Baaghi TV


ایران تنازع اور تیل بحران، امریکا کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

‎ایران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث جہاں دنیا کے کئی ممالک توانائی کے بحران، مہنگائی اور معاشی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں امریکا اس صورتحال سے معاشی طور پر فائدہ اٹھانے والے بڑے ممالک میں شامل نظر آتا ہے۔
‎جنگ اور علاقائی تنازعات کے نتیجے میں عالمی تیل منڈی شدید دباؤ کا شکار ہوئی، جس سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس صورتحال نے دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان کو غیر معمولی مالی فوائد پہنچائے، جن میں امریکا سرفہرست رہا۔
‎امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکی برآمدات 2.6 فیصد اضافے کے بعد 327.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ اسی عرصے میں امریکی تجارتی خسارہ کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر رہ گیا، جسے معاشی ماہرین ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
‎اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس اضافے میں سب سے نمایاں کردار توانائی کے شعبے کا رہا۔ اپریل میں امریکی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مارچ میں یہ 27.6 ارب ڈالر تھیں۔ اس نمایاں اضافے کی وجہ صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ برآمدی حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ تھا۔
‎عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب نے امریکی صنعتی مصنوعات کی فروخت کو بھی سہارا دیا۔ صنعتی سامان اور سپلائیز کی برآمدات 89 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں جبکہ پٹرولیم تجارتی سرپلس تقریباً دوگنا ہو کر 17.7 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام نے اگرچہ عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا کیے ہیں، تاہم امریکا نے بطور توانائی برآمد کنندہ اس صورتحال سے نمایاں معاشی فوائد حاصل کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور برآمدات کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکی اقتصادی نمو مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
‎اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عالمی تنازعات اور توانائی بحرانوں کے دوران کون سے ممالک معاشی نقصان اٹھاتے ہیں اور کون سے ممالک ان حالات سے مالی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

More posts