Baaghi TV


عالمی توانائی بحران، آئی ای اے کا اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ


عالمی توانائی بحران کے پیش نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل خام تیل جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث کیا گیا۔ اس اقدام کے تحت زیادہ تر خام تیل امریکا فراہم کرے گا۔
‎ایجنسی کے مطابق اس فیصلے کی اس کے تمام 32 رکن ممالک نے حمایت کی ہے۔ یہ 1970 کی دہائی میں ادارے کے قیام کے بعد چھٹی مرتبہ ہے کہ رکن ممالک مشترکہ طور پر اسٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری کر رہے ہیں۔
‎امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بتایا کہ امریکا اس اقدام میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور تقریباً 172 ملین بیرل خام تیل فراہم کرے گا۔
‎آئی ای اے کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز میں عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتوں میں تیزی آئی ہے، اسی صورتحال کو قابو کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
‎اس اعلان کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں اور بدھ کے روز قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ بھی دیکھا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے باعث سپلائی میں مزید رکاوٹ کے خدشات برقرار ہیں۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ 40 کروڑ بیرل تیل کی مقدار اگرچہ بڑی ہے لیکن یہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں سے متاثر ہونے والی عالمی سپلائی کے صرف تقریباً 20 دن کے برابر ہے، جبکہ اسے مارکیٹ تک پہنچنے میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔
‎یاد رہے کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد بھی آئی ای اے کے رکن ممالک نے مشترکہ طور پر 18 کروڑ بیرل تیل جاری کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس بار فراہم کیے جانے والے امریکی حصے کی ترسیل میں تقریباً 120 دن لگیں گے اور بعد میں اسٹریٹجک ذخائر کو دوبارہ بھرنے کا منصوبہ بھی بنایا جائے گا۔

More posts