Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سخت سیکورٹی ،پھر بھی اسلام آباد میں رات گئے ڈکیتیوں کی لہر، شہریوں میں خوف و ہراس

    سخت سیکورٹی ،پھر بھی اسلام آباد میں رات گئے ڈکیتیوں کی لہر، شہریوں میں خوف و ہراس

    اسلام آباد میں رات گئے ہونے والی مسلسل ڈکیتیوں کی وارداتوں نے شہریوں میں ایک بار پھر سیکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، جہاں مختصر وقت کے دوران کم از کم چھ وارداتیں رپورٹ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایک واقعہ شاہپور کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے ایک ڈیلیوری رائیڈر کو روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں رائیڈر کی ٹانگ میں گولی لگ گئی۔ ملزمان نقدی، موٹر سائیکل اور موبائل فون لے کر فرار ہو گئے۔دیگر علاقوں میں بھی وارداتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پی ڈبلیو ڈی، چونگی نمبر 26 اور گردونواح شامل ہیں۔ ان واقعات میں شہریوں سے نقد رقم، طلائی زیورات اور دیگر قیمتی اشیا چھین لی گئیں۔ایک خاندان سے مبینہ طور پر 32 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے لوٹے جانے کی بھی اطلاع ہے،

    تاحال کسی بڑی پیش رفت یا ملزمان کی گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جبکہ شہری حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کب کیے جائیں گے۔ایک طرف اسلام آباد میں سیکورٹی سخت ہے اور دوسری جانب شہری لٹ رہے ہیں،شہریوں نے رات کے اوقات میں پولیس گشت بڑھانے، حساس علاقوں میں نگرانی سخت کرنے اور فوری رسپانس نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ

    روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ

    لاہور – روٹ ٹو مکہ اقدام کے تحت پہلی حج پرواز SV-5735 مقررہ وقت صبح 10:30 کے بجائے صبح 10:54 پر روانہ ہوئی۔

    اس موقع پر ایئرپورٹ پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مولانا طاہر اشرفی اور مملکت سعودی عرب کے سفیر عزت مآب نواف بن سعید نے شرکت کی۔ دیگر معزز شرکاء میں انجینئر جفن بن خلف علی الشمر، جناب ابرار احمد مرزا (وفاقی سیکرٹری مذہبی امور)، میجر جنرل ڈاکٹر صالح بن سعد المیرابہ، جناب خواجہ سلمان رفیق (صوبائی وزیر برائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر)، اور جناب سردار محمد یوسف (وفاقی وزیر مذہبی امور) شامل تھے۔ ایئرپورٹ کے سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے جن میں ائیرپورٹمینیجر، ڈپٹی ائیرپورٹ مینیجر، سٹیشن مینیجر، ٹرمینل مینیجرز ڈیپارچرز اینڈ ارائیولز، مینیجر ائیرسائیڈ، آفیسر انچارج پی ایس ایس، چیف سیکیورٹی آفیسر اے ایس ایف، اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن شامل ہیں۔ پرواز کی روانگی کے دوران دیگر تمام ائیرپورٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری رہے۔

    قبل ازیں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی سے ایئرسیال کی پہلی حج پرواز PF-7700 ایک سو ساٹھ 160 عازمینِ حج کو لے کر سعودی عرب کے لیے روانہ ہوئی۔ افتتاحی تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیر مملکت برائے اوقاف اور صوبائی وزیر مذہبی امور نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایئرپورٹ منیجر، ڈپٹی ایئرپورٹ منیجر اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے افسران بھی موجود تھے۔ معزز مہمانوں نے عازمینِ حج کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ معزز مہمانوں نے روٹ ٹو مکہ سہولت کے تحت فراہم کردہ انتظامات کا بھی جائزہ لیا، جس میں سعودی امیگریشن کاؤنٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے ان سہولیات کو سراہتے ہوئے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ایئرسیال کی پرواز PF-7700 علی الصبح 2:05 بجے روانہ ہوئی، جو کراچی سے پری حج آپریشنز کا آغاز ہے۔

    علاوہ ازیں ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پری حج آپریشنز 2026 کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ائیربلو کی پرواز PA-876 کے ذریعے 151 عازمینِ حج کو مدینہ منورہ روانہ کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں میاں محمد کاظم پیرزادہ (صوبائی وزیر آبپاشی)، رانا عبد المنان ساجد (رکن صوبائی اسمبلی)، اور بیگم مقصودہ انصاری (رکن صوبائی اسمبلی) شامل تھے۔اس موقع پر سی او او/اے پی ایم ایم انور ضیاء، ڈائریکٹر حج ریحان عباس کھوکھر، ڈائریکٹر ٹرمینل آپریشنز ایئر بلیو کنور یاسر، ڈائریکٹر کمرشل ایئر بلیو ایم شفیق، جبکہ اے ایس ایف، ایف آئی اے اور اے این ایف کے افسران بھی موجود تھے۔مہمانِ خصوصی نے ایئرپورٹ انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ حج کی جانب سے عازمینِ حج کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہا اور حج کے مقدس سفر کی اہمیت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی نے عازمینِ حج کو پھولوں کے ہار پہنائے اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

  • آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ،برطانوی میری ٹائم ایجنسی

    آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ،برطانوی میری ٹائم ایجنسی

    برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی ہے۔

    برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، آئی آر جی سی کی کشتیوں سے آئل ٹینکر پر فائرنگ کی گئی۔میری ٹائم ایجنسی نے مزید کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں آئل ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ رہا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کم از کم دو تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، جس دوران فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اطلاعات کے مطابق ایران نے اس اہم بحری راستے کو مختصر وقت کے لیے دوبارہ کھولنے کے بعد ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ تہران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث راستے پر دوبارہ پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

    برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب، عمان کے شمال مشرقی علاقے میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایک ٹینکر کے کپتان نے رپورٹ کیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی گن بوٹس نے ان کے جہاز کا تعاقب کیا اور فائرنگ کی۔تاہم حکام کے مطابق مذکورہ ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اس سے قبل جب بحری راستہ عارضی طور پر کھولا گیا تھا تو کئی جہاز دوبارہ شپنگ لین میں داخل ہوئے تھے، جسے جنگ شروع ہونے کے بعد جہازوں کی پہلی بڑی نقل و حرکت قرار دیا گیا تھا۔ لیکن تازہ کشیدگی کے بعد یہ قافلہ منتشر ہو گیا ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم کے مطابق حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں موجود بحری قافلہ منتشر ہو چکا ہے اور متعدد جہاز رک گئے یا واپس مڑ گئے ہیں۔دوسری جانب تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی شہ رگ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • سعودی تعاون سے پاکستان میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ

    سعودی تعاون سے پاکستان میں زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ

    اسلام آباد: سعودی عرب کے تعاون سے پاکستان میں شروع کیے گئے جدید آبپاشی منصوبوں کے نتیجے میں گندم، چارہ اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستانی اور سعودی حکام نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اور پانی کے مؤثر استعمال کے حوالے سے تفصیلات پیش کی گئیں۔تقریب میں سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے اپنا کردار مزید بڑھا رہا ہے اور اسی سلسلے میں گرین پاکستان انیشی ایٹو (GPI) کی بھرپور حمایت کی جا رہی ہے۔

    گرین پاکستان انیشی ایٹو پاکستان حکومت اور افواج پاکستان کا مشترکہ زرعی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک میں زرعی ترقی، بنجر زمینوں کی بحالی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت اب تک پاکستان بھر میں 1 لاکھ 36 ہزار ایکڑ بنجر زمین قابلِ کاشت بنائی جا چکی ہے، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے 64 شراکت دار اس منصوبے میں شامل ہیں۔

    گزشتہ سال سعودی عرب نے پاکستان کو 10 جدید ترین آبپاشی نظام فراہم کیے تھے، جنہیں ریکارڈ مدت میں نصب کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان نظاموں کا مقصد پانی کے ضیاع کو روکنا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور خشک علاقوں کو سرسبز بنانا ہے۔

    گرین کارپوریٹ انیشی ایٹو کے اسٹریٹیجک پراجیکٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا “یہ 10 پیوٹ سسٹمز صرف 70 دنوں میں نصب کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔”انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں کی بدولت پہلے غیر آباد زمینوں پر اب گندم، چارہ اور دیگر فصلیں کامیابی سے اگائی جا رہی ہیں۔

    تقریب میں دکھائی گئی ایک دستاویزی فلم میں پنجاب کے شہر بھکر میں قائم ایک نمایاں منصوبے کو پیش کیا گیا، جہاں سعودی عرب کی فراہم کردہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے صرف تین ماہ میں بنجر زمین کو زرعی فارم میں تبدیل کر دیا گیا۔اس منصوبے کے تحت 5 ارب روپے مالیت کا جدید آبپاشی نظام نصب کیا گیا، جس سے تقریباً 1,500 ایکڑ غیر آباد زمین کو زرخیز زرعی رقبے میں تبدیل کیا گیا۔حکام کے مطابق جدید آبپاشی نظام کے استعمال سے گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    روایتی آبپاشی طریقوں سے پیداوار: 28 سے 30 من فی ایکڑ،جبکہ جدید نظام سے پیداوار: 45 سے 50 من فی ایکڑ ہوئی ہے،یہ اضافہ پاکستان کی غذائی خود کفالت اور زرعی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    میجر جنرل (ر) شاہد نذیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کے لیے بھی جدید زرعی نظام جیسے سپرنکلر سسٹم،ڈرِپ اریگیشن متعارف کرا رہی ہے، جن پر سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ بڑے منصوبوں کی کامیابی کو چھوٹے فارموں تک بھی پہنچایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 سے 2026 کے دوران قائم کیے گئے 64 جدید فارموں میں بلوچستان میں زیتون کے باغات،سندھ میں پام آئل فارمزبھی شامل ہیں، جس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں تنوع پیدا ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی غذائی تحفظ حکمتِ عملی سے بھی ہم آہنگ ہے، کیونکہ پاکستان کم فاصلے اور تیز تر لاجسٹکس کے باعث سعودی عرب کو زرعی اجناس کی بروقت اور کم لاگت فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے کہا “یہ فصلیں نہ صرف پاکستان کے لیے پائیدار زرعی پیداوار فراہم کریں گی بلکہ سعودی عرب کو برآمد بھی کی جا سکیں گی۔”

    ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ملک میں جدید آبپاشی نظام، بنجر زمینوں کی بحالی اور بین الاقوامی شراکت داری مستقبل کی زرعی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ یہ تعاون نہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے میں مدد دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

  • امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر

    امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ پہلوی خاندان کی باقیات اور امریکا کی سازش کو ناکام بنا کر ایرانی فوج نے تاریخ رقم کی۔

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ کچھ طاقتیں ایران کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں، ایران کی نیوی دشمنوں کو نئی اور تلخ شکستیں دینے کیلئے تیار ہے۔سپریم لیڈر نے ایرانی فوج کے قیام کے دن پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ فوج قوم کے بیٹے کی مانند ہے جو عوام کے گھروں سے جنم لیتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک سامنے نہیں آئے تا ہم انکے پیغامات ایکس پر دیئے جا رہے ہیں،ایران امریکا مذاکرات اسلام آباد میں اگلے ہفتے متوقع ہیں،

    دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جن نکات پر امریکی حکام اور میڈیا بات کررہے ہیں ان کی تصدیق نہیں ہوسکتی، افزودہ یورینیم کو کسی صورت کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے کبھی افزودہ یورینیم منتقلی کی تجویز پیش نہیں کی گئی، جس طرح ایرانی سرزمین ہمارے لیے اہم ہے یہ معاملہ بھی اتنا ہی اہم ہے، ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے گا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف

    ایران کا آبنائے ہرمز پر نیا مؤقف

    ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے بحری نظام کا نفاذ کیا جائے، جس کے تحت خلیجی گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت پر مزید سخت نگرانی رکھی جائے گی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص بحری راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے باقاعدہ اجازت حاصل ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان جہازوں کو اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے مقررہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جبکہ بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایرانی جہازوں کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حالات فوری طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ایران مزید سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت بحال نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سخت کنٹرول میں رہے گی۔

  • جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق

    جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی استنبول میں ترکیہ کے ہم منصب نعمان کُرتُلموش سے اہم ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کے 152 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالمی امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا،اسپیکر قومی اسمبلی نے جنگوں کے خاتمے کے لیے ڈائیلاگ اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا،پارلیمانی سفارتکاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا،ترک اسپیکر نعمان کُرتُلموش نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ترک اسپیکر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے بروقت اقدامات کر کے خطے کو بڑے بحران سے بچا لیا، پاکستان کی امن کے قیام کے لیے کوششیں قابلِ تحسین ہیں، ترک اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف سید عاصم منیر کے کردار کی بھی تعریف کی،ترک اسپیکر نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں ممالک نےپارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا،اسپیکر قومی اسمبلی کا ترک اسپیکر کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے،پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، جنگ و جدل کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، مسائل کا حل ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہو سکتا ہے، جنگ کے بعد بھی بات چیت سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے،پاکستان اپنے برادر اسلامی ممالک کی عزت اور تکریم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،

  • سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    سب سے زیادہ بھکاری بھارت کی کس ریاست میں

    بھارت میں مندروں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ٹریفک سگنلز اور بازاروں کے باہر بھیک مانگتے افراد ایک عام منظر ہیں۔ مگر بھارت کی کس ریاست میں سب سے زیادہ بھکاری پائے جاتے ہیں؟ اور یہ لوگ ایک ماہ میں کتنی کمائی کر لیتے ہیں؟ اس حوالے سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

    بھارت میں بھکاریوں سے متعلق سب سے مستند اعداد و شمار 2011 کی مردم شماری میں سامنے آئے تھے۔ اس سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں بھکاریوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 13 ہزار 670 تھی۔ ان میں 2 لاکھ 21 ہزار 673 مرد جبکہ 1 لاکھ 91 ہزار 997 خواتین شامل تھیں۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار پرانے ہیں، تاہم اس موضوع پر یہی آخری جامع سرکاری ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد مغربی بنگال میں پائی جاتی ہے، جہاں یہ تعداد 81 ہزار 244 بتائی گئی۔دوسرے نمبر پر اتر پردیش ہے، جہاں 65 ہزار 835 بھکاری موجود ہیں۔تیسرے نمبر پر آندھرا پردیش ہے، جہاں بھکاریوں کی تعداد 30 ہزار 218 ریکارڈ کی گئی۔بہار میں 29 ہزار 723،مدھیہ پردیش میں 28 ہزار 695،راجستھان میں 25 ہزار 853 بھکاری ہیں،یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھیک مانگنا صرف ایک یا دو ریاستوں کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں ایک سنجیدہ سماجی چیلنج بن چکا ہے۔

    بھکاریوں کی آمدنی سے متعلق کوئی باضابطہ سرکاری ڈیٹا موجود نہیں، کیونکہ یہ مکمل طور پر مقام، شہر، رش اور لوگوں کے رویے پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم مختلف اندازوں کے مطابق ایک عام بھکاری روزانہ 100 سے 500 بھارتی روپے تک کما لیتا ہے۔اس حساب سے ان کی ماہانہ آمدنی 3 ہزار سے 15 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔جبکہ دہلی، ممبئی، کولکتہ اور لکھنؤ جیسے بڑے شہروں میں بعض بھکاری روزانہ 500 سے 1000 روپے تک بھی کما لیتے ہیں، جس سے ان کی ماہانہ آمدنی 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھیک مانگنے کے پیچھے صرف غربت ہی وجہ نہیں، بلکہ بے روزگاری، تعلیم کی کمی، معذوری، سماجی ناانصافی اور بعض اوقات منظم بھکاری مافیا بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف خیرات نہیں بلکہ مؤثر سماجی اور معاشی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔

  • ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران میں 6 ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی کے تسلسل کے دوران چھ اہم ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے،

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی ایئرلائنز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ تہران کے دو بڑے ہوائی اڈے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مہرآباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ساتھ ساتھ مشہد، بیرجند، گرگان اور زاہدان کے ہوائی اڈے بھی دوبارہ آپریشن شروع کریں گے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے ملک کے مشرقی حصے میں اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھول دیا ہے، جس کے بعد فضائی آپریشنز کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

    یاد رہے کہ امریکا و اسرائیل کے حملے کے آغاز کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی تھی۔ تاہم 8 اپریل سے جاری دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد خطرے کی سطح میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز 2026 کا انعقاد

    تربت – تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی ایکسرسائز کامیابی سے منعقد کی گئی، جو بین الاقوامی سول ایویشن آرگنائزیشن کے معیار اور قومی فضائی حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی۔

    اس مشق کا مقصد کرائسز اینڈ ایمرجنسی رسپانس پلان کی افادیت کا جائزہ لینا تھا، جس میں رابطہ، کمانڈ، ہم آہنگی اور ردعمل کے وقت پر خصوصی توجہ دی گئی۔تقریب میں کمانڈنگ آفیسر پی این ایس صدیق، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ، او سی اے ایس ایف، جی ون آرمی ایف او بی سمیت دیگر اہم نمائندگان نے شرکت کی۔ ایئرپورٹ منیجر محمد الیاس بریچ نے بریفنگ اور ڈی بریفنگ دی جبکہ ایئر سائیڈ پر ہنگامی صورتحال کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔ اس مشق میں پی اے اے ریسکیو اینڈ فائر فائٹنگ سروسز، پاکستان آرمی، پاکستان نیوی، اے ایس ایف اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ایڈمنسٹریشن نے حصہ لیا۔یہ مشق ہنگامی ردعمل کے نظام کو جانچنے، بروقت رسائی کو یقینی بنانے اور معمولی خامیوں کی نشاندہی کے ذریعے فضائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب رہی۔