ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک امریکی ایف 15 فائٹر طیارے کے پائلٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بننے سے قبل اس نے ایرانی ڈرونز کی ایک غیر معمولی اور جدید فارمیشن دیکھی، جسے اس نے "جیلی فش” سے تشبیہ دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پائلٹ نے بتایا کہ فضاء میں ایک بڑا ڈرون موجود تھا جبکہ اس کے گرد متعدد چھوٹے ڈرون اس انداز میں پرواز کر رہے تھے کہ وہ جیلی فش کی ٹانگوں جیسے دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے بقول ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے فضا میں ڈرونز پر مشتمل ایک بارودی سرنگ بچھا دی گئی ہو۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ایف 15 طیارہ اپریل میں ایرانی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے وقت طیارے میں موجود دونوں پائلٹ ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے تھے، جنہیں بعد ازاں امریکی اسپیشل فورسز نے خصوصی آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا تھا۔
پائلٹ کے اس بیان کے بعد امریکی دفاعی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی جنگی حکمت عملی میں نمایاں پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے اپنی ڈرون صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی تعاون سے فائدہ اٹھایا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اب تک امریکی یا ایرانی حکام کی جانب سے پائلٹ کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ دفاعی ماہرین اس معاملے کو مزید تحقیق اور تصدیق کا متقاضی قرار دے رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

تباہ شدہ ایف 15 طیارے کے فائٹر پائلٹ کا انکشاف
-

ریچھ کا لباس پہننے کی نوکری، سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ
چین کے ایک چڑیا گھر نے ایک منفرد ملازمت کا اشتہار جاری کیا ہے، جس میں امیدوار کو سیاہ ریچھ کا لباس پہن کر سیاحوں کے سامنے ریچھ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس دلچسپ ملازمت کے بدلے سالانہ ایک لاکھ یوآن، یعنی پاکستانی کرنسی میں 41 لاکھ روپے سے زائدتنخواہ کی پیشکش کی گئی ہے۔
یہ ملازمت چین کے صوبہ ہینان کے شہر لووہے میں واقع لووہے وائلڈ لائف زو کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
چڑیا گھر کی جانب سے جاری اشتہار کے مطابق امیدوار کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور وہ جسمانی طور پر مکمل فٹ ہو۔ ملازمت کرنے والے افراد کو روزانہ 6 گھنٹے کام کرنا ہوگا جبکہ ہر ماہ چار دن کی چھٹی بھی دی جائے گی۔
اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ریچھ کا کردار ادا کرنے والے افراد کو سیاحوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم وہ مختلف آوازیں نکال سکتے ہیں تاکہ حقیقی ریچھ کا تاثر برقرار رکھا جا سکے۔ انہیں چڑیا گھر آنے والے افراد سے کھانے پینے کی اشیا لینے کی بھی اجازت ہوگی۔
چڑیا گھر نے اشتہار میں دلچسپ انداز میں لکھا ہے کہ اگر ملازم تھک جائے تو وہ آرام سے لیٹ سکتا ہے، اور اگر توانائی محسوس کرے تو اچھل کود، رقص، درختوں پر چڑھنے یا مچھلیاں پکڑنے جیسی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتا ہے تاکہ سیاحوں کو زیادہ دلچسپ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے افراد کو ملازمت دی جائے گی، تاہم چڑیا گھر کے مطابق اب تک 100 سے زائد افراد اس منفرد نوکری کے لیے رابطہ کر چکے ہیں۔
چڑیا گھر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر اس کردار کو ادا کرنے والا شخص سوشل میڈیا پر مقبول ہو جائے تو وہ ایک لاکھ یوآن سالانہ سے بھی زیادہ آمدنی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اس سے چڑیا گھر میں آنے والے سیاحوں کی تعداد اور آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ -

ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، پاکستان اور ایران دو قلب ایک جان ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات، علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ "ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ہے اور ایران کی ناکامی ہماری ناکامی ہے۔” انہوں نے فارسی شعر کے ذریعے دونوں ممالک کے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو خراج تحسین پیش کیا، جس پر ایرانی وفد نے بھرپور انداز میں داد دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور پاکستان نے اس عمل میں ثالث کے طور پر اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اور مذاکرات کا کامیاب ہونا پورے خطے کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے اور امید ہے کہ اس سے امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
شہباز شریف نے ایران میں جاں بحق ہونے والے افراد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت اور عوام کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ان کی ثابت قدمی قابل تحسین ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور اور انتھک محنت کی، جبکہ قطر کے امیر، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی امن عمل کی بھرپور حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دیگر تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔
اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب کا آغاز شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور ایران دو قلب ایک جان ہیں” اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور مشترکہ منزل کے شراکت دار ہیں۔
ایرانی صدر نے پاکستان کی میزبانی اور امن مذاکرات میں تعمیری کردار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے، جبکہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور باہمی ترقی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ -

پاک بھارت ہاکی میچ سے قبل پاکستان کا غلط پرچم لہرا دیا گیا
ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہاکی میچ کے آغاز سے قبل ایک بڑی انتظامی غفلت سامنے آئی، جب قومی ترانوں کی تقریب کے دوران پاکستان کا غلط پرچم پیش کر دیا گیا، جس پر پاکستانی شائقین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
تقریب کے دوران بچوں کے ہاتھوں میں موجود پاکستانی پرچم میں سفید رنگ موجود نہیں تھا، حالانکہ پاکستان کے قومی پرچم میں سفید حصہ مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ سبز رنگ مسلم اکثریت کی علامت ہے۔
واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شائقین نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) اور ایونٹ کے منتظمین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ صارفین نے اسے پاکستان کے قومی پرچم کی غلط نمائندگی قرار دیتے ہوئے فوری وضاحت اور باضابطہ معذرت کا مطالبہ کیا۔
شائقین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ممالک کے قومی پرچم، قومی ترانے اور قومی شناخت کا احترام بنیادی ذمہ داری ہے، اس لیے ایسی غلطی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ میچ سے قبل تمام انتظامات اور پروٹوکول کی جانچ کے باوجود اتنی اہم غلطی کیسے نظر انداز ہو گئی۔ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ایف آئی ایچ اپنی انتظامی نگرانی مزید مؤثر بنائے۔
یہ واقعہ پاک بھارت میچ کے آغاز سے قبل پیش آیا، جس نے کھیل سے زیادہ انتظامی غفلت کو موضوعِ بحث بنا دیا اور قومی پرچم کی درست نمائندگی کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔ -

صدر آصف زرداری سے مسعود پزشکیان کی ملاقات
اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و استحکام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید فروغ دینے، اقتصادی تعاون بڑھانے اور علاقائی روابط کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور صدر مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر عوام کی خوشحالی اور باہمی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی صدر وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ معزز مہمان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جبکہ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی صدر کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا عکاس قرار دیا جا رہا ہے۔ -

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات
اسلام آباد: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال، امن کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات کے دوران خطے میں حالیہ پیش رفت، کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی صدر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری، متوازن اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے مسلسل رابطے، باہمی تعاون اور سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون، سرحدی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ایرانی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور ایران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ -

