Baaghi TV


بجٹ غریب، کسان اور تنخواہ دار طبقے کیلئے ہے، عطا تارڑ

tarar atta

‎وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ غریب عوام، کسانوں، مزدوروں، تنخواہ دار طبقے اور ریٹیلرز کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ میں غریب آدمی پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
‎قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بجٹ کی تیاری سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کی گئی تاکہ عوام دوست اور متوازن مالی منصوبہ پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کو سہولت دینے کیلئے زرعی آلات کی درآمد پر عائد ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ برآمدی شعبے کو فروغ دینے کیلئے ایکسپورٹرز پر عائد سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
‎وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو بھی ریلیف فراہم کیا ہے۔ ان کے مطابق 50 ہزار روپے تک ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والوں کیلئے صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
‎عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں شامل مثبت اقدامات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا اور عوام کو ریلیف دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
‎انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 36 لاکھ ریٹیلرز ٹیکس نیٹ سے باہر تھے، جنہیں اب باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کا بوجھ اب ٹیکس دینے والے شہریوں پر نہیں ڈالا جائے گا۔
‎وزیر اطلاعات نے ہاؤسنگ اور ڈیولپمنٹ سیکٹر کو دیے گئے ریلیف کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس شعبے کی ترقی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ معیشت کا پہیہ بھی تیزی سے حرکت کرے گا۔
‎اپنی تقریر کے دوران عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مہنگائی کی شرح 28 فیصد اور شرح سود 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی قیادت نے قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی اور آئی ایم ایف کو خطوط لکھ کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

More posts