Baaghi TV

نریندر مودی خود کبھی شاگرد نہیں رہےانہیں طلبہ پر تشدد کا کیااحساس ہوگا بھارتی اداکار

بالی وڈ کے معروف اور لیجنڈری اداکار نصیر الدین شاہ نے بھارت کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 سال بعد اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتے

69 سالہ یوارڈ یافتہ اداکار نے بھارتی حکومت کی جانب سے بنائے گئے متنازع شہریت قانون اور اس کے خلاف مظاہرے کرنے والے افراد اور طلبہ پر تشدد کیے جانے پر پہلی باربات کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ حالات سے خوفزدہ تو نہیں مگر انہیں غصہ ضرور ہے

دی وائر کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ 70 سال بعد بھی انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت پڑے کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ بھارتی بھی ہیں اور پھر بھی ان کے ثبوتوں کو نہ مانا جائے تو وہ کہاں جائیں اور کیا کریں؟

اداکار نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے خاندان نے آج تک یہ نہیں سوچا تھا کہ بھارت میں مسلمان ہوکر رہنا کوئی مشکل ہے تاہم اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر ہندوستان میں نہیں رہ سکتے

اداکار نے کہا اب انہیں ہر وقت اپنی شناخت اور اپنے مسلمان ہونے کا خوف لگا رہتا ہے اور ساتھ ہی وہ فکرمند رہنے لگے ہیں

متنازع شہریت قانون پر بات کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اس حساس معاملے میں بالی وڈ کے کامیاب ترین اور بااثر ترین اداکاروں کی خاموشی پر حیران ہیں لہذا انہوں نے کسی بھی اداکار کا نام لیے بغیر کہا کہ شاید وہ یہ سمجھ رہے ہوں کہ وہ اس معاملے پر بات کریں گے تو وہ بہت کچھ کھو دیں گے

اداکارہ دیپیکا کے مظاہروں میں شرکت کے بارے میں اداکار نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان اداکارہ دپیکا پڈوکون بھی تو اس معاملے پر سامنے آئیں اور اب وہ بھی تو بہت کچھ کھوئیں گی

متنازع شہریت قانون پر احتجاج کرنے والے جے این یو طلبہ پر بھارتی پولیس اور حکومت کی جانب سے تشدد کیے جانے پر نصیر الدین شاہ نے کہا کہ انہیں اس عمل پر زیادہ حیرانگی نہیں کیونکہ نریندر مودی خود کبھی شاگرد نہیں رہے اور نہ ہی وہ کبھی یونیورسٹی گئے ہیں تو انہیں طلبہ پر تشدد کا کیا احساس ہوگا

سدھارت بھاٹیہ کے ایک سوال کے ایک اور سوال کے جواب میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود ٹوئٹر پر نفرت پھیلاتے ہیں اور نفرت پھیلانے والوں کی سرپرستی کرتے ہیں

نصیر الدین شاہ نے بھارت میں ’مسلمان‘ ہوکر رہنے پر پریشانی کا اظہار پہلی مرتبہ نہیں کیا وہ اس سے قبل بھی متعدد بار اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے متنازع شہریت قانون پر کھل کر بات کرتے ہوئے حکومت کی مخالفت کی ہے ان سے پہلے فلم ساز جاوید اختر اور اداکارہ شبانہ اعظمی جیسی معروف مسلمان شوبز شخصیات کھل کر متنازع قانون کے خلاف بات کر چکی ہیں اداکار فرحان اختر اور جاوید جعفری سمیت دیگر ہندو اداکار بھی متنازع قانون کے خلاف بات کرنے سمیت اس قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں

شاہ رخ کو مداحوں نے تنقید کا کیوں نشانہ بنایا ?


بہرحل بالی وڈ کے سب سے بااثر اور مقبول اداکاروں سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان نے متنازع قانون اور اس قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے طلبہ پر کیے جانے والے تشدد پر بات تاحال نہیں کی جبکہ شاہرخ کو ان کے مداح اس پر تنقید کا نشانہ بھی بنا چکے ہیں

More posts