مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے 337 سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یاتری مذہبی رسومات اور مختلف تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان کے مختلف مقدس مقامات کا دورہ کریں گے۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ آروڑہ نے سرحد پر سکھ یاتریوں کا خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے یاتریوں کے قیام، خوراک، آمدورفت اور سیکیورٹی سمیت تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سردار رمیش سنگھ آروڑہ نے کہا کہ پاکستان مذہبی سیاحت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سکھ یاتری اپنے مذہبی فرائض خوش اسلوبی سے انجام دینے کے ساتھ پاکستان سے خوشگوار یادیں لے کر واپس جائیں گے۔
اس موقع پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین قمرالزمان نے بھی یاتریوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سکھ برادری کے مقدس مقامات کی حفاظت اور دیکھ بھال کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ بیرون ملک سے آنے والے یاتریوں کو محفوظ، پرامن اور دوستانہ ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یاتریوں کی سہولت کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور دیگر انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ وہ اپنی مذہبی رسومات اطمینان کے ساتھ ادا کر سکیں۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی ہر سال پاکستان میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے، جس میں بھارت سمیت مختلف ممالک سے سکھ یاتری شرکت کرتے ہیں۔ یہ تقریبات دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت، ثقافتی روابط اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی میں شرکت کے لیے 337 سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے
