کراچی: شدید گرمی اور عیدالاضحیٰ کے بعد قربانی کے گوشت کے غیر مناسب استعمال کے باعث کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال کراچی میں روزانہ پیٹ کے امراض اور ڈائریا کے 200 سے زائد مریض علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بھی گیسٹرو کے یومیہ مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔
جناح اسپتال کے ڈاکٹر عمران کے مطابق بڑی تعداد میں شہری شدید پیٹ درد، الٹی، متلی، بخار اور لوز موشن کی شکایات کے ساتھ ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں، جن میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے بعد قربانی کا گوشت مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھنے، بار بار گرم کرنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے باعث معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فریزر میں طویل عرصے تک رکھا گیا گوشت اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے تو اس میں موجود جراثیم صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں خوراک میں بیکٹیریا کی افزائش بھی تیزی سے ہوتی ہے، جس کے باعث آلودہ یا باسی کھانا گیسٹرو اور اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باہر کے غیر معیاری کھانوں، باسی گوشت اور آلودہ پانی سے پرہیز کریں، صرف ابلا یا صاف پانی استعمال کریں، تازہ اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلسل الٹی، شدید اسہال یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ
-

کشمیر کو پاکستان سے الگ نہیں کیا جا سکتا، خواجہ آصف کی وضاحت
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے متعلق ان کا بیان بالکل واضح، حقیقت پر مبنی اور سچا تھا، تاہم بعض عناصر مذموم مقاصد کے تحت اس کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ کوئی بھی کشمیر کو پاکستان سے اور پاکستان کو کشمیر سے الگ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آنے والے کشمیریوں کی قربانیاں تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف طویل مزاحمت، قربانیوں، شہادتوں اور قید و بند کی ایک لازوال داستان ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کاز کے ساتھ پاکستان کی وابستگی پانچ جنگوں میں شہید ہونے والوں کے خون اور ملک کے مستقل اصولی مؤقف سے واضح ہوتی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کاز کے خلاف بیرونی ایجنڈے کے تحت اٹھنے والی آوازوں کا مؤثر اور بھرپور جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے عوام پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اور 1947 کے مہاجرین کی قربانیوں کو تسلیم کریں اور ان کا احترام کریں۔
انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کو کم تر سمجھنا دراصل کشمیر کاز کی نفی کے مترادف ہے۔ ان کے بقول کشمیریت کی شناخت کسی پیدائشی سرٹیفکیٹ سے نہیں بلکہ گزشتہ آٹھ دہائیوں پر محیط قربانیوں، جدوجہد اور وابستگی سے ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا، اور عالمی برادری بھی پاکستان کی ان کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے۔ -

ایرانی صدر کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش
اسلام آباد: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر معزز مہمان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا اور دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کرتے ہوئے نیک خواہشات کا تبادلہ کیا۔
تقریب کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس میں پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی دی۔ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جبکہ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
توقع ہے کہ ایرانی صدر کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ ملے گا اور مختلف شعبوں میں باہمی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ -

پاکستان اور روس کا دہشت گردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان اور روس نے دہشت گردی کے خلاف دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور علاقائی و عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں 23 جون 2026 کو پاکستان اور روس کے درمیان انسدادِ بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپکا بارہواں اجلاس منعقد ہوا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری سفیر محمد خالد خان جمالی نے کی، جبکہ روسی وفد کی سربراہی روسی وزارت خارجہ کے نائب وزیر دمتری لیوبنسکی نے کی۔
اجلاس میں خطے کو درپیش دہشت گردی کے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خاص طور پر افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی اور اس کے پڑوسی ممالک سمیت پورے خطے کی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں ممالک کے وفود نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں جاری دوطرفہ تعاون کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ معلومات کے تبادلے، صلاحیتوں میں اضافے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اور روس اقوام متحدہ (UN) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سمیت علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔
دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ -

نیتن یاہو کا امریکی اسلحے پر انحصار ختم کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے امریکی اسلحے پر انحصار کم کر کے خودمختار اسلحہ سازی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری تنازع میں کامیابی کا انحصار اسرائیل کی اپنی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں پر ہے۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل برسوں سے امریکا کی جانب سے ملنے والی فوجی اور دفاعی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اپنے دفاعی شعبے کو مزید خودکفیل بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو جدید ہتھیاروں کی تیاری میں خود انحصاری حاصل کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی بھی بیرونی سپلائی یا امداد پر انحصار کم سے کم ہو۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور خودمختار دفاعی صنعت ہی اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ جاری کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی اور آئندہ حالات کا انحصار اسرائیل کی عسکری تیاری، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں پر ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری، تحقیق اور جدید دفاعی نظاموں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ مقامی دفاعی صنعت پر بھروسا کرنا ہوگا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ -

نیتن یاہو کا دعویٰ، ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ اسرائیل کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور آئندہ کی صورتحال کا انحصار اسرائیل کی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں پر ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے گزشتہ جمعرات کو گش ایٹزیون (Gush Etzion) میں ریزرو افسران کے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہے اور ان کے خلاف اہم کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ "ہم نے ایران اور اس کے اتحادیوں کو سخت ضرب لگائی ہے، لیکن یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مستقبل میں کیا ہوگا، اس کا انحصار ہماری طاقت، عزم اور دفاعی صلاحیتوں پر ہے۔”
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں اسرائیلی فوج کی تیاریوں اور دفاعی صلاحیتوں پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری مسلسل خطے میں تحمل، مذاکرات اور جنگ بندی پر زور دے رہی ہے تاکہ کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ مل سکے۔ -

قومی اسمبلی سے فنانس بل 2026 منظور، یکم جولائی سے نئے ٹیکس نافذ
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کے لیے فنانس بل 2026 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے ملک بھر میں نئی ٹیکس اور مالیاتی پالیسی نافذ ہو جائے گی۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کو ایوان نے مسترد کر دیا، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو منظوری دے دی گئی۔
فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے استثنا حاصل ہوگا، جبکہ اس سے زائد آمدن والے افراد کے لیے نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
بل کے تحت ملک بھر میں جائیداد کی خرید و فروخت پر نئے ایڈوانس ٹیکس نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
فنانس بل میں درآمدی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز سے متعلق ڈیوٹی کے نئے ضوابط بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بعض اقسام کی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، جبکہ مہنگی درآمدی اور بڑی الیکٹرک گاڑیوں پر نئی کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
یکم جولائی سے تمام ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن صرف آن لائن جمع کرانا لازمی ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔
ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مزید اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔ نئے قانون کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس پر عمل نہ کرنے، مانیٹرنگ سسٹم کو نقصان پہنچانے یا اسے غیر فعال کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانوں کے ساتھ قید کی سزائیں بھی دی جا سکیں گی۔
فنانس بل میں مختلف فلاحی اداروں اور ویلفیئر تنظیموں کو ٹیکس میں خصوصی رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ بعض بڑے کاروباری شعبوں اور کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی منظوری بھی شامل ہے۔
فنانس بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ -

غزہ میں اسرائیلی حملہ، امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید
غزہ: غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائی میں اسرائیلی فوج نے خان یونس میں ایک چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید ہو گئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق حملے کے وقت وہ انسانی امداد سے متعلق فرائض انجام دے رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہوئے۔ حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیاں نہیں رکیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,021 فلسطینی شہید جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام نے ان حملوں کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
خان یونس اور دیگر متاثرہ علاقوں میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں، جبکہ انسانی امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ امدادی اداروں نے شہریوں کے تحفظ اور امدادی کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر غزہ میں بڑھتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی ادارے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ -

فوجی بھرتی کے خلاف اسرائیل میں احتجاج، گرفتاریاں بھی شروع
اسرائیل میں فوج میں لازمی بھرتی سے انکار کرنے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے فوجی حراستی مرکز کے باہر جمع ہو کر حکومت کی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع بیت لید فوجی اڈے کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ احتجاج میں شریک افراد نے فوجی بھرتی کی مخالفت کرتے ہوئے "مر جائیں گے مگر فوج میں نہیں جائیں گے” کے نعرے لگائے اور حکومت سے جبری بھرتی کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ فوجی خدمت سے انکار کرنے والے افراد کو گرفتار کرنا بنیادی شہری آزادیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
احتجاج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر موجود رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا قانون طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقے اس قانون پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ گرفتاریوں کے بعد اس معاملے پر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیلی حکومت کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف ملک کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب لازمی فوجی بھرتی کے خلاف عوامی احتجاج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ -

آسٹریلیا میں 2.7 ٹن کوکین برآمد، ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی
سڈنی: آسٹریلوی پولیس نے مغربی سڈنی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران زیر زمین بنکر سسٹم سے 2.7 ٹن کوکین برآمد کر لی، جسے ملک کی تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی برآمدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق ضبط کی گئی منشیات کی مالیت 816 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 570 ملین امریکی ڈالر) ہے۔
حکام کے مطابق کارروائی جمعے کے روز لندنڈیری کے علاقے میں کی گئی، جہاں تین شپنگ کنٹینرز کے نیچے خفیہ طور پر بنائے گئے بنکروں سے کوکین برآمد ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ منشیات انتہائی منظم انداز میں چھپائی گئی تھیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکیں۔
آپریشن کے دوران 21 اور 25 سال عمر کے دو مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر موقع سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں ملزمان کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کوکین ایک منظم بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ کی ہدایت پر شمالی کوئنز لینڈ کے ساحلی قصبے مِج پوائنٹ کے ذریعے آسٹریلیا اسمگل کی گئی تھی۔
یہ کارروائی آپریشن من جیانگ کا حصہ تھی، جس کا آغاز مئی میں اس وقت کیا گیا تھا جب مِج پوائنٹ کے ایک بوٹ ریمپ کے قریب سمندر میں 40 کلوگرام کوکین تیرتی ہوئی ملی تھی۔ اسی واقعے کے بعد پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کیں، جو اس بڑی کامیابی پر منتج ہوئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا کوکین کی اسمگلنگ کے لیے دنیا کی منافع بخش منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایک گرام کوکین کی قیمت تقریباً 300 آسٹریلوی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کوکین کے استعمال کی شرح بھی دنیا کے بلند ترین ممالک میں شامل ہے۔