Baaghi TV

ٹیلی کمیونیکیشن بل پر نظرثانی، وزیراعظم نے 11 رکنی کمیٹی قائم کر دی

ss

‎اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن متنازع بل 2026 پر عوامی، پارلیمانی اور مختلف شعبوں کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات کے بعد اہم قدم اٹھاتے ہوئے بل پر نظرثانی کے لیے 11 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف تین روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات تیار کرکے رپورٹ پیش کرے۔
‎سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون کریں گے، جبکہ اس میں سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر آئی ٹی، اٹارنی جنرل پاکستان، سیکریٹری آئی ٹی اور ممتاز قانونی ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت محسوس ہو تو مزید بیرونی ماہرین کو بھی مشاورتی عمل میں شامل کیا جا سکے۔
‎کمیٹی مجوزہ ٹیلی کمیونیکیشن قانون کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی، خاص طور پر ٹیلی کام سیکٹر، نجی ملکیتی حقوق اور مجوزہ رائٹ آف وے فریم ورک سے متعلق شقوں کا قانونی اور آئینی تناظر میں جائزہ لیا جائے گا۔
‎اس کے علاوہ نجی املاک اور ہاؤسنگ سوسائٹیز تک ٹیلی کام انفراسٹرکچر، انٹرنیٹ لائنز اور موبائل ٹاورز کی تنصیب کے لیے رسائی سے متعلق قوانین کا بھی باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے جائیداد کے حقوق اور جدید ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کے درمیان متوازن اور منصفانہ نظام وضع کیا جا سکے۔
‎کمیٹی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے خودکار منظوری کے مجوزہ طریقہ کار، معاوضے، فیسوں، کرایوں اور دیگر مالی معاملات کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بل میں شامل جرمانوں، تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور دیگر قانونی شقوں میں بہتری کے لیے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔
ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی جائیدادوں تک آزادانہ رسائی کا متنازع قانون کا جائزہ لینے والی کمیٹی کا وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت ان کیمرا اجلاس ختم ہوگیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا نجی جائیداد پر قبضے یا زبردستی ٹاورز لگانے کا کوئی ارادہ نہیں، یقین دلاتا ہوں کہ بل سے کسی کی ذاتی ملکیت یا پرائیویسی متاثر نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی خدشات دور کرنے کیلئے قانون میں مزید وضاحت شامل کی جائے گی، مالک کی اجازت کے بغیر نجی املاک پر ٹاور نہیں لگے گا، اعتراضات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بل کی چند شقوں پر اعتراضات ہیں، مشاورت کا عمل جاری ہے، ڈیجیٹل ترقی اور کنیکٹیویٹی کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے، آئی ٹی، براڈ بینڈ اور اے آئی کی ترقی کیلئے رکاوٹیں دور کرنا لازمی ہے۔

More posts