا جس سے دکان کو نقصان پہنچا اور وہاں موجود افراد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ملبے سے نکال کر سول اسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ زیر زمین ٹینکوں، بند جگہوں اور گیس سے متعلق تنصیبات کی باقاعدہ جانچ کرائیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر یا ممکنہ غفلت کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔ -

سپریم کورٹ نے اسکول میں بچی سے زیادتی کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی
سپریم کورٹ نے اسکول میں 10 سالہ طالبہ سے زیادتی کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، تاہم تین لاکھ روپے جرمانہ، چھ ماہ اضافی قید اور متاثرہ بچی کو ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف طالبات کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
سپریم کورٹ نے تمام صوبائی انسپکٹر جنرلز اور آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے باہر پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے اور طالبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے یا ان کے خلاف جرائم کی شکایات موصول ہونے پر پولیس کسی قسم کی تاخیر کے بغیر قانونی کارروائی کرے تاکہ متاثرین کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔
فیصلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سندھ میڈیکل لیگل ایکٹ 2023 کی طرز پر جدید میڈیکل لیگل سروسز قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی، تاکہ جنسی جرائم کے مقدمات میں شواہد کو محفوظ بنانے اور متاثرین کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کا نظام مزید بہتر بنایا جا سکے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق یہ واقعہ شیخوپورہ کے ایک اسکول میں پیش آیا تھا، جہاں اسکول کے سویپر نے 10 سالہ طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل رپورٹ میں بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات اور زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ میں سیمن نہ ملنا اس مقدمے کو ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایف آئی آر درج ہونے میں تین دن کی تاخیر سے ملزم کو شک کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر مقدمے کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔
فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ نے معاملہ چھپانے کی کوشش کی، متاثرہ بچی کو اسکول کے اندر ہی طبی امداد دی گئی اور بروقت اطلاع نہیں دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامیہ کی خاموشی یا غفلت کا نقصان متاثرہ بچی اور اس کی بیوہ والدہ کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ملزم کا یہ دعویٰ کہ اسے اسکول گیٹ پر ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا، شواہد کی روشنی میں ثابت نہیں ہو سکا۔ -

کراچی میں مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام، کالعدم ٹی ٹی پی کا مشتبہ دہشت گرد گرفتار
کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مبینہ طور پر وابستہ ایک مشتبہ خودکش دہشت گرد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزم شہر میں بڑے دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت سلمان کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر مطلوب دہشت گرد زعفران کا قریبی ساتھی رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سائٹ ایریا میں کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں پر فائرنگ کے واقعے میں بھی ملوث رہا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، حساس مقامات کی تصاویر اور مختلف علاقوں کے نقشے برآمد کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گرد زعفران پہلے ہی ایک مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ اس کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے انعام مقرر تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزم کو دیگر ساتھیوں کے ساتھ کراچی میں ایک بڑے خودکش حملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ اس کے مزید مبینہ خودکش حملہ آور ساتھی بھی شہر پہنچنے والے تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم کے ایک ساتھی کی ہلاکت 2025 میں کوئٹہ میں فرنٹیئر کور پر ہونے والے خودکش حملے کے دوران ہوئی تھی، جبکہ ایک اور ساتھی گزشتہ سال ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں مارا گیا تھا۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے مبینہ طور پر افغانستان میں خودکش حملوں کی تربیت حاصل کی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق وہ مولوی مخلص یار کی ہدایت پر اپنے ساتھی ادریس عرف اسد اللہ کے ساتھ کراچی آیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ٹارگٹ کلنگ کے بعد خودکش حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ملزم کے دیگر مبینہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