Baaghi TV

پاسداران انقلاب کا 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

army

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں،پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکی ہلاکتوں سے متعلق واشنگٹن کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے برعکس قرار دیا، جنرل حسین محبی کا کہنا تھا کہ ایران کے حملوں میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں مبینہ طور پر 8 امریکی فوجی مراکز شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن ’نصر ٹو‘ کے تحت امریکی اہداف پر کیے گئے جوابی حملوں میں آٹھ امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اور صرف ایک مقام پر بیس شیلٹرز کو تباہ کیا گیا، جس سے دو سو سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئےامریکی عوام اپنے جھوٹے کمانڈروں کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ انہیں بے وقوف سمجھیں،انہوں نے امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ غیر جانبدار صحافیوں کو تباہ شدہ امریکی مراکز کا دورہ کروائے تاکہ وہ خود جا کر دیکھ سکیں اور ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد کا درست اندازہ لگا سکیں۔

ایرانی فورسز کے مطابق یہ تمام کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکی فوج کی جانب سے مسلسل فضائی حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں قائم امریکی اسٹریٹجک اڈوں پر شدید حملے کیے۔

ترجمان کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے ان جوابی حملوں میں 17 آپریشنل اور جاسوس ڈرونز تباہ کیے گئے ہیں اس کے علاوہ ہینگر میں کھڑا ایک ایف 15 لڑاکا طیارہ اور ایک پی 8 طیارہ بھی تباہ کیا گیا ہےپاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے دوران ایک سی 17 ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ اور 8 ری فیولنگ طیارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے اتحادی ممالک کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے امریکا کی حمایت جاری رکھی تو برطانیہ بھی ایرانی افواج کے لیے ایک یقینی اور جائز ہدف بن جائے گاترجمان حسین محبی نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے جاری اس جنگ اور کشیدگی میں جو بھی ملک امریکا کا ساتھ دے گا یا اس کا شریک کار بنے گا، اسے جوابی کارروائی میں لازمی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

More posts