کراچی کیش وین ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ گرفتار، 20 کروڑ روپے برآمد
کراچی: کراچی کے علاقے جوہر آباد میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے مرکزی ملزم اور بین الصوبائی گروہ کے سرغنہ محمد علی عرف علی لنگڑا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کے قبضے سے 20 کروڑ روپے نقد رقم اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کراچی میں سرگرم بین الصوبائی ڈکیت گروہ کا سربراہ ہے، جبکہ اس کے دیگر ساتھی ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ملزم کا تعلق ضلع سوات سے ہے، تاہم وہ طویل عرصے سے کراچی میں مقیم تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق محمد علی عرف علی لنگڑا ماضی میں بھی بینک ڈکیتیوں، لاکر توڑنے اور طلائی زیورات و غیر ملکی کرنسی لوٹنے کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال سمیت کراچی کے گلشن اقبال، تیموریہ، سولجر بازار اور ڈیفنس تھانوں میں بھی ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 12 جون کو جوہر آباد میں پیش آنے والی کیش وین ڈکیتی کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ کی ہدایت پر ایس ایس پی سینٹرل کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ دورانِ تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو واجد بھی واردات میں ملوث تھا۔
تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم نے پوری واردات کی منصوبہ بندی کی اور لوٹی گئی رقم دو مختلف گھروں میں چھپا رکھی تھی، جہاں سے پولیس نے بڑی رقم برآمد کی۔
پولیس کے مطابق یہ بین الصوبائی گروہ درجن سے زائد افراد پر مشتمل ہے اور کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں بینک ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ واردات میں شامل دیگر ملزمان کا تعلق پاراچنار سے ہے، جو لوٹی گئی باقی رقم کے ساتھ فرار ہیں۔ ان کی گرفتاری اور باقی ماندہ رقم کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ -

ناظم آباد میں گھر سے لاش برآمد، اہلیہ زیرِ حراست
کراچی: شہر کے علاقے ناظم آباد میں ایک گھر سے ریٹائرڈ اسپتال ملازم کی لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کو ابتدائی طور پر قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی لاش اس کے گھر سے ملی، جہاں وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتول کو گلا دبا کر یا پھندا لگا کر قتل کیا گیا، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقتول ماضی میں عباسی شہید اسپتال کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں ملازم رہ چکا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ناظم آباد میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھا۔
پولیس نے شبہ کی بنیاد پر مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے، جہاں ان سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق خاتون نے ابتدائی بیان میں قتل سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم پولیس تمام شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی قتل کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔ -

آذربائیجان اور پاکستان میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
باکو: آذربائیجان اور پاکستان نے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور عسکری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) کی اعلیٰ قیادت کے آذربائیجان کے دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں ممالک کے حکام نے باہمی دفاعی تعلقات، پیشہ ورانہ تربیت اور فوجی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔
ملاقات میں دونوں فریقوں نے دفاعی شعبے میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر عسکری تعلیم، مشترکہ تربیتی پروگراموں، دفاعی تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گزشتہ چند برسوں میں دفاعی تعلقات میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ دونوں ممالک مختلف مشترکہ فوجی مشقوں، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں اور دفاعی تعاون کے دیگر شعبوں میں بھی قریبی شراکت داری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی اعتماد اور دیرینہ دوستی کی بنیاد پر دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ -

ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی راہ ہموار، تعمیر کا آغاز متوقع
اسلام آباد: امریکا کی جانب سے اقتصادی رکاوٹوں میں نرمی اور حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد طویل عرصے سے تعطل کا شکار ایران پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ فعال ہونے جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی وفاقی کابینہ کی توانائی کمیٹی نے منصوبے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جائے گی۔
اس ابتدائی مرحلے پر 158 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جسے گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (GIDC) کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر پاکستان روزانہ 100 ملین مکعب فٹ (MMCFD) گیس درآمد کرے گا۔ بعد ازاں جب 781 کلومیٹر طویل پائپ لائن نواب شاہ تک مکمل ہو جائے گی تو گیس کی فراہمی بڑھ کر 750 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچ جائے گی، جس سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کو اگر منصوبے پر پیش رفت نہ کرتا تو ایران کی جانب سے بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے 18 ارب ڈالر تک کے ممکنہ جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، جس کے پیش نظر منصوبے پر عملدرآمد کو تیز کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت، مذاکرات میں مثبت ماحول اور پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ممکنہ رعایتوں نے اس منصوبے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں دور کر دی ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے پاکستان کو قدرتی گیس کی طویل مدتی اور نسبتاً سستی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے توانائی بحران میں کمی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور ملکی معیشت کو استحکام ملنے کی توقع ہے۔