وفاقی بجٹ 2026-27 میں بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے اہم ریلیف کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت یورپ، مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا اور امریکا جانے والے مسافروں کے ہوائی سفر کی لاگت میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد روزگار، تعلیم، کاروبار اور سیاحت کی غرض سے مختلف ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ حکومت کی نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کے بزنس کلاس ٹکٹوں پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں نمایاں کمی کی جائے گی، جس سے ہوائی سفر نسبتاً سستا ہو سکتا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق امریکا جانے والے بزنس کلاس مسافروں کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے لیے سفر کرنے والے مسافروں پر عائد ڈیوٹی 1 لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔
یورپی ممالک کے لیے بزنس کلاس ٹکٹوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جبکہ آسٹریلیا اور مشرق بعید کے ممالک جانے والے مسافروں کے لیے بھی یہی رعایتی شرح تجویز کی گئی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ہوا بازی کے شعبے کو فروغ دینا، بین الاقوامی سفر کی حوصلہ افزائی کرنا اور پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز حتمی منظوری حاصل کر لیتی ہیں تو فضائی سفر کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایئرلائنز کے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
خاص طور پر یورپ، خلیجی ممالک اور آسٹریلیا میں روزگار یا تعلیم کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو اس فیصلے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم حتمی ریلیف کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایئرلائنز اس کمی کا کتنا فائدہ مسافروں تک منتقل کرتی ہیں۔
بیرون ملک سفر کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری
