ٹوکیو: جاپان کی وزیرِ اعظم نے 50 سے زائد خواتین قانون سازوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے مزید بیت الخلاء کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
خواتین اراکین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی میں حالیہ اضافے کے بعد خواتین کے واش رومز کے باہر طویل قطاریں لگنا معمول بن چکا ہے، جو نہ صرف شرمندگی بلکہ عملی مشکلات کا باعث بھی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹوکیو میں واقع ایوانِ زیریں، ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز، میں اس وقت 73 خواتین اراکین کے لیے صرف دو بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے 12 دسمبر کو خواتین اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے باضابطہ درخواست جمع کرائی گئی۔
درخواست کی حمایت کرنے والوں میں جاپان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم سانیے تاکائیچی بھی شامل ہیں، جو گزشتہ برس منتخب ہوئیں۔ مجموعی طور پر 58 خواتین قانون سازوں نے اس مطالبے کی تائید کی ہے، جبکہ اپوزیشن کی آئینی ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس درخواست کو سات مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
آئینی ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون رکن یاسوکو کومیا ما نے کہا کہ مرکزی اسمبلی اجلاس سے قبل خواتین اراکین کی ایک بڑی تعداد خواتین کے واش روم کے سامنے قطار میں کھڑی ہوتی ہے، جس سے وقت اور توجہ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
جاپان کو ایک ثقافتی طور پر قدامت پسند ملک سمجھا جاتا ہے، جہاں سیاست اور دفاتر طویل عرصے سے عمر رسیدہ مردوں کے زیرِ اثر رہے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے تازہ ترین گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں بھی جاپان کی پوزیشن بدستور نچلی سطح پر ہے، جہاں وہ 148 ممالک میں 118ویں نمبر پر ہے۔گزشتہ برس سانیے تاکائیچی کے تاریخی انتخاب کے بعد خواتین قانون سازوں کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی، تاہم اس کے باوجود خواتین اب بھی ایوانِ زیریں کی کل نشستوں کا محض 16 فیصد سے کم حصہ رکھتی ہیں، جیسا کہ آئی پی یو پارلائن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔خواتین اراکین کی جانب سے جمع کرائی گئی مشترکہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بیت الخلاء کی کمی ایک “انتہائی سنجیدہ مسئلہ” ہے، جو پارلیمانی کارروائی اور اراکین کی کارکردگی کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔
یاسوکو کومیا ما نے فیس بک پر جاری بیان میں واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف خواتین قانون سازوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین پارلیمانی اسٹاف اور بڑھتی ہوئی تعداد میں موجود خواتین صحافیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔دوسری جانب خاتون اپوزیشن رکن ٹوموئے ایشی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ خواتین کے لیے بیت الخلاء کی کمی “کافی عرصے سے ایک مسئلہ” بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں دفاتر اور تعلیمی اداروں میں خواتین کے لیے مزید واش رومز بنانے کے معاملے کو اٹھانے سے عمومی طور پر گریز کیا جاتا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جاپان کی قومی اسمبلی کی عمارت 1936 میں مکمل کی گئی تھی، یعنی خواتین کو ووٹ کا حق ملنے سے تقریباً ایک دہائی قبل،جاپان میں خواتین کو 1945 میں حقِ رائے دہی دیا گیا، جبکہ ایک سال بعد پہلی خاتون رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔خواتین اراکین کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے دور اور بڑھتی ہوئی خواتین نمائندگی کے پیشِ نظر پارلیمانی سہولیات میں بھی فوری اور عملی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
