امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافہ کرے گا اور یہ گزشتہ معاشی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں عام شہری، متوسط طبقہ اور کم آمدنی والے افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا جبکہ مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ بدستور برقرار رکھا گیا ہے۔
انہوں نے تاجروں، مزدوروں، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال اور احتجاج کا مقصد معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اسے مزید بحران سے بچانا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا جبکہ عوام سے مختلف ٹیکسوں اور لیویز کی صورت میں مزید وسائل حاصل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے عوام اس مد میں بھاری رقم ادا کر چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور سودی ادائیگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق قومی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کی جائے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپیسٹی چارجز ادائیگیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز بند کیے جائیں۔
جماعت اسلامی کے سربراہ نے بتایا کہ احتجاجی تحریک کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ چند روز میں مشاورت مکمل کی جائے گی جبکہ ملک گیر احتجاجی مہم کا باقاعدہ اعلان اسی ہفتے لاہور میں کیا جائے گا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق بجٹ کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
بجٹ مسترد، جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان
