امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے مذاکرات میں بہت زیادہ تاخیر کی اور اب اسے اس فیصلے کی قیمت چکانا ہوگی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کے بڑے حصے عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور انہیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی قیادت صرف بیانات دیتی ہے لیکن عملی اقدامات سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسے معاہدے پر بروقت مذاکرات کر سکتا تھا جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا، لیکن اس نے یہ موقع ضائع کر دیا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا نے سفارتی حل کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے، تاہم ایران کی جانب سے تاخیر اور غیر یقینی رویے نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایران کو اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب ہیں، تاہم اس کے وقت کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ دونوں بیانات نے امریکی پالیسی کے حوالے سے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانا بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے قومی مفادات اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
خطے میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کے واقعات اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں ایسے بیانات مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔
ٹرمپ کا ایران پر سخت بیان، مذاکرات میں تاخیر کی قیمت چکانے کی دھمکی
