بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ بجٹ کی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے دوران مختلف سرکاری محکموں، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اخراجات کے لیے فنڈز جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ سے متعلق مجموعی طور پر ایک ہزار 89 ارب روپے مالیت کے 98 مطالباتِ زر ایوان میں پیش کیے، جنہیں اراکین اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
منظور کیے گئے بجٹ کے مطابق غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب 80 کروڑ 88 لاکھ روپے کے 53 مطالباتِ زر منظور کیے گئے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 291 ارب روپے مالیت کے 45 مطالباتِ زر کی بھی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کے دوران بجٹ پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی مطالبۂ زر پر کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی، جس کے باعث تمام مطالبات بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے منظور ہو گئے۔
وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا، بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
بجٹ کی منظوری کے بعد صوبائی حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران مختلف محکموں، ترقیاتی اسکیموں اور سرکاری اداروں کے لیے فنڈز جاری کرنے کی باقاعدہ پارلیمانی اجازت حاصل ہو گئی ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان اسمبلی سے بجٹ کی منظوری صوبائی حکومت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جبکہ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ مختص کیے گئے فنڈز کو شفاف انداز میں خرچ کرتے ہوئے عوامی فلاح اور ترقیاتی اہداف کیسے حاصل کیے جاتے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ کثرت رائے سے منظور کر لیا
