سید مہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت نے بھارت سے کہا وہ دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو روکنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ سید مہر علی شاہ کا اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے، معاہدے پر کسی بھی طرح سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں، سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک، معیشت جڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن کیلئے ہے، معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے، معاہدے سے متعلق تمام اصولوں پر عملدرآمد ضروری ہے، سندھ طاس معاہدہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔سید مہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں مجموعی طور پر 12 شقیں ہیں، شق 9 کے تحت معاملہ عالمی عدالت میں لے جایا جاسکتا ہے، عالمی ثالثی عدالت دو بار سندھ طاس معاہدے کی وضاحت کرچکی، عدالت نے واضح کیا بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں کرسکتا، عالمی عدالت نے بھارت سے کہا وہ دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دریائے چناب کے 1.9 ملین پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جارہا ہے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو روکنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
